خطبات
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute
دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا | 21-08-2026
دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 7؍ ربیع الاوّل 1448ھ /21؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیات وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُؕ -رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(127) رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(128) رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ (129) سورۃ البقرۃ: 2 (127-129) ترجمہ: اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے: اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول کر۔ بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرماں بردار بنا، اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! اور ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج جو اِن پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے، اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ سلسلہ نبوّت کا تاریخی تسلسل اور نبی آخر الزّماںﷺ ✔ انسانی معاشرے کی ترقی میں حضرت ابراہیمؑ کا کردار ✔ تعمیرِ کعبہ کے موقع پر حضرت ابراہیمؑ کا دعاؤں کے ذریعے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا ✔ استقامت کا مفہوم اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت ✔ نئی اجتماعیت کی تشکیل کی بابت حضرت ابراہیمؑ کا ذہنی خاکہ اور اس کے قیام کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ✔ نبوّت اور دین کے لیے اجتماعیت کی اہمیت اور حضرت ابراہیمؑ کا قیامِ اجتماعیت کے لیے دعا کرنا ✔ حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی قبولیت: مکّہ میں انسانی آبادی کا آغاز اور تمدّن کا قیام ✔ ابراہیمی دعا کے نتیجے میں دارالندوہ کی اجتماعیت کے ذریعے مکّہ کے شہری نظام کا قیام ✔ نبی اکرمﷺ کا فرائضِ منصبی کی تکمیل کے لیے اجتماعی جدوجہد کو اختیار کرنا اور قیامِ اجتماعیت کو بنیاد بنانے کا اُسوہ ✔ موجودہ دور کا المیہ: سیرتِ نبویﷺ کا انفرادی مطالعہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا شعوری بنیادوں پر عام انسان کی سطح پر زندگی گزارنے کا اُسوہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا جدوجہد سے بھرپور اور سادہ طرزِ زندگی گزارنے کا لائحہ عمل ✔ حقیقی محبّتِ رسولﷺ کی تشریح و توضیح: حضرت شیخ الہندؒ کا شعوری تجزیہ ✔ موجودہ دور میں بے شعوری پر مبنی محبّتِ رسولﷺ کے خود ساختہ تصوّرات کا جائزہ ✔ سیرتِ نبویﷺ سے عملی راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت ✔ معاشرے میں رائج بے شعوری پر مبنی میلاد منانے کے غلط طریقوں کا تجزیہ ✔ رسول اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں ✔ نبی اکرمﷺ کے چار مناصبِ نبوّت اور مسلمان کا مطلوبہ کردار بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ | 21-08-2026
رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 07؍ ربیع الاول ۱۴۴۸ھ / 21؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبویہﷺ:
آیتِ قرآنی:
وَ مَا اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21 –الانبیاء:107)
ترجمہ : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر“ ۔
احادیثِ نبویہﷺ:
1۔ ”إنما أنا رحمة مهداة“. (تفسير ابن كثير :5/ 388)
ترجمہ: ” بے شک میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے لیے) سراپا رحمت اور انہیں سیدھا راستہ دیکھنے ولا ہوں“۔
2۔ ”قال: والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون، إني رحمة بعثني الله ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه، لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب“. (كنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال :11/ 464)
ترجمہ: ”نبی اکرمﷺنے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کو ضرور قتل کروں گا، اور انہیں ضرور سولی پر لٹکاؤں گا، اور میں انہیں ضرور ہدایت دوں گا خواہ وہ اسے ناپسند ہی کریں۔ بیشک میں سراپا رحمت ہوں، اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا جب تک اللہ اپنے دین کو غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، اور احمد ہوں، اور میں 'ماحی' (مٹانے والا) ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹا دے گا، اور میں 'حاشر' (اکٹھا کرنے والا) ہوں میرے قدموں میں لوگوں کو (قیامت کے دن) اکٹھا کیا جائے گا، اور میں 'عاقب' (سب کے آخر میں آنے والا) ہوں۔"
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ماہِ ربیع الاول کی اہمیت
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے پانچ موطن (نشأتیں)
✔️ آپؐ‘ وجہِ تخلیقِ کائنات، رحمتِ عالم اور نورِ ہدایت
✔️ نبی اکرمؐ کی ذاتِ قدسی‘ نورِ عرش سے ارضی فرش تک تمام مخلوقات کے لیے سراپا رحمت
✔️ آپؐ کا انسانیت کو ظالموں اور طاغوتی قوتوں سے نجات دلانا‘ ’’رحمة للعالمین‘‘ ہونے کے منافی نہیں!
✔️ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر کی روشنی میں ’’رحمة للعالمین‘‘ کا درست معنی و مفہوم
✔️ رحمت کے تین دائروں؛ رحمتِ عقلی، قلبی اور طبعی کی وضاحت اور احادیث سے استدلال
✔️ رسول اللہؐ کی تین عالمگیر حیثیتیں؛ بادشاہِ عالَم، متبحّر عالم (قانون ساز) اور مرشدِ عالم
✔️ نبی اکرمؐ کی رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے جامع حکمتِ عملی کا مطالعہ
✔️ آپؐ کی ریاستِ مدینہ اور حکمرانی کی حکمتِ عملی کی صدائے بازگشت‘ دار الندوہ میں ابوجہل کی زبانی
✔️ ابوجہل کی خوفزدگی کی حالت میں پلاننگ کی اطلاع کے موقع پر آپؐ کا سیاسی غلبے کے اظہار اور رحمت و شفقت پر مبنی ارشادات
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور سیرتِ مقدسہ کا بنیادی ہدف و مقصد
✔️ ’رحمة للعالمین‘ کے عامیانہ و انتہاء پسندانہ تصورات اور منفی اثرات‘ دورِ غلامی کا شاخسانہ
✔️ سیرتِ النبیؐ کا سب سے اہم تقاضا؛ انسانی سماج کی حالتِ مرض اور حالتِ صحت کا جائزہ لے کر رحمت کے نظام کا قیام
✔️ دورِ غلامی کا المیہ؛ آپؐ کی سیرت کے اہم پہلو‘ بادشاہِ عالم، رحمتِ سیاست اور طاغوت کے خلاف جدوجہد کا مطالعہ مفقود و عنقاء
✔️ آپؐ کی جانوروں پر رحمت و شفقت سے ظالموں اور انسانیت دشمنوں کے لیے ر
فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے | 14-08-2026
فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 30؍ صفر المظفّر 1448ھ /14؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ (15) اِذۡ نَادٰٮهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًىۚ(16) اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘(17) فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ(18) وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ(19)
سورۃ النازعات:79 (15-19)
ترجمہ: کیا آپ کو موسیٰ کا حال معلوم ہوا ہے؟ جب کہ مقدّس وادی طُویٰ میں اس کے ربّ نے اُسے پُکارا۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ پس کہو: کیا تیری خواہش ہے کہ تُو پاک ہو؟ اور میں تجھے تیرے ربّ کی طرف راہ بتاؤں کہ تُو ڈرے؟
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
00:00 آغاز
00:52 انسان کا مقام: خلیفۃ الارض
04:43 مقامِ عبدیت (عباد اللہ) اور اس کا حقیقی مفہوم
08:17 انبیائے کرامؑ کی دعوتِ توحید اور غیر اللہ سے آزادی کا تصوّر
11:19 رسولِ اکرمﷺ کی جدوجہد اور حضرت موسیٰؑ کی قرآنی تمثیل
12:56 حضرت موسیٰؑ کا پہلا مشن: بنی اسرائیل کی قومی آزادی
16:48 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا پہلا فرعونی وار: ذاتی احسانات کا بوجھ ڈالنا
18:52 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا دوسرا فرعونی وار: انفرادی لغزش کی بنیاد پر دھمکی اور دباؤ قائم کرنا
20:57 حضرت موسیٰؑ کا عظیم طرزِ عمل: اجتماعی اور قومی مفاد پر انفرادی فائدے کو قربان کرنا
25:01 انبیائے کرامؑ کا نمونہ اور موجودہ دور کے تعلیم یافتہ طبقے کا المیہ
28:31 انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی نکتہ: دور کے ظالمانہ نظام سے آزادی دلانا
30:41 برّعظیم پاک و ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے استحصالی کردار کا جائزہ
36:19 برّعظیم پاک و ہند پر برطانیہ کے ظالمانہ قبضے کا دور
39:46 برّ عظیم پاک و ہند کی آزادی کے لیے علمائے حقہ کے کردار کا اجمالی تعارف
43:03 جدوجہدِ آزادی کے سرخیلِ اوّل: امام شاہ عبدالعزیزؒ
44:24 برّعظیم پاک و ہند کے مسلم دورِ حکومت میں غیر مسلم رعایا کے ساتھ عادلانہ سلوک کے مثبت نتائج
48:00 برّعظیم پاک و ہند میں جدوجہد آزادی کا علمائے حقہ کے ذریعے انیسویں صدی عیسوی میں آغاز
50:52 جدوجہدِ آزادی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کا عظیم کردار اور موجودہ تعلیمی نظام کا مجاہدینِ آزادی کے تعارف سے چشم پوشی کا رویہ
54:00 79 سالہ آزادی کی تاریخ اور موجودہ نو آبادیاتی نظام کا سفّاکانہ رویّہ
58:16 یومِ آزادی کو بطور یومِ محاسبہ منانے کی ضرورت و اہمیت
01:03:01 ملکِ عزیز میں تعلیم، صحت اور معیشت کے میدان کی تشویش ناک صورتِ حال پر غور وفکر
01:07:04 ملکی وقار اور سلامتی میں قومی سوچ اور قومی خودمختاری کی اہمیت
01:08:49 تاریخِ جدوجہد آزادی کی بنیاد پر نوجوانوں کے سامنے قومی سوچ اور وقار پیدا کرنے کا تقاضا
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے | 14-08-2026
عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 30؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 14؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
آیتِ قرآنی:
وَوَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ. (2 -البقرہ:170)
ترجمہ : ” اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ“ ۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ 14 اگست خطے کی آزادی و حریت کا دن اور حقیقی آزادی و قربِ الہی کے لیے انبیاؑ کا کردار
✔️ انسان کی عزت اور شرف‘ صرف اللہ کی بندگی اختیار کرنے میں ہے
✔️ امام شاہ عبدالعزیزؒ کے ہاں تخلیق انسانیت کے تناظر میں انسانی مساوات کا بنیادی اصول اور حکمران کا بنیادی فریضہ؛ طبقاتی نظام کا خاتمہ اور مساوات کا قیام
✔️ دائرہ تخلیق اور دائرہ تدبیر میں فرق کے تناظر میں حق معیشت میں مساوات اور درجات معیشت میں تفاوت کے قرآنی اصولوں کی وضاحت اور ریاست کی ذمہ داری
✔️ آزادی و حریت‘ انسان کا خمیر اور بنیادی فطرت اور حقِ معیشت میں مساوات ریاستی حق‘ اس پر عقیدہ کا کوئی جبر نہیں!
✔️ انبیاؑ‘ عقل و شعور کی تعلیم اور آزادی و حریت کی دعوت دینے کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے
✔️سب سے بڑی غلامی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور مراکز کو تسلیم کرنا نیز انبیاؑ کی فطری بنیادوں پر ایک مرکزِ ہدایت (توحید) کی دعوت
✔️ توحیدِ باری تعالی کے دوعقلی و منطقی تقاضے؛ حلال طیب زرق (وسائلِ معاش) کا حصول اور معاشی زندگی میں حلال اور طیب اشیاء کا استعمال
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں احکاماتِ الہی کی اتّباع اور مشرکین کی اپنے آباؤاجداد کی غلط روش پر قائم رہنے کی ہٹ دھرمی
✔️ ان آیات کے شانِ نزول میں قریش اور یہودیوں کا اپنے بے عقل اور بے علم رہنماؤں کی اتباع پر اصرار
✔️ قرآن کا غور و فکر پر مبنی سوال؛ عقل اور ہدایت سے محروم آباء و اجداد کی پیروی کی جائے گی؟
✔️ راہِ ہدایت کی دو صورتیں نیز عقل اور ہدایت سے محروم آباء و اجداد قابلِ اتّباع نہیں!
✔️ عقل سے عاری اور ہدایت سے خالی بے شعور افراد‘ جانوروں، گونگے، بہرے اور اندھوں کی مانند ہیں
✔️ حضرت شیخ الہند ؒکے نزدیک علم کے حصول کے لیے ذرائعِ علم کے آزاد ہونا لازم و ضروری
✔️ غلام قوموں کا مرض: صحیح رائے کے اظہار سے دوری، درست علم سے لاتعلقی اور آنکھوں پر خواہشات کی پٹی بندھ جانا
✔️ نوجوان نسل میں اپنے آباؤ و اجداد کو احمق سمجھتے ہوئے سچے رہنماؤں سے لاتعلقی اختیار کرنے کا بڑھتا مرض نیز آباء واجداد کی پیروی کا درست قرآنی فہم اور حضرت ابراہیمؑ کے اسوۂ حسنہ کا تعارف
✔️ اپنی دھرتی، سچے رہنماؤں اور آباؤاجداد سے رشتہ توڑنے کا نتیجہ‘ بدیسی طاقتوں کی غلامی اور نوجوان نسل کی گمراہی (مولانا سندھیؒ کا مکہ کی سیاسی حیثیت کا تجزیہ)
✔️ حضرت ابراہیمؑ اعلی درجے کے عقل مند اور ہدایت یافتہ امام انسانیت اور حضور اکرم ﷺشبیہ ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام
✔️ ہدایت یافتہ اور عقل مند سچے رہنماؤ
انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی | 07-08-2026
*انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی*
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 23؍ صفر المظفّر 1448ھ /7؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ(11)
سورۃ الرعد:13 (11)
ترجمہ: ہر شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں، اس کے آگے اور پیچھے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انبیائے کرامؑ کا مقصدِ بعثت: فاسد تمدن کے بالمقابل صالح تمدن کا فروغ
✔ عقیدہ توحید بطور معاشرتی فساد کے اِزالہ کا ذریعہ
✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیتِ قرآنی کی وضاحت
✔ تمدن کے فروغ اور انسانی ضروریات کی تکمیل میں انسانی عقل کا کردار
✔ اجتماعیت کے فقدان کا لازمی نتیجہ: مایوسی اور لاقانونیت
✔ لاقانویت اور انتشار کا لازم و ملزوم تعلق
✔ انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی اُصول: صبر اور نظم و ضبط
✔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی نمایاں خرابی: معاشرے میں انتشار اور بدنظمی کو فروغ
✔ قانون کی پاسداری کا یورپین فریب اور عالمی انتشار میں مغربی طاقتوں کا کردار
✔ عالمی طاغوتی طاقتوں کی دنیا بھر کے آزاد اور خودمختار معاشروں میں انتشار کی سیاہ تاریخ
✔ صالح فکر اور تربیت کی بجائے ’ردّعمل‘ پر قائم جماعتوں اور تحریکات کے انسانی معاشروں پر منفی اثرات کا جائزہ
✔ سیرت رسول اکرمﷺ کی روشنی میں سماجی تبدیلی کا طریقہ کار: عدمِ تشدد
✔ عرب اور افریقہ میں ’افراتفری‘ اور ’ردّعمل‘ کی بنیاد پر پنپنے والی تحریکات کے نتائج کا مطالعہ
✔ ملکی سیاسی جماعتوں کی غلط احتجاجی حکمت عملی کے معاشرتی نقصانات
✔ سماجی تبدیلی کے لیے مسلمہ اصول: صالح فکر، جماعت سازی اور عدمِ تشدد
✔ عالمی استحصالی نظام کا افراتفری کو فروغ دینے کی حکمت عملی اور مسلمان ممالک کی بے شعوری
✔ عالمی خیراتی اداروں اور این جی اوز کا انسانی ہمدردی کا دوہرا معیار
✔ انقلاب کے عنوان سے افراتفری اور انتشار کی منفی حکمت عملی کا جائزہ
✔ فاسد نظام کی تبدیلی کا درست لائحہ عمل اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں
فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے | 07-08-2026
فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 23؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 07؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48)
ترجمہ:۔ ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ اجتماعیت‘ انسانی سماج کے لیے ناگزیر نیز قرآن حکیم کا انسانی سماج کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ایک مربوط نظامِ حیات
✔️ تعلق مع اللہ کی اساس پر انسانی سماج کے لیے صالح نظام کی ضرورت اور اہمیت
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دین اسلام کے دو بڑے مقاصد: تہذیبِ نفس اور انسانی سوسائٹی کی سیاست
✔️ تہذیبِ اخلاق اور نظام المدینہ کے تناظر میں انسانی معاملات اور تعلقات کو درست خطوط پر نظام استوار کرنا ضروری
✔️ نظام کی حقیقت و ماہیت نیز سیاست کا مفہوم دائرہ کار؛ ریاستی نظام کی صحت اور مرض کی حالت کا جائزہ
✔️ سیاسةُ الفرس، سیاسةُ الجسم، سیاسةُ النفس اور سیاسةُ المنزل کے تناظر میں سیاست کے بنیادی مقصد و ہدف کی وضاحت
✔️ سیاسةُ المدینہ؛ مملکت کے نظام اور سیاست سے بحث کرنا‘ قرآنِ حکیم کا اہم ترین موضوع
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود (اصحابِ حِجر) کے قومی نظام کے فساد اور اس کے نتیجے میں نازل ہونے والے عذاب کی وجوہات
✔️ قرآنی اصطلاح ’مدینہ‘ کی توضیح و تشریح؛ مستقل تہذیب وتمدن اور سیاسی و معاشی شناخت رکھنے والی ریاست
✔️ قومِ ثمود کی نو بڑی مؤثر شخصیات اور ان کا فسادی کردار
✔️ قرآنی اصطلاحات کی تشریح؛ ’رھط‘ کا مفہوم اور حضرت سندھیؒ کی تشریح کی روشنی میں ’الارض‘سے مراد‘ ریاست و مملکت
✔️ قومِ ثمود کی لیڈر شپ کے قائم کردہ معاشی و سیاسی نظام کی خرابیاں
✔️ سسٹم چلانے والی قوتوں کا مکر و فریب اور انسانیت دشمنی کے فسادی کردار کا اگلا شاخسانہ؛ (نعوذباللہ) حضرت صالحؑ کے قتل کا منصوبہ
✔️ حضورؐ کو درپیش قومی چیلنجز اور حضرت صالحؑ کو درپیش قومی چیلنجز میں مماثلت
✔️ تیسرا بڑا فساد؛ قومِ ثمود کا پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرنے کا مطالبہ
✔️ اونٹنی‘ دراصل ریاستی جرائم، مظالم اور قوم کے گناہوں کی تہہ در تہہ (compact) کی مجسم شکل میں قومِ ثمود پر اللہ کا عذاب بن کر ظاہر ہوئی
✔️ آج حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی طرح کرپٹو کرنسی اور آرٹیفیشل انٹیلجنس‘ قوم کے وسائل کھا رہی ہے
✔️ معجزے کا مطالبہ، اس کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کفر اور انکار پر قائم رہنا‘ معجزے کو فنا کرنے کے درپے اور عذابِ الہی میں گرفتار
✔️ اونٹنی کو قتل کرنے کے نتیجے میں پتھروں اور لینڈ سلائیڈنگ کا درد ناک عذاب
✔️ قران حکیم اور نبوی تعلیمات کا موضوع مملکت کا سیاسی نظام نیز دور کے سیاسی معاملات پر عقل و شعور کا حصول دینِ اسلام کا ایمانی تقاضا
✔️ قصص القرآن سے حاصل کردہ عبرت کے تناظر میں ’اصلاح فی الارض‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت سے مقصود موجود نظام پر بحث
✔️ نظام کی وضاحت نیز ہر نظام اپنے بنانے والی قوتوں کے فکر و نظریے کا عملی اظہار ہوتا ہے
✔️ مسلمان ایک فرد سے لے کر بین الاقوامی دائرے کا نظام‘ ملتِ مصطفویہ کے بیانیے کی اساس پر قائم کرتا ہے
✔️ بالائی نظام‘ ذیلی نظاموں پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے انسانی جسم کا مرکزی نظام اور اس کے ذیلی نظا
قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت | 31-07-2026
قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 16؍ صفر المظفّر 1448ھ /31؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُۚ-وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى(23) اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘(24) فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠(25)
سورۃ النجم:53 (23-25)
ترجمہ: یہ تو صِرف نام ہی نام ہیں جو تُم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں، جِن پر خُدا نے کوئی سَنَد بھی نہیں اُتاری، وہ محض وہم اور اپنی خواہش کی پَیروی کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس اُن کے ربّ کے ہاں سے ہدایت آ چکی ہے۔ پِھر کیا انسان کو وُہی مِل جاتا ہے جس کی تمنّا کرتا ہے؟ پس آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انبیائے کرامؑ کی تعلیمات بطور حقیقت شناسی کا پیغام
✔ حضرت آدمؑ کی مخلوقات پر برتری کی وجہ: کائناتی حقائق کا عِلم
✔ کائنات کی مرکزی حقیقت کا ادراک اور عقیدہ توحید کی اہمیت
✔ حقائق اور ہدایت کی بنیاد پر انبیائے کرامؑ کی تعلیمات اور ان کے مقابل وساوس و توہّمات کا بے بنیاد نظام
✔ خطبے میں مذکور آیت کی روشنی میں ’ہوائے نفس‘ کی وضاحت
✔ ’ہدایت‘ کی حقیقت اور اس کا تاریخی تسلسل
✔ جاہلیت کے حامل معاشرے کا توہمات کے ساتھ لازم و ملزوم تعلق
✔ ملکی سیاسی مسائل کے حل کی بابت مقتدرہ کی سیاسی توہمات پر مبنی غیر شعوری تجویز کا تجزیہ
✔ ماہِ صفر المظفّر میں موجود معاشرتی توہمات کا تحلیل و تجزیہ
✔ سیاسی توہمات پر مبنی استحصالی کاروبار کے ظالمانہ نظام کا جال
✔ ملکی استحصالی نظام کی تباہ کاریاں اور اس کو تحفظ فراہم کرنے والی مقتدرہ کے غلط رویے
✔ پُر فریب نعروں کی جھنکار میں ظالمانہ نظام کی اسّی سالہ تاریخ کا تجزیہ
✔ حقیقت پسندی پر مبنی شعوری فکر اور جدوجہد کی ضرورت و اہمیت
اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ | 31-07-2026
اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 16؍صفرالمصفر ۱۴۴۸ھ / 31؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ اِنَّمَا اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ (13 -رعد:7)
ترجمہ : ”تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا“ ۔
2۔ اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ (28 -قصص:76)
ترجمہ : ”قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر“۔
حدیثِ نبویﷺ:
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ:”خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ، فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ، وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ“. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”معاملے پر غور و فکر کر، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر “۔ (مشکوٰۃ المصابیح :5057)
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآن کے ذریعے کچھ اقوام کامیاب اور کچھ اس کی ہدایات کو پسِ پشت ڈال کر گمراہ
✔️ قرآنِ حکیم کا بنیادی موضوع‘ اقوامِ عالم نیز گزشتہ انبیاء کی تعلیمات فرد، خاندان اور قوم کی ترقی اور کامیابی کے لیے تھیں
✔️ تورات اور قرآن کی تعلیمات اور حضرت موسیٰؑ و حضورؐ کی جدوجہد کا دائرہ کار
✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی دو آیات کی روشنی میں قومی و بین الاقوامی نظام کے خط و خال اور تشکیل
✔️ آپؐ کا ہدف؛ قومی تعصبات سے بالاتر تعلیم و تربیت، جماعت کی تیاری اور قومی اساسیات
✔️ زوال کا سبب؛ قومی مفادات کے اجتماعی نظام سے بغاوت اور اغیار کی آلہ کاری
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں بنی اسرائیل کی قومی شناخت توڑنے والے قارون کا منفی اور باغیانہ کردار کا ذکر
✔️ باغی کی وضاحت کے تناظر میں قارون کی قومی بغاوت، حضرت موسیٰؑ کی توہین اور تعلیمات کے انکار کی سزا کا تفصیلی جائزہ
✔️ قارون کی طرح مکہ و طائف کے سرداروں کا حضورؐ سے حسد و بغض، قومی بغاوت کا ارتکاب، ابوطالب سے شکایت اور آپؐ کی بشارت
✔️ کلمۂ طیبہ؛ قومی و بین الاقوامی ترقی کا مکمل عنوان نیز آپؐ کے قومی ترقی اور انسانیت دوستی کے بین الاقوامی پروگرام پر قریش کا اظہارِ تشویش
✔️ عرب اور اقوامِ عالم کے مفادات کا شعور اور آپؐ کے سگے رشتے داروں کی قومی بغاوت، توہین پر مبنی رویے اور انسانیت دوست اور قومی و بین الاقوامی ترقی کی تعلیمات کا انکار
✔️ نبوی شعور اور قرآنی تعلیمات کی اساس پر عربوں و ترکوں کی ہزار سالہ حکومت میں ہر قوم کے مفادات کی حفاظت
✔️ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی حیدرآباد دکن کے غیر مسلم راجہ کی دلجوئی اور علاؤ الدین خلجی سے مال کی واپسی
✔️ تجارت کے نام پر یورپین بھیڑیوں کی وسائل کی لوٹ مار اور عرب مسلم تاجروں کا دیانت پر مبنی کاروبار
✔️ مغل حکمرانوں کا ایسٹ انڈیا کمپنی کو بلا تعصب تجارت کی اجازت لیکن ان کی بغاوت و غداری
✔️ پورپین بھیڑیوں کے مدد گار اور معاون غدّار اور قوم سے بغاوت ک
اَکْل بِالبَاطِل‘ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر | 24-07-2026’
”اَکْل بِالبَاطِل“ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 9؍ صفر المظفّر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ- اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(29) وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا- وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30)
سورۃ النساء 4: (29-30)
ترجمہ : اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ آپس کی خوشی سے تجارت ہو، اور آپس میں کسی کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو شخص تعدّی (سرکشی) اور ظلم سے یہ کام کرے گا تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔
✔ انسانیت کے لیے تسخیرِ کائنات کا الٰہی نظام
✔ معیشت میں تعاونِ باہمی اور تبادلہ اشیاء کا نظام
✔ خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ کا مفہوم
✔ حدیثِ نبویﷺ کی روشنی میں ’’بِرّ‘‘ کی وضاحت
✔ ’’اِثم‘‘ کا مفہوم
✔ منصبِ قضا اور اِفتاء کا دائرہ کار اور بنیادی ذمہ داریاں
✔ رزقِ حلال اور دینِ اسلام میں نیکی کا نظام
✔ مالِ حرام سے صدقہ دینے کا حُکم
✔ موجودہ معاشرے میں ٹیکسز کا ’’لاقانونی“ ظالمانہ نظام
✔ ملکی عدمِ استحکام کی اہم وجہ: قومی معیشت سے محروم نظام
✔ موجودہ معاشرہ میں ’’اکل بالباطل‘‘ کے وسیع تر نظام کی سفاکیّت
✔ بالواسطہ ٹیکسز اور بِھیک کے فروغ پر مبنی قومی معاشی نظام کی زبوں حالی
✔ ’اکل بالباطل‘ پر مبنی منظم نظام کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ پر قائم موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کی تباہ کاریاں
✔ موجودہ فرسودہ معاشی نظام کے شعوری تجزیہ کی ضرورت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (�) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا
شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ | 24-07-2026
شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 09؍صفر المظفر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَا اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖوَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ.
(2 -البقرہ:174)
ترجمہ : ”بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول، وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ، اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے ہے عذاب دردناک“۔
حدیثِ نبویﷺ:
”مَن كتمَ علمًا ألجمَهُ اللَّهُ يومَ القيامةِ بلجامٍ من نارٍ “.
(كنز العمال :10/ 217)
ترجمہ: ”جس نے علم چھپایا تو اللہ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا“.
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ کتاب مقدس‘ انسانیت کی ہدایت اور ترقی کا ذریعہ
✔️ انبیائے کرامؑ کا ہدف‘ انسانوں کو تعلیم یافتہ بنانا
✔️ حقیقی علم کی تعریف نیز علمِ الٰہیات کی عظمت و جامعیت
✔️ حصولِ علم کے تین ذرائع؛ عقل، نقل اور کشف
✔️ علمی ذرائع سے ملّتیں اور شرائع و مناہج بننے کا عمل
✔️ قرآن حکیم‘ وحی الہی کے علوم کا جامع ترین ایڈیشن
✔️ حقیقی اور قابلِ عمل علم جو انسانی زندگی کے تمام مراحل میں فائدہ مند ہو
✔️ علمِ نبوت؛ اقترابات و ارتفاقات کا جامع ترین علم
✔️ انبیاءؑ تعلیم و تربیت پر اجر کا مطالبہ نہیں کرتے
✔️ حصولِ علم‘ ہر انسان کا بنیادی حق و فریضہ نیز اس کی ادائیگی ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری
✔️ مسلم دورِ عروج کے ہزار سال میں تعلیم اور صحت‘ ریاست کی ذمہ داری
✔️ زوال پذیر اقوام کا بنیادی مرض‘ کتمانِ علم اور تعلیم کا معاوضہ طلب کرنا
✔️ وسائل پر قبضے کی ہوس، لالچ اور بھوک کے مرض میں مبتلا اقوام و ممالک
✔️ یورپی اقوام کا مسلمانوں کے علوم اور ریسرچ کو دنیا سے چھپانا
✔️ گزشتہ تین سو سال سے علومِ انبیاءؑ اور کتبِ الہیہ کے احکامات کے کتمان کی روش
✔️ قرآن و حدیث کی روشنی میں کتمانِ علم کی سخت وعید اور سزائیں
✔️ سرمایہ و محنت کی اساس پر سرمایہ داری اور سوشلزم کو شرعی دلائل سے ثابت کرنے کا غلط فہمی پر مبنی بیانیے کا جائزہ
✔️ حقیقی علم کے کتمان اور انسانیت دشمن علم کے فروغ کا عصری جائزہ
✔️ 1857ء کے بعد علماءِ حق کا خطے کے حقیقی علوم کو محفوظ کرنا
✔️ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری، علم بیچنے کا کاروبار اور عوام کی عطیہ کردہ زمینوں پر قائم اسکول و کالجز کو ٹھیکے پر دینے کے علم دشمن عمل کا جائزہ
✔️ پرائیویٹ اسکولوں کے نام پر اساتذہ اور والدین کا استحصال اور کتمانِ علم
✔️ مدارس کا رسمی نصاب‘ سماجیات، سیاسیات اور معاشیات سے خالی
✔️ کتمان علم کی بڑی بھیانک مثال‘ سرمایہ داری کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا
✔️ آزاد ممالک میں مقامی طریقہ ہائے علاج کا فروغ اور سرمایہ دار ممالک میں جبری پابندی
✔️ ادویات پر ریسرچ کے حقیقی نتائج کو چھپانے کا عمل
✔️ حقیقی علم کے کتمان کی مجرمانہ روش اور تعلیم و صحت کے قومی نظام کی عصری ناگزیریت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمی
تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی | 17-07-2026
تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 2؍ صفر المظفّر 1448ھ /17؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(116)
سورۃ ھود 11: (116)
ترجمہ: سو ان جماعتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو تم سے پہلے تھیں؟ جو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے، جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا، اور جن لوگوں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہی لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں، اور وہ مجرم تھے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ معاشرے میں خیر کے غلبہ اور شر کے خاتمہ کی اہمیت
✔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اساسی فہم و شعور
✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
✔ منکر کے خلاف مزاحمتی شعور کا اجتماعی فائدہ
✔ معاشرے میں فساد فی الارض کے تعین اور اس کے خلاف شعور کی قرآنی منشا
✔ اُخروی کامیابی کے لیے پاکیزہ کردار کی بنیادی شرط
✔ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کی اہمیت
✔ مُلکِ عزیز میں فساد فی الارض کے حقیقی اسباب کا جائزہ
✔ ملکی فرسودہ سیاسی و معاشی نظام کے بھیانک اثرات
✔ فساد فی الارض پر مبنی ظلم پیشہ طبقات کے ہتھکنڈے
✔ معاشرے کے حقیقی مجرمین (ملاء و مترف) کی شناخت اور ان کے خلاف شعور کا نبوی طریقہ کار
✔ تفقّہ (سیاسی شعور) کے بغیر نیکی کا اثر
✔ فساد فی الارض کا اصل سبب: عالمی سرمایہ دارانہ نظام
✔ منکرات اور فساد فی الارض کی موجودگی میں نیکی کے تصوّر کا جائزہ
✔ ملکِ عزیز میں انسانی حقوق کے تحفّظ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی ناگفتہ بہ صورتِ حال
✔ سماجی جدوجہد میں عدمِ تشدّد کی حکمتِ عملی کی اہمیت
✔ سرمایہ پرست ذہنیت سے شعوری مزاحمت کی حکمت عملی کی افادیت
✔ صبر و استقلال کے ساتھ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کا نبوی اسوہ
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہ | 17-07-2026
ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 02؍صفر المظفر 1448ھ / 17؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (1) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ ۖ (2) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَﭤ(3) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ (4) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ (5) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَﭤ(6)
(83 –مطففین:1تا6)
ترجمہ : ”خرابی ہے گھٹانے والوں کی، وہ لوگ کہ جب ناپ کرلیں لوگوں سے تو پورا بھر لیں، اور جب ناپ کردیں ان کو یا تول کر تو گھٹا کردیں، کیا خیال نہیں رکھتے وہ لوگ کہ ان کو اٹھنا ہے، اس بڑے دن کے واسطے، جس دن کھڑے رہیں لوگ راہ دیکھتے جہان کے مالک کی“۔
حدیثِ نبویﷺ
”قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ «خَمْسٌ بِخَمْسٍ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا خَمْسٌ بِخَمْسٍ؟ قَالَ «مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا سُلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ وَمَا حَكَمُوا بِغَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللهُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الْفَقْرُ وَلَا ظَهَرَتْ فِيهِمُ الْفَاحِشَةُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الْمَوْتُ وَلَا طفَّفُوا الْمِكْيَالَ إِلَّا مُنِعُوا النَّبَاتَ وَأُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَلَا مَنَعُوا الزَّكَاةَ إِلَّا حُبِسَ عَنْهُمُ الْقَطْرُ»“.
(ابن ماجہ)
ترجمہ : ”نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پانچ چیزوں کے بدلے پانچ سزائیں ہیں۔“صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! وہ پانچ کے بدلے پانچ کیا ہیں؟“آپ ﷺ نے فرمایا: جب بھی کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے۔ جب بھی وہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے علاوہ (دوسرے قوانین کے ذریعے) فیصلے کرتے ہیں، تو ان میں غربت پھیل جاتی ہے۔ جب بھی کسی قوم میں کھلم کھلا بدکاری (فحاشی) عام ہوتی ہے، تو ان میں طاعون اور ناگہانی اموات (وبائیں) پھیل جاتی ہیں۔ جب بھی لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، تو ان کی پیداوار (سبزہ و نباتات) روک لی جاتی ہے اور انہیں قحط سالی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ز اور جب بھی لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی روکتے ہیں، تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ دینِ اسلام کے تین مقاصد و اہداف؛ انسانی جان و مال و عزت کی حفاظت کے نظام کا قیام
✔️ ان تین دائروں میں غیر محفوظ انسانیت‘ تعلق مع اللہ سے محروم
✔️ مالی لین دَین کی خرابی کے سدِ باب میں حضرات انبیاءؑ کا کردار
✔️ قومِ شعیبؑ کے خراب تجارتی معاملات اور حضرت شعیب علیہ السلام کی جدوجہد
✔️ نبوت کا ہدف؛ عبادتِ الٰہی کے ساتھ انسانی معاملات کو عدل پر استوار کرنا
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا شانِ نزول اور پسِ منظر
✔️ یمن اور شام کی تجارتی منڈیوں کا مدینے کی تجارتی گزرگاہ سے تعلق
✔️ لین دَین کے پیمانے؛ کیل، صاع اور مُدّ
✔️ نبی اکرمﷺ کی آمد سے قبل اہلِ مدینہ کی ماپ تول میں کمی اور تطفیف کی روش
✔️ تطفیف کی تعریف اور مستعملات نیز اہلِ مدینہ کی روش پر قرآنی انذار و تنبیہ
✔️ ریاست مدینہ کے قیام کے بعد اہلِ مدینہ کا مالی معاملات میں مثالی و روشن کردار
✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں قومی ترقی کی راہ میں حائل پانچ رکاوٹیں؛
۱۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر عہد شکنی سے
نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہ | 10-07-2026
نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہ
صداقت کی اساس پر منہج کے تعین کی قرآنی رہنمائی
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 24؍ محرم الحرام 1448ھ /10؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا(80) وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(81) سورۃ بنی اسرائیل17: (80-81)
ترجمہ: اور کہہ: اے میرے رب! مجھے خوبی کے ساتھ پہنچا دے اور مجھے خوبی کے ساتھ نکال لے، اور میرے لیے اپنی طرف سے غلبہ دے جس کے ساتھ نصرت ہو۔ اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
00:48 دنیا میں مثبت و منفی اقدار کی کشمکش کا نظام
01:59 شیطان کا مقصد: تذلیلِ انسانیت
06:02 انبیائے کرامؑ اور ان کے متّبعین کی جدوجہد: سچائی کا غلبہ
11:31 رسول اللہﷺ کے شخصی اوصاف کا کمال اور دشمن کا برملا اعتراف
13:33 رسول اللہﷺ کی مکی زندگی کی جدوجہد کا خلاصہ: انسانیت کو ظلم اور جہالت سے نجات دلانا
15:29 خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
17:46 اسوہ نبویﷺ کا اہم پہلو: ظالم طبقے سے ’’مداہنت‘‘ (سمجھوتہ) کا ردّ
21:21 تعلیماتِ انبیائے کرامؑ کا اہم سبق: جھوٹ اور سچ کی آمیزش (دجل) کا انکار
24:43 معاشرے میں جھوٹی اقدار کے بالمقابل سچی اقدار کا تعارف و غلبہ: سیرت النبیﷺ کے واقعات کے تناظر میں راہ نمائی
29:45 حق اور سچ کی بنیاد پر نئے معاشرے کے قیام کا طریقہ: ہجرتِ مدینہ کے تناظر میں راہ نمائی
32:28 سچے اور جھوٹے لیڈروں کے تعارف کی اہمیت: تاریخ برعظیم پاک و ہند کا تجزیاتی مطالعہ
38:52 سچ اور حقائق کی بنیاد پر موجودہ حالات کے تجزیہ کی ضرورت اور جھوٹے کرداروں سے بچنے کی اہمیت
44:04 دینِ اسلام میں نظمِ حکومت کے قیام اور تشکیلِ ریاست کی اہمیت
47:27 غلبہ دین کا درست مفہوم: عدل اور اعلیٰ انسانی اقدار کا غلبہ
53:10 غلبہ دین کے لیے باطل کو مٹانے کی ضرورت
54:44 تاریخ کے متوازن تجزیے کی اہمیت
56:46 قرآنی تعلیمات کے تناظر میں دُعا کا درست طریقہ کار اور اسوہ حسنہ سے راہ نمائی
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ | 10-07-2026
عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 24؍ محرم الحرام 1448ھ / 10؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ . (4 –النساء:58)
ترجمہ : ”اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے، بیشک اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو“۔
2۔ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا. (33 –الاحزاب:58)
ترجمہ: ”اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو بدون گناہ کئے تو اٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا اور صریح گناہ کا“۔
حدیثِ نبویﷺ:
”أَرْبَى الرِّبَا عِنْدَ اللَّهِ اسْتِحْلَالُ عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ“.
(تفسير ابن أبي حاتم: 10/ 3153)
ترجمہ: ”اللہ کے نزدیک سب سے بڑا سود؛ایک مسلمان شخص کی عزت پامال کرنا ہے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ عدل؛ تمام قوانین اور شرائع الہیہ کی قدرِ مشترک
✔️ قرآن حکیم میں حکمرانوں کو عدل کے قیام کا خصوصی حکم
✔️ عدل و انصاف کی رو کے منافی حکم اور فیصلہ کرنے کی ممانعت
✔️ عدل کی اساس پر تین دائروں میں احترامِ انسانیت لازمی و ضروری
✔️ اثمِ مبین؛ بغیر کسی جرم کے کسی انسان کو ایذا و تکلیف پہنچانا
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور شانِ نزول
✔️ قرآنی حکم کی روشنی میں اسلامی نظام میں انتظامی اور عدالتی اختیارات کو الگ الگ رکھا گیا
✔️ قانون سازی و فیصلہ سازی میں خلفائے راشدینؓ‘ مجلسِ مشاورت و عدلیہ کے پابند تھے
✔️ دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی روشنی میں بارہ سو سالہ مسلم دورِ حکومت میں مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ کے اختیارات کی تقسیم کا نظام قائم رہا
✔️ شہریوں کو حبس بے جا اور ماوراءِ عدالت قتل کرنے کی کھلی چھٹی کا ظالمانہ قانون
✔️ قرآنی آیت کی روشنی میں ظالمانہ نو آبادیاتی دور کے پولیس سسٹم اور عدالتی اختیارات کو بدلنے کی ضرورت نہیں؟
✔️ بغیر شواہد و ثبوت کے الزام ترشی اور ایذا و تکلیف پہنچانا‘ بہتانِ عظیم اور اثمِ مبین
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی فکر کی روشنی میں ”البِرّ“ اور ”الاثم“ کی جامع تعریف
✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں عزت کے تحفظ اور غیبت و بہتان تراشی کی مذمت
✔️ تہذیب یافتہ اور غیرت مند اقوام اپنی قومی شناخت اور عزت و وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتیں!
✔️ قوموں کو بظاہر آزادی دینا مگر عزت و وقار کی پامالی کا سامراجی حربہ
✔️ سیاسی و معاشی غلامی کے گرداب کے ساتھ ساتھ قوم پر لاقانونیت اور ظالمانہ قوانین کا عذاب مسلط
✔️ اہلِ علم و دانش کی بنیادی ذمہ داری؛ مروجہ ظالمانہ سسٹم کی خرابیوں پر غور و فکر کرکے درست کرنے کی ضرورت
✔️ حضرت عمر فاروقؓ کا بطورِ حکمران روشن کردار اور احساس ذمہ داری کی واضح مثالیں
✔️ عقل و شعور کی اساس پر عادلانہ نظام کا قیام ہر فرد کا اجتماعی فریضہ
✔️ آخرت کی سزا و جزا کا دار و مدار‘ دنیا میں اجتماعی نظام اور فیصلوں پر منتج
✔️ آج کا المیہ؛ انفرادی جرائم اور گناہوں پر ندامت لیکن اجتماعی جرائم اور نظام کی خرابیوں سے پہلو تہی
✔️ انسانی حقوق کی پامالی ا
سیمینار| ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ
ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
برموقع سیمینار
بتاریخ : 25؍ ذیقعدہ 1447ھ / 13؍ مئی 2026ء
بمقام : مدرسہ رحیمیہ دارالقرآن آئی ٹن ون، اسلام آباد
۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ بین الاقوامی حالات کی تبدیلی کے تناظر میں موضوع کی اہمیت
✔️ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی بکھرتی ہوئی طاقت
✔️ مدِ مقابل عالمی قوتوں کی محدودیت اور داخلی مسائل
✔️ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں بنگلہ دیش سے لے کر مراکش تک مسلم اکثریتی علاقوں کی ذمہ داری
✔️ مسلم معاشروں میں دین اسلام کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر قومی اجتماعی طاقت پیدا کرنے کی ضرورت
✔️ موجودہ جنگ کے تناظر میں پاکستان کی معاشی، سیاسی اور سماجی ابتری کی حالت
✔️ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطابق ترقی اور خوشحالی کے لیے دینی فکر پر قومی شناخت پیدا کرنے کی ضرورت اور اہمیت
✔️ حضرت ابراہیمؑ کی جدوجہد اور فکر کے تناظر میں مشرق وسطیٰ و بلاد شام و مصر کی سماجی، سیاسی و معاشی صورت گری
✔️ انسانی مسائل کے حل کے لیے ابراہیمی اصولوں پر عملی سیاسی معاشی و سماجی نظام کے قیام کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ
✔️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد ابراہیمی اصولوں پر بین الاقوامی سماج کی تشکیل
✔️ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں حقائق اور معروض کو سمجھنے اور حقیقی مسائل کا ادراک حاصل کرنے کی ضرورت و اہمیت
✔️ سائیکوٹ پائیکوٹ معاہدے کے تحت مشرق وسطی کی برطانوی تقسیم
✔️ ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی مسلمان خطوں کے وسائل پر نظر
✔️ شمال مغربی ہند کی مسلم تاریخ کا آغاز‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں کابل کی فتح اور اردگرد کی اقوام کے اسلام قبول کرنے سے ہوتا ہے
✔️ اس دھرتی کے مسلمان ہندوستان میں آٹھ سو سالہ دین اسلام کے نظام کی تاریخ سے ناواقف ہیں
✔️ بدلتے ہوئے عالمی نظام اور طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن میں دینی فکر کی اساس پر قومی اجتماعیت اور سیاسی وحدت پیدا کرنے ضرورت
✔️ مسلم اقوام کی اپنی تاریخ سے ناواقفیت کے اثرات و نتائج
✔️ سماجی تشکیل نو اور قومی شناخت پیدا کرنے کے لیے قرآن چار رہنماء اصول
✔️ پہلا اصول: سامراجی طاقتوں سے قومی آزادی کا حصول
✔️ دوسرا اصول: عدل کی اساس پر سوشل کنٹریکٹ کا قیام
✔️ تیسرا اصول: بلا تفریق رنگ نسل مذہب سیاسی امن و امان کا قیام
✔️ چوتھا اصول: اپنے وسائل کے آزادانہ و عادلانہ استعمال کی اساس پر معاشی خوشحالی
✔️ تاریخی تسلسل توڑنے والی اقوام؛ اپنی شناخت سے محرومی اور غلامی
✔️ ایران اور جاپان نے اپنا قومی تسلسل ٹوٹنے نہیں دیا
✔️ قومی تاریخی تسلسل سے کٹ جانے کے اثرات و نتائج
✔️ موجودہ دور میں مسلم اقوام کی ذمہ داری
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
سیمینار | معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات | مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
برموقع سیمینار
بتاریخ : 25؍ ذیقعدہ 1447ھ / 13؍ مئی 2026ء
بمقام : سی پی سی ہال، نیو ٹیچنگ بلاک، ہولی فیملی ہسپتال، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی
۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ اہل علم کی سنجیدہ مجالس معاشرہ کی ترقی کا ذریعہ
✔️ الہی تعلیمات اور کتبِ سماویہ میں انسانی معاشروں کے مسائل زیر بحث
✔️ مکہ مکرمہ اور حجاز کی جغرافیائی و تجارتی اہمیت
✔️ پبلک ہیلتھ اور حفظانِ صحت کے دینی اصول
✔️ ذہنی صحت کے لیے مثبت سوچ کی اہمیت
✔️ جسمانی صحت کا تعلق کھانے پینے اور غذا سے ہے
✔️ کھانے پینے کی اشیاء کو حلال و حرام قرار دینے کی بنیادی حکمت
✔️ جسمانی طہارت کا نبوی نظام
✔️ راستوں اور محلوں کی صفائی کی اہمیت
✔️ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم کے مطابق صحت اور فراغت‘ بہت بڑی نعمت
✔️ معاشی ناہمواری اور غذائی کمی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ
✔️ صحتِ عامہ‘ ریاستی ذمہ داری نیز قومی آزادی کے حصول کے بغیر صحت عامہ کا حصول ممکن نہیں
✔️ داخلی اور خارجی امن کا ماحول جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ضروری
✔️ صحت مند معاشرہ کے لیے معاشی خوشحالی کی اہمیت
✔️ آزادی کے حصول کے بعد نو آبادیاتی دور کے نظام سے نجات ضروری
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
باہمی تعاون کے معاہداتی سماج کی تشکیل ؛ نبوی تربیت کے اجتماعی کردار کے تناظر میں | 03-07-2026
باہمی تعاون کے معاہداتی سماج کی تشکیل ؛ نبوی تربیت کے اجتماعی کردار کے تناظر میں
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 17؍محرم الحرام 1448ھ / 03؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًاؕ- تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍؕ-اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖؕ-وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(92)
سورۃ النحل16: (92)
ترجمہ: اور اس عورت جیسے نہ بنو جو اپنا سُوت محنت کے بعد کات کر توڑ ڈالے کہ تُم اپنی قَسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بنانے لگو محض اس لیے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے۔ اللہ اس میں تمہاری آزمائش کرتا ہے۔ اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو اللہ اسے ضرور قیامت کے دن ظاہر کردے گا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ دینِ اسلام بطور دینِ فطرت
✔ رسول اکرمﷺ کے اخلاقِ حسنہ بطورِ خاص ایفائے عہد کا وصفِ باکمال
✔ دینی تعلیمات میں فطری سماجی معاہدات کی اہمیت
✔ صالح معاشرہ کی پہچان: فطری معاہدات کی تکمیل کا نظام
✔ فطری معاہدات کی خلاف ورزی کے نتیجے میں مِلل سابقہ کی تباہی کی قرآنی مثالیں
✔ ظالم طاقتوں کی جانب سے قانونِ فطرت کے بالمقابل تشکیل دیے گئے جھوٹے فلسفوں کی حقیقت
✔ قانونِ فطرت کی تابعداری کا انبیائے کرامؑ کی دعوت میں نمایاں مقام و مرتبہ
✔ سُوت کاتنے والی عورت کی قرآنی تمثیل اور اس کی وضاحت
✔ موجودہ معاشرے میں بداعتمادی کا بحران اور اس کے بھیانک نتائج
✔ اسوہ رسول اکرمﷺ: معاہدات کی اِیفاء کا نمونہ
✔ سوسائٹی کی تشکیل میں معاہدات کی اہمیت اور نبوی حکمت عملی
✔ رسول اکرمﷺ کا فتح مکہ کے موقع پر ایفائے عہد کی حکمت عملی
✔ معاہدات کی خلاف ورزی کو بطورِ جُرم اور اس کی سزاؤں کا دینی تعلیمات میں بیان
✔ صُلُح حُدیبیہ کے موقع پر ابوجُندلؓ کو دشمن کے سپرد کرنےکے واقعہ سے سبق
✔ رسول اللہﷺ کا غیر مسلم قبیلہ سے ایفائے معاہدہ کا نمونہ اور فتح مکہ کا واقعہ
✔ فتحِ مکہ کے موقع پر ایفائے عہد کی نبوی مثال اور دورِ خلفائے راشدین کے عمدہ معیارات
✔ حضرت امیرِ معاویہؓ کا دشمن پر پیش قدمی کا واقعہ اور ایفائے عہد کا اہم پہلو
✔ چینی انقلاب کے پیشوا کا دورِ خلفائے راشدین سے راہ نمائی کی مثال
✔ دورِ نبویﷺ اور خلفائے راشدین کے مطالعہ کی موجودہ دور میں اہمیت و ضرورت
✔ حضرت امیرِ معاویہؓ کا حضرت علیؓ کی مخالفت کے بابت رومی حکمران کو سخت جواب
✔ صحابہ کے مابین اختلافات کی اصل حقیقت اور موجودہ دور میں اس سے راہ نمائی
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | مفتی عبد المتین نعمانی
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب: حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی صاحب
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب: حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تقریبِ رونمائی | شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری و آثارِ شیخ الہندؒ | ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
تقریبِ رونمائی دو کتب
1۔ شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری (اُردو)
(صحیح بخاری شریف کے ابواب کی تفہیم و تشریح)
تالیف: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ
2۔ آثارِ شیخ الہندؒ ؛ خطبات، مقالات و مکتوبات
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ (اُردو)
ترتیب، تحقیق و تخریج
حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
اظہارِ خیال:
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 7؍ محرم الحرام 1448ھ /23؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ دورہ تفسیر کا مقصد‘ علمائے ربانیین کے طریقے کے مطابق قرآن حکیم کے مضامین سے آگہی و شعور حاصل کرنا
✔️ قرآن حکیم کی تفسیر کے لیے جماعتی طریقہ کار‘ ولی اللہی فکر و نظریے کے تحت انفرادی تصورات کی نفی ضروری
✔️ قرآنِ حکیم کی تفسیر کے لیے رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ اور جماعت صحابہؓ کا طریقہ کار
✔️ کسی فرد یا خاندان کے تناظر میں قرآن حکیم کی تفسیر کو امت نے بحیثیتِ مجموعی کبھی قبول نہیں کیا
✔️ سماجی تشکیل کے لیے اجتماعی طریقہ کار کے مطابق تفسیر قرآن کی اہمیت
✔️ شاہ صاحبؒ کے نزدیک دین اسلام کی عبادات کے اجتماعی ہونے کی اہمیت
✔️ دور حاضر کا فتنہ: جماعتی تسلسل، سلف صالحین کے فہم اور علمائے ربانی کے سواد اعظم کی بجائے فرد واحد کی رائے کو معتبر مان لینا
✔️ جماعتِ صحابہؓ‘ قرآن حکیم کو سمجھنے کے لئے معیار ہے
✔️ موجودہ دور کا فتنہ‘ شخصی آراء کی اساس پر دین اسلام کی مغلوبانہ تفسیر ہے
✔️ ولی اللہی فکر کی اساس اجتماعیت پر ہے
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی خصوصیت: جماعت انبیاءؑ کی بنیاد پر رسول اللہؐ کی تربیت یافتہ جماعتِ صحابہؓ کے تسلسل کے ساتھ دین اسلام کی تاریخ، افکار و نظریات کی وضاحت
✔️ دین اسلام کی شعبہ جاتی تقسیم کے بعد بھی تمام محدثین، فقہاء، صوفیاء، اولیاء اللہ اور عادل حکمران سماجی بھلائی کے نظام پر متفق رہے ہیں
✔️ ’’الجادّۃ القویمة المحمدیة‘‘ کے تناظر میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی متعین کردہ سیدھی شاہراہ
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ سے لے کر شاہ سعید احمد رائے پوریؒ تک، ولی اللہ جماعت کی تسلسل کے ساتھ قرآن حکیم کی اساس پر سماجی بھلائی کی جدوجہد کی شاندار اور روشن تاریخ
✔️قرآن فہمی کے ولی اللہی طریقہ کار کے مطابق ذاتی آراء کے بجائے جماعتی رائے‘ تفسیرِ قرآن میں اساس کی حیثیت رکھتی ہے
✔️ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے نزدیک سواد اعظم کا حقیقی معنی اور اس کی اساس پر قرآن فہمی کا جماعتی طریقہ کار
✔️ خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں تفسیرِ قرآن کی مرکزی اہمیت اور رمضان المبارک میں تفسیر قرآن کی سوا سو سالہ روایت
✔️ شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے 1982ء میں دورۂ تفسیر قرآن حکیم کا آغاز فرمایا
✔️ دورۂ تفسیر کا مقصد؛ قرآن فہمی کی اساس قائم کرنا اور ذاتی و اجتماعی زندگی میں قرآن حکیم کا اطلاق کرنا ہے
✔️ قرآن حکیم کا وعدہ: دنیا اور آخرت میں حیات طیبہ کا حصول
✔️ حضرت خالد بن سعیدؓ کا واقعہ‘ اتباع رسولؐ میں جہنم سے نجات کا حصول
✔️ نوجوان نسل کو برا بھلا کہنے کا رویہ درست نہیں ہے
✔️ ’’ذریةً‘‘میں نسبی اولاد کے ساتھ ساتھ قوم کے بچے اور تمام انسانیت شامل ہے
✔️ شیطان کا کام انسان کو مایوس کرنا اور ہمارا کام شیطان کو مایوس کرنا ہے
✔️ جماعت بنا کر پیغامِ قرآن کے پیغام کو پھیلانے کی اہمیت
✔️ سورہ بقرہ سے سورہ توبہ تک قرآن حکیم کے بنیادی مضامین کا تعارف
✔️ دورہ تفسیر کے بعد ہماری ذمہ داری؛ تعمیرِ سیرت اور دعوتِ قرآنی
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitu
تقریبِ رونمائی | شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری و آثارِ شیخ الہندؒ | مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
تقریبِ رونمائی دو کتب
1۔ شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری (اُردو)
(صحیح بخاری شریف کے ابواب کی تفہیم و تشریح)
تالیف: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ
2۔ آثارِ شیخ الہندؒ ؛ خطبات، مقالات و مکتوبات
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ (اُردو)
ترتیب، تحقیق و تخریج
حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
اظہارِ خیال : مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 7؍ محرم الحرام 1448ھ /23؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
فساد فی الارض، معاشی غارت گری اور نسل انسانی کی تباہی کے عالمی ”أَلَدُّ الْخِصَامِ“ کردار کا جائزہ | 03-07-2026
فساد فی الارض، معاشی غارت گری اور نسل انسانی کی تباہی کے عالمی ”أَلَدُّ الْخِصَامِ“ کردار کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 17؍محرم الحرام 1448ھ / 03؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِىۡ قَلۡبِہ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾ وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِى الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا وَيُهۡلِكَ الۡحَـرۡثَ وَالنَّسۡلَؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾
(2 –بقرہ: 204، 205)
ترجمہ : ” اور بعض آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر اور وہ سخت جھگڑالو ہے ۔ اور جب پھرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ اس میں خرابی ڈالے اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو “۔
حدیثِ نبویﷺ:
”إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ“. (سنن ترمذی، حدیث:2168)
ترجمہ : ” جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں (یعنی ظلم نہ روک دیں) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا عذاب لوگوں پر عام کر دے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ انسانی سماج کا تحلیل و تجزیہ اور قرآن کا بنیادی موضوع اور اُسلوبِ بیان
✔️ قرآنی اسلوب کے تحت خدمتِ انسانیت اور فساد انسانیت کے اجتماعی اعمال کا تجزیہ
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کے تناظر میں بظاہر عمدہ و اچھی باتوں کے پیچھے چھپے ہوئے انسانیت دشمن کردار کی پہچان ضروری ہے
✔️ ’’ألدّ الخِصام‘‘ کی وضاحت‘ نبوی دور کی مثال اور کردار کا جائزہ
✔️ زندہ معاشروں میں اختلافات اور متعلقہ سماجی فورمز پر اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دینے کا عمل لازمی اور جائز ہے
✔️ ’’الدّ الخِصام‘‘: انسانی سوسائٹی کی اقدار کو پامال کرنے والا اور انسانیت سے بغض رکھنے والا انتہا پسند ہے
✔️ فساد کے دو دائروں یعنی انسانی وسائل معاش اور نسلوں کو تباہی کرنے کی وضاحت
✔️ مریض کے لیے تکلیف دہ علاج اور کڑوی دوائی پلانے پر حضور اکرمﷺ کا ناگواری کا اظہار
✔️ ’’اخنس بن شریح‘‘ کا انسانیت دشمن اور فسادی کردار کے تناظر میں آفاقی قانون کی نشان دہی
✔️ دنیا کے ہر خطے کا اپنا اپنا قومی ”حرث“ ہوتا ہے
✔️ زرع و حرث میں بنیادی فرق اور اصل زارِع‘ اللہ تبارک و تعالیٰ
✔️ طائف کی زرعی معیشت اور مکہ کی تجارتی معیشت کا باہمی ربط
✔️ ہندوستان میں زراعت اور یورپی اقوام کی قدیم زمانے سے صنعت و حرفت میں مہارت
✔️ فساد؛ بدامنی، بدحالی، انسانی نسل اور معاشی وسائل کو تباہ و برباد کرنا
✔️ یورپین اقوام کا انسانی نسل اور معاشی وسائل کی تباہی کی ظالمانہ تاریخ کا خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں تجزیہ
✔️ سرمایہ داری نظام میں عمدہ اور خوشنما باتوں کے پیچھے نسل پرستی، انسانیت دشمنی اور لوٹ کھسوٹ پوشیدہ ہے
✔️ امریکہ میں بسنے والی مقامی آبادی ریڈ اینڈینز کی گوری نسل پرست اقوام کے ہاتھوں نسل کشی
✔️ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی شہنشاہیت کا ہندوستانی فصلوں اور نسلوں کی تباہی میں ظالمانہ کردار
✔️ موجودہ دور کے معاشی وسائل کے تناظر میں معدنیات، معدنی تیل اور سمندری وسائل بھی ”الحرث“ میں داخل
✔️ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر سامرا
یومِ عاشورہ، موسوی جدوجہدِ آزادی کی علامت: اسلامی ریاست کی تشکیل میں جماعتِ صحابہؓ، اہلِ بیتؑ اور مسلم خلفاء کا اجتماعی کردار | 26-06-2026
یومِ عاشورہ، موسوی جدوجہدِ آزادی کی علامت: اسلامی ریاست کی تشکیل میں جماعتِ صحابہؓ، اہلِ بیتؑ اور مسلم خلفاء کا اجتماعی کردار
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 10؍محرم الحرام 1448ھ / 26؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ۔ (9 –توبہ: 100)
ترجمہ : ” اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلی ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو ان کے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے“۔
2۔ ہُوَ الَّذِیۡ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ۔ (61- صف:9)
ترجمہ : ”وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ دے کر اور سچا دین کہ اس کو اوپر کرے سب دینوں سے اور پڑے برا مانیں شرک کرنے والے“۔
حدیثِ نبویہﷺ:
”أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ، فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ“. (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث:6018)
ترجمہ : ” میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ یوم عاشورہ ؛ آزادی و حریت کی موسوی جدوجہد کی یادگار
✔️ آزاد قومی ریاست کے قیام کے لیے حضرت موسیٰؑ کی نمونے کی جدوجہد بہترین
✔️ عاشورہ کے دن کے تناظر میں اقوام کی آزادی کے دن کی اہمیت
✔️ نبی اکرمﷺ کا یومِ عاشورہ کاروزہ رکھنے کا پسِ منظر اور مقصد و ہدف
✔️ جماعت کی اساس پر حکومت کا قیام کے لیے حضرت موسیٰؑ اور حضورؐ کی نمایاں جدوجہد
✔️ حضرت موسیٰؑ کی حکومت اور یوسفؑ، داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت کا بنیادی فرق
✔️ اسوۂ رسول اللہ؛ ابراہیمی اصولِ انسانیت کی اساس پر جماعت سازی وحکومت و ریاست کا قیام
✔️ سیاست و ریاست‘ دین اسلام اور محمدی نبوت کا لازمی جزو
✔️ تین سو سالہ غلامی کے نتیجے میں اقوام کی آزادی کے دن عاشورۂ محترم کو انتشار اور اختلاف کا دن بنا دیا گیا
✔️ یوم عاشورہ؛ اسوۂ حسنہ اور جماعتِ رسولؐ کی سیرت و کردار کو سمجھنے کا دن
✔️ جماعتِ صحابہ اور اہلِ بیت میں تفریق و انتشار‘ تین سوسالہ سامراجی و فرعونی نظام کا شاخسانہ
✔️ نبی اکرمؐ کی صحبت وتربیت سے پوری جماعتِ صحابہؓ کے نفوس، قلوب اور عقول مہذب ہوئے
✔️ امام شاہ اللہ دہلویؒ کے نزدیک علوم نبوت کی بارش قبول کرنے والے انسانوں کے تین درجے
✔️ علومِ نبوت کی بارش کی اساس پر صحابہ کا غلبۂ دین کے لیے اپنی استعداد کے مطابق کردار
✔️ جماعتِ رسول اللہﷺ پر الزام تراشیاں‘ آپؐ کے مشن سے بغاوت
✔️ روحوں کے لشکر اور ان کے ملاپ و اختلاف کی نوعیت
✔️ جماعت کی اجتماعیت کو توڑنے کے لیے شخصیت پرستی کا عمل درست نہیں!
✔️ صحابہ و اہل بیت کے کسی ایک فرد سے طبعی محبت لائقِ تحسین لیکن افتراق و انتشار کی غرض سے قابل مذمت
✔️ نبی اکرمؐ کی ریاست و سیاست کے استحکام کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا بے لاگ کردار
✔️ شریعت (قرآن)کی جمع و ترتیب اور نشر و اشاعت کے لیے خلفائے راشدین کی کاوشیں
✔️ سلوک و احسان؛ تربیت و تزکیہ کے امور کے لیے خلفاء کا کردار
✔️ حدیثِ نبویؐ کے مطابق شام میں قائم ہونے والی حکومت رسول اللہ کی ہی بین الاقوامی حکومت ہے
✔️ خلفائے ب
معاشی خودمختاری، خود انحصاری اور قومی خودداری کی دینی بنیادوں پر ملکی نظام کا قیام: وقت کی ناگزیر ضرورت | 19-06-2026
معاشی خودمختاری، خود انحصاری اور قومی خودداری کی دینی بنیادوں پر ملکی نظام کا قیام: وقت کی ناگزیر ضرورت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 3، محرم الحرام 1448ھ /19، جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ (38) وَ الَّذِیْنَ اِذَااَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ(39) وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(40) وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ(41) اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(42) وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ (43)
سورۃ الشوریٰ42: (38-43)
ترجمہ: اور وہ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور ان کا کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ دیا بھی کرتے ہیں، اور وہ لوگ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ پس جس نے معاف کر دیا اور صلح کر لی تو اس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو کوئی ظلم اٹھانے کے بعد بدلہ لے تو ان پر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا، بے شک یہ بڑی ہمّت کا کام ہے۔
خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
03:46 دینِ اسلام بطور جامع نظامِ ہدایت
07:57 منشائے خداوندی اور انسانی معاشرے سے گروہیت کا خاتمہ
10:02 معاشی وسائل پر تسلّط کا ردّ اور ان کی مساوی دستیابی کا الٰہی نظام
13:33 ’انسانیت‘ کا حقیقی مفہوم: انسانی صلاحیتوں کی درست نشاندہی اور ان کا اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال میں لانا
16:09 قیامِ اجتماعیت کے لیےنبوی جامع نظامِ تربیت کا کردار اور بطورِ نمونہ عقدِ مواخات کی مثال
17:38 قیامِ اجتماعیت میں تعاونِ باہمی کی اہمیت اور توکّل علی اللہ کے ساتھ اس کا ربط
22:39 رسول اکرمﷺ کا اعلیٰ نظامِ تربیت اور اس کا عمدہ ترین نمونہ جماعتِ صحابہؓ
26:12 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: خداوند تعالیٰ کی مکمل اطاعت کا اعلان اور نظامِ صلٰوۃ کا قیام
27:24 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: انسانی معاشرے میں رزق کی تقسیم کا مساوی نظام
30:19 دینی احکام (عبادات و معاملات) کے ذریعے اجتماعی شعور کے پروان اور قیامِ اجتماعیت کے اہتمام کا فروغ
31:01 غیر طبقاتی بنیاد پر اجتماعِ انسانیت کے قیام کی دینی ضرورت و اہمیت
34:55 اسوہ نبویﷺ میں عقدِ مواخات کے ذریعے انسانی آبادی اور تقسیمِ وسائل میں توازن کااہتمام
37:33 قومی خودمختاری کا حصول اور قومی وسائل پر انحصاری کا لازم و ملزوم ربط
39:12 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: مشاورت کے ذریعے رائے سازی کا نظام
41:46 اسلامی دنیا کے زوال کی بنیادی وجوہات: معاشی وسائل پر اغیار کا قبضہ اور آزاد رائے سازی کا فقدان
46:16 رسول اللہﷺ کے قائم کردہ معاشرے کے اہم ستون: معاشی خودمختاری اور آزاد رائے سازی کا اہتما
فتنہ شناسی ، قومی بیداری اور مزاحمتی جدوجہد کی قرآنی رہنمائی؛ دور حاضر کا اطلاقی جائزہ | 19-06-2026
فتنہ شناسی ، قومی بیداری اور مزاحمتی جدوجہد کی قرآنی رہنمائی؛ دور حاضر کا اطلاقی جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 3؍محرم الحرام 1448ھ / 19؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیہ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ۔ (8 –انفال: 60)
ترجمہ : ” اور تیار کرو ان کی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کرسکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر “۔
2۔وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔(8 –انفال: 61)
ترجمہ : ”اور اگر وہ جھکیں صلح کی طرف تو تو بھی جھک اسی طرف اور بھروسہ کر اللہ پر بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ ہر دور کے فتنوں سے بچنے کا واحد راستہ
✔️ فتنے کی قرار واقعی حیثیت
✔️ پر فتن دور میں فکری و عملی فتنوں سے بچاؤ کی نبوی رہنمائی
✔️ دین اسلام کا لازوال فکر
✔️ قرآنی فکر؛ قدیم و جدید ہر مادی فلسفے کا توڑ
✔️ دور زوال میں ولی اللہی محقق علماء کی کاوشیں
✔️ یورپ آپ کی دھرتی اور نیشنل ازم کا دشمن
✔️ ایک جفرافیے میں بسنے والی اقوام
✔️ جلا وطنی اور قوم کو غلام بنانا‘ بہت بڑا جرم
✔️ ولی اللہی جماعت کا اعزاز‘ دور کے دشمن کی پہچان پیدا کرنا
✔️ خطبہ کی مرکزی آیت میں دشمن کے مقابلے کے لیے طاقت تیار کرنے کا حکم
✔️ دور زوال میں نوجوان طاقت کا سامراجی استعمال اور سامراج دشمن قوتوں سے مقابلے کی حکمت عملی
✔️ فتویٰ دار الحرب؛ دشمن طاقت سے مزاحمت کی حکمت عملی
✔️ ولی اللہی جماعت کا فکری اسلوب اور عملی جدوجہد کا طریقہ کار
✔️ اکابرین علمائے دیوبند اور تحریک جدوجہد آزادی
✔️ ایران کی قومی مزاحمت اور بین الاقوامی سفارت کاری نے امریکہ کو مذاکرات پر مجبور کیا
✔️ پاکستان کی سیاسی حکومت اور مقتدرہ ایران امریکہ معاہدہ میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد کی مستحق
✔️ پاکستان کو ایران کے ساتھ سیاسی و معاشی تعلقات بحال کرنے چاہیے
✔️ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی ، جغرافیائی اور ثقافتی تعلقات ہیں
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
قرضہ کی تباہ کن معیشت کے بالمقابل تعاون باہمی اور منصوبہ بندی کے دینی اصولوں پر سماجی تعمیرِ نو کی ضرورت واہمیت | 12-06-2026
قرضہ کی تباہ کن معیشت کے بالمقابل تعاون باہمی اور منصوبہ بندی کے دینی اصولوں پر سماجی تعمیرِ نو کی ضرورت واہمیت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 26؍ ذی الحجہ 1447ھ / 12؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ (39) اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ (40) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(41)
سورۃ (الروم 30: 39-41)
ترجمہ: ”اور جو سود پر تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے، سو اللہ کے ہاں وہ نہیں بڑھتا۔ اور جو زکوٰۃ دیتے ہو جس سے اللہ کی رضا چاہتے ہو، سو یہ وہی لوگ ہیں جن کے دُونے ہوئے۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر تمہیں مارے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے معبودوں میں سے کبھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکے؟ وہ پاک ہے اور ان کے شریکوں سے بلند ہے۔ خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں“۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
05:18 انسانی معاشرے کی بنیاد: تعاونِ باہمی
08:35 سرکش اور طاغوت کی علامتیں
10:14 صالح اور فاسد تمدن کی پہچان
39:54 غیر متوازن اور طبقاتی معیشت کی اصل خرابی
12:59 قرضائی معیشت کی بنیاد اور اس کی تباہ کاریاں
15:59 قرضوں میں ڈوبی ہوئی پاکستانی معیشت کی زبوں حالی
19:46 قرضائی معیشت کے انسانیت پر فرسودہ اثرات
24:22 رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں قرض سے بچاؤ کا تذکرہ اور صحابہ کو اس کی تعلیم دینا
27:06 احادیث نبویہﷺ کی روشنی میں مقروض کی اخلاقی کیفیت کا ذکر
29:50 معاشی تنگدستی کا اجتماعی اخلاقیات پر اثر
32:00 عالمی مالیاتی اداروں کا ملکی معاشی نظام پر قبضے کا منظم طریقہ کار
35:53 ملک پر مُسلّط قرضائی معیشت کے وسیع تر منفی اثرات
38:22 قرضائی معیشت سے نکلنے کا بنیادی اصول
39:54 حضرت عمرِ فاروقؒ کے دور میں عراقی زمینوں کی تقسیم کا دانش مندانہ فیصلہ
44:02 معاشی نظام میں منصوبہ بندی کی اہمیت اور حضرت عمرفاروق رضی اللّٰه عنہ کا اُسوہ
49:04 وسائلِ دولت کی عادلانہ تقسیم کا قرآنی اصول اور اجماعِ امت
54:48 ملکی وسائلِ دولت کی بجائے قرضائی معیشت پر قائم معاشی نظام کی فرسودگی
58:22 مُقتدرہ کے لیے ایرانی قومی سیاسی نظام سے آزادی اور قومی حمیّت کا سبق سیکھنے کی ضرورت و اہمیت
01:01:30 موجودہ دور کی ذمہ داریوں کا تعیّن اور مستقبل کے حوالے سے مایوسی کی بجائے درست لائحہ عمل کی ضرورت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ م
سودی استحصال اور مغرب کی انسان دشمنی کے بالمقابل قرآن حکیم کے راست تر نظامِ ھدایت کی جامع شعوری دعوت | 12-06-2026
سودی استحصال اور مغرب کی انسان دشمنی کے بالمقابل قرآن حکیم کے راست تر نظامِ ھدایت کی جامع شعوری دعوت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 26؍ذوالحجہ 1447ھ /12؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
1۔ اِنَّ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ يَهۡدِىۡ لِلَّتِىۡ هِىَ اَقۡوَمُ وَ يُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا ۙ
(17 –الإسراء:09)
ترجمہ: ”یہ قرآن بتلاتا ہے وہ راہ جو سب سے سیدھی ہے اور خوشخبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو عمل کرتے ہیں اچھے کہ ان کے لیے ہے ثواب بڑا‘‘۔
2۔ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَـكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ
ترجمہ:”اور ہم نے تم کو جگہ دی زمین میں اور مقرر کریں اس میں تمہارے لئے روزیاں تم بہت کم شکر کرتے ہو“۔
(07 –الأعراف:10)
*خطبے کی رہنما احادیثِ نبویﷺ:*
1۔ ”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (صحیح بُخاری، حدیث: 5027)
ترجمہ: ”تُم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔
2۔ الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْعَيْشِ“. (مسند الشہاب، حدیث:33)
ترجمہ: ” خرچ میں میانہ روی نصف زندگی ہے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔ قرآن حکیم کے حقائق پر غور و فکر کرنا‘ ایک سچے مسلمان کی نشانی
✔ کتاب مقدس سے قلبی، عقلی و شعوری اور عملی تعلق لازمی و ضروری
✔ مسلمان کا بنیادی فریضہ؛ چار دائروں میں قران حکیم کا فہم و شعور حاصل کرنا
✔ حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائپوری نور اللہ مرقدہ کا قرآن فہمی کے لیے دورۂ تفسیر قرآن کا آغاز کرنا
✔ دورۂ تفسیر قرآن حکیم کی چند اہم خصوصیات
✔ قرآن حکیم کے نہ ختم ہونے والے عجائبات، مفاہیم اور بطون
✔ کلام الٰہی کے مفاہیم کی فہم اور عملی اطلاقات کرنے والے ماہر قانون دان اور محقق علماء کی بنیادی خصوصیات
✔ کتب مقدسہ کی اقدار اور قوانین کی روح ختم ہونے کی بنیادی وجہ
✔ قران حکیم و احادیث نبویہ‘ تمام انسانی اقدار و اخلاق کا عملی نظام
✔ تمہیدی گفتگو کے تناظر میں خطبہ کی مرکزی آیت کی تشریح
✔ انسانی معاشرے کے اَقوَم (راست تر) نظام کی قرآنی ہدایت و رہنمائی
✔ عقل، قلب اور نفس کا قِوام؛ عدل و انصاف اور اعتدال و توازن
✔ قران کا حکیم کا بنیادی موضوع بحث
✔ ہر دائرے کے درست قِوام سے متعلق قرآن حکیم کی ہدایات اور خوشخبریاں
✔ الٰہی تعلیمات اور انسانی اقدار سے عاری یورپ کی انسان دشمنی اور قتل و غارت، معاشی لوٹ کھسوٹ کی سیاہ کاریوں کی تاریخ
✔ مشرقِ وسطی اور ایشیا کے خطے علم اور اخلاق کا مرکز
✔ زر کی اساس پر سودی اور قرضوں کی معیشت کا ظالمانہ نظام
✔ 80 سال سے سودی اور قرضوں پر مبنی خسارے کے بجٹ کا تاریخی جائزہ
✔ زراعت، تجارت اور صنعت کی تباہی کے ساتھ قرضوں کا معاشی نظام‘ خوشحالی کا ضامن کیسے؟
✔ ملکوں کے وسائل لوٹنے کے لیے جنگیں مسلط کرنے کا انسانیت دشمن عالمی ہتھکنڈا
✔ فرعونی و ہامانی کرداروں کے حامل سفاک و ظالم حکمران
✔ انسانی اقدار و اخلاق پر مبنی قرآن کا طریقۂ راست تر کی روگردانی کا نتیجہ
✔ قرآن حکیم کی شعوری دعوت، مسلمان کا بنیادی فریضہ اور دورۂ تفسیر قرآن حکیم
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئ
بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں | 05-06-2026
بےبس اقوام کی پکار اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور منظم طاقت کی ضرورت، قرآن کے پیغامِ فکر و عمل کے تناظر میں
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 19؍ذوالحجہ 1447ھ /05؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَﭤ(62)۔
(27 –النمل:62)
ترجمہ: ”بھلا کون پہنچتا ہے بےکس کی پکار کو جب اس کو پکارتا ہے اور دور کردیتا ہے سختی اور کرتا ہے تم کو نائب اگلوں کا زمین پر اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تم بہت کم دھیان کرتے ہو‘‘۔
خطبے کی رہنما حدیثِ نبویﷺ:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَ قَالَ:" اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ‘‘۔
ترجمہ : ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب (عامل بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا‘‘۔
[صحيح البخاري‘ حدیث: 2448]
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآنِ حکیم کا کمال؛ انسانی اجتماعیت کے جملہ پہلوؤں کی واضح تفہیم
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں اللہ کو پکارنے والے مضطرّ (بےبس مظلوم) کی دعا کی قبولیت کا بیان
✔️ بےبس اور مظلوم انسانوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے
✔️ دعا کی قبولیت کے بنیادی اصول، شرائط اور اسوۂ نبویؐ
✔️ متنوّع و مختلف مزاجوں کے مجتمعِ انسانی میں مزاحمت و جدوجہد کی نا گُزِیرِیت
✔️ اجتماعی طاقت و قوت ضرور نتیجہ پیدا کرتی ہے
✔️ کرۂ ارض میں نسلِ انسانی کی بقاء و حفاظت کے لیے ارضی خلافت کا نظام
✔️ انبیاءؑ کا بقاءِ انسانیت، ظلم کے خاتمے کے لیے پکار، جدوجہد اور بے لاگ کردار
✔️ مظالم، فتنوں اور مصائب کے دور میں مضطرّ قوم کو اجتماعیت قائم کرنے اور مزاحمتی جدوجہد کا حکم
✔️ تین دعائیں‘ تین لوگوں کے حق میں قبول ہونے کا بنیادی راز
✔️ سفر میں اجتماعیت اختیار کرنے کا حکم
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا واضح پیغام اور بےبس اور مظلوم قوم کی حالتِ زار
✔️ ظالمانہ بجٹ اور اشرافیہ کی عیاشیاں‘ ایک جائزہ
✔️ آمرانہ نظام میں عورت کی حکمرانی‘ ملک و قوم کی تباہی کا پیش خیمہ
✔️ آج کا المیہ؛ مظلوم انسانیت قرآن کے مزاحمتی پکار سے غفلت و لاپرواہی
✔️ ظلم و جبر کے ماحول اور غلامی کے دور میں حضرت شیخ الہندؒ کی پکار اور انتھک جدوجہد
✔️ ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے اجتماعی طاقت پیدا کرنے والی اقوام کا خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں جائزہ
✔️ ظلم و جبر اور بے بس کی اضطراری حالت ختم نہ ہونے کی بنیادی وجہ اور قرآن کا شعوری پیغام فکر و عمل
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
ملت ابراہیمی اور اس کے نمائندہ نظامِ محمدی ﷺ کی روشنی میں "مہذب فاتح" کے صلیبی اور صہیونی بیانیے کا جائزہ | 29-05-2026
ملت ابراہیمی اور اس کے نمائندہ نظامِ محمدی ﷺ کی روشنی میں "مہذب فاتح" کے صلیبی اور صہیونی بیانیے کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 12؍ ذی الحجہ 1447ھ /29 ؍مئی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(67) اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا-وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ(68) وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ-وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّا اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(69) یٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ(70) یٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ (71)
سورۃ آلِ عمران 3 (67-71)
ترجمہ : ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، لیکن سیدھے راستے والے مسلمان تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ لوگوں میں سے سب سے زیادہ قریب ابراہیم کے وہ لوگ تھے جنہوں نے اس کی تابع داری کی اور یہ نبی اور جو اُس نبی پر ایمان لائے، اور اللہ ایمان والوں کا دوست ہے۔ بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کِسی طرح تم کو گمراہ کر دیں، اور گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجھتے۔ اے اہلِ کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم گواہ ہو۔ اے اہلِ کتاب! سچ میں جُھوٹ کیوں ملاتے ہو؟ اور سچی بات کو چھپاتے ہو؟ حالانکہ تم جانتے ہو۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔️ حضرت ابراہیمؑ کے دینِ حنیف کی خصوصیات
✔️ حضرت ابراہیمؑ کا جامع جماعتی کردار
✔️ دینِ حنیف کی حقیقی وارث: شریعت محمدیﷺ
✔️ ابراہیمی دعا کی قبولیت اور رسول اللہﷺ کی بعثت
✔️ ملّتِ ابراہیمی کے حقیقی مصداق: قرآن میں مذکور تین طبقات
✔️ صیہونیت و صلیبی طاقتوں کے بالمقابل مسلمانوں کے عظیم الشان غلبہ کی عادلانہ تاریخ
✔️ دجل و فریب پر مبنی ابراہیمی معاہدے کا تجزیہ
✔️ مغربی ممالک کا دجل پر مبنی انسانی حقوق کے پُر فریب عنوان کا استعمال
✔️ اسرائیلی ریاست کے قیام کی تاریخ اور اس کے پسِ پردہ سامراجی ممالک کے مذموم مقاصد
✔️ دین ابراہیمی حنیفی کی اصل حقیقت اور موجودہ دور میں اس کو سمجھنے کی اہمیت
✔️ سامراجی ممالک کا ابراہیمی معاہدہ کے پُر فریب عنوان کے ذریعے ملمع سازی کا طریقہ کار
✔️ دینِ ابراہیمی کو قائم کرنے والی جماعت کے چار بنیادی اصول
✔️ مروجہ مذہبی راہنماؤں کی طرف سے سامراجی ممالک کو مہذّب فاتح قرار دینے کا پروپیگنڈہ اور دینِ اسلام کی عادلانہ تاریخ کا موازنہ
✔️ سامراجی ممالک کا غدّاروں کے ذریعے اپنے مفادات کی تکمیل کا طریقہ کار اور موجودہ حالات کا تجزیہ
✔️ مروجہ مذہبی راہنماؤں کی سامراجی ممالک سے مفادات کی بنیاد پر مرعوبانہ ذہنیت
✔️ سامراجی ممالک کی استحصالی تاریخ اور عقل و شعور کی بنیاد پر تجزیہ کی ضرورت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
سفلی خواہشات پر مبنی انتشار پسند عالمی سیاسی اور معاشی تسلط سے نجات اور عادلانہ الہی نظام ہدایت کی اہمیت | 29-05-2026
سفلی خواہشات پر مبنی انتشار پسند عالمی سیاسی اور معاشی تسلط سے نجات اور عادلانہ الہی نظام ہدایت کی اہمیت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 12؍ذوالحجہ 1447ھ /29؍ مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ-وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ (50)۔
(28 –القصص:50)
ترجمہ: ”پھر اگر نہ کر لائیں تیرا کہا، تو جان لے کہ وہ چلتے ہیں نری اپنی خواہشوں اور اس سے گمراہ زیادہ کون جو چلے اپنی خواہش پر بدون راہ بتلائے اللہ کے، بیشک اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو‘‘۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ دنیوی و اخروی کامیابی میں نظم و ضبط اور مربوط نظام کا کردار
✔️ ذہنی انتشار‘ حنیفیت کی ضد نیز فکر و عمل کی یکسوئی کے لیے ابراہیمی انبیاءؑ کا منظم کردار
✔️ کائنات کا فلکیاتی و ارضیاتی نظام‘ اعلی ڈسپلن کا مظہر
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں خواہشات کے قیدی انسانوں کو انذار و تنبیہ
✔️ قرآنی اصطلاح ’’ھویٰ‘‘ کی وضاحت
✔️ انسانیت کی بحالی اور مَلَکیّت و بھیمیّت کا شرف کے لیے نظام کی ناگزیریت
✔️ شرفِ انسانیت سے گرے ہوئے جانوروں سے بدتر خواہش پرست انسانوں کی حالت
✔️ گمراہ ترین انسان اور ’’ھویٰ بغیر ھدی من اللہ‘‘ کی نشان دہی
✔️ حدیث میں گھوڑا (سواری) کی مثال سے ”ھویٰ بغیر ھدی من اللہ“ کی توضیح
✔️ ’’ھویٰ‘‘ (خواہشات) کو ڈسپلن میں لانا‘ اللہ کی ہدایات کو ماننا و تسلیم کرنا ہے
✔️ خواہش پرست (ظالم قوم) ہدایت سے محروم
✔️ ظلم و عدل کی تعریف نیز شرک کے ظلمِ عظیم ہونے کا مطلب
✔️ ایک زمانے میں دو رسول ماننا بھی بڑا ظلم اور خواہش پرستی
✔️ رسول اللہﷺ کی ہدایت کے مطابق نظام نہ بنانا‘ ظلم اور ھویٰ بغیر ھدی من اللہ
✔️ قوم کی تعمیر و تشکیل کے لیے نبی اکرمؐ کا نظامِ اقترابات و ارتفاقات
✔️ فطری جغرافیے کی اساس پر اقوام کی شناخت، خود مختاری اور عدل و انصاف کے لیے نبی اکرمؐ کا کردار
✔️ اقوام کے بننے اور پروان چڑھنے کے محرکات، عناصر اور عوامل
✔️ بغیر سر زمین کے قوم کا تصور‘ خود ساختہ یورپی تصورات کا شاخسانہ
✔️ دینِ اسلام کے حقائق کی روشنی میں خواہشات پر مبنی تصوراتی اسلام کا جائزہ
✔️ نمازِ جمعہ و عید کے اجتماعات کی اصل حقیقت
✔️ اقوام کا خود مختاری، عدل و انصاف کے لیے کردار ادا نہ کرنا‘ ظلم اور خواہش پرستی
✔️ حج کی عبادت میں خواہش پرستی اور ظالمانہ سرمایہ پرستی کے قومی و عالمی مفادات
✔️ سیاسی و معاشی و سماجی خرابیاں‘ انفرادی خواہشات سے زیادہ بدتر !
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں علمی طور پر حقائق پسند اور خواہش پرست معاشروں کا تجزیہ
✔️ ایران، امریکہ جنگ کے تناظر میں خواہشات کے علی الرغم خطوں اور علاقائی اقوام کو سیاسی و معاشی امور میں اجتماعی نظام قائم کرنے کی قرآنی دعوت اور نبوی ہدایات
✔️ خطوں کی بندر بانٹ کرنے والی خواہش پرست اقوام و عناصر کی نشان دہی
✔️ علم و شعور اور اسلام کے نظام کو سمجھنا‘ سچے مسلمان کا دینی فریضہ
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@r
عشرۂ ذی الحجہ میں تعظیمِ شعائر، تکبیرِ ربّ کی اہمیت اور عبادتِ قربانی کی حقیقت | 22-05-2026
عشرۂ ذی الحجہ میں تعظیمِ شعائر، تکبیرِ ربّ کی اہمیت اور عبادتِ قربانی کی حقیقت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 5 ذی الحجہ 1447ھ/ 22 ؍مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ- فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ- وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘- وَ اتَّقُوْنِ یٰاُولِی الْاَلْبَابِ.
سورۃ البقرۃ (2:197)
ترجمہ: حج کے چند مہینے معلوم ہیں۔ سو جو کوئی ان میں حج کا قصد کرے تو مباشرت جائز نہیں، اور نہ گناہ کرنا، اور نہ حج میں لڑائی جھگڑا کرنا۔ اور تم جو نیکی کرتے ہو، اللہ اس کو جانتا ہے۔ اور زادِراہ لیا کرو، اور بہترین زادِ راہ پرہیزگاری ہے۔ اور اے عقل مندو! مجھ سے ڈرو۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
✔ عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت
✔ شعائراللہ کا مفہوم اور عظمت
✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: رسول اللہﷺ سے محبّت
✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: قرآنِ حکیم کی عظمت
✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: بیت اللہ کا احترام
✔ شعائرِ اربعہ کا تعارف: اِقامتِ صلوٰۃ
✔ قلوب میں عظمتِ الٰہی اجاگر ہونے کا لازمی نتیجہ: غیر اللہ کی مرعوبیت سے نجات
✔ عشرہ ذی الحج میں تکبیراتِ تشریق کا مقصد
✔ تکبیراتِ تشریق کے ذریعے ایمان اور نظریے کی مضبوطی کا اہتمام
✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: قربانی بطور جانی (نفس) عبادت
✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: قربانی بطور ایک مستقل عبادت
✔ قربانی سے متعلق مغالطوں کا ردّ: خون بہانے کا اہتمام
✔ عشرہ ذی الحجہ بطور ایّامِ تربیت
✔ عبادات میں مساوات کی اہمیت
✔ فلسفہ قربانی کے اِحیاء کی ضرورت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
حجِ بیت اللہ کا محمدیﷺ نظام: ملتِ ابراہیمی کے عالمگیر غیر طبقاتی اقترابی و ارتفاقی مقاصد کے تناظر میں | 15-05-2026
حجِ بیت اللہ کا محمدیﷺ نظام: ملتِ ابراہیمی کے عالمگیر غیر طبقاتی اقترابی و ارتفاقی مقاصد کے تناظر میں
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ:27 ذی قعدہ 1447ھ / 15؍مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْقَآىٕمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(26) وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ(27) لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ-فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىٕسَ الْفَقِیْرَ٘ (28) ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ(29) سورۃ الحج (22: 26-29)
ترجمہ: اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے کعبہ کی جگہ معیّن کر دی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سُجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھ۔ اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پاپیادہ اور پتلے دُبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں، تاکہ اپنے فائدوں کے لیے آ موجود ہوں اور تاکہ جو چوپائے اللہ نے انہیں دیے ہیں، ان پر مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں۔ پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔ پھر چاہیے کہ اپنا مَیل کُچیل دُور کریں اور اپنی نذریں پُوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔️ امتِ محمدیہﷺ کے ذریعے ملتِ حنیفیت کی تکمیل
✔️ ملتِ حنیفت کے دو دائرے: اقترابات اور ارتفاقات
✔️ بیت اللہ الحرام بطور ملتِ حنیفیت اور بین الاقوامیت کا مرکز
✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: توحید کا قیام اور شرک کا ردّ
✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: ظاہری و باطنی پاکیزگی کا حُصول
✔️ بیت اللہ الحرام کے مقاصدِ قیام: انسانیت کا بین الاقوامی مرکز
✔️ حدیثِ نبویﷺ کی وضاحت اور جہاد کے ساتھ حج کی مماثلت
✔️ حج بطور ایک انسانیت گِیر غیر طبقاتی اجتماع
✔️ خطبہ حجۃ الوداع میں عالمی مساوات کا اعلانِ عام
✔️ ملّتِ ابراہیمی کے اعمال کا شریعتِ محمّدیہ ﷺ میں ارکانِ حج کے طور پر محفوظ ہونا
✔️ ملّت ابراہیمی کی حقیقی وارث: اُمتِ محمدیہ ﷺ
✔️ حج بطور ایک عالم گِیر اجتماعی عبادت
✔️ حج مبرور کی حقیقت
✔️ حضرت عمرؓ کا حج کی رسمیّت کی تردید اور مقصدیّت کی طرف متوجہ کرنا
✔️ حضرت ابوبکرؓ کا بطور امیرِ حج تقرر اور معاہدات سے متعلق اعلانِ عام
✔️ مقصدیّتِ حج کے اِحیاء کی ضرورت و اہمیت
✔️ اسلامی عبادات میں اجتماعیت کی رُوح اور اس کی اہمیت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
خطبۂ عید الاضحٰی 1447ھ / 2026ء | مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
خطبۂ عید الاضحٰی
حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 10؍ ذوالحجہ 1447ھ / 27؍ مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
نظامِ حج و قربانی: شعائر اللہ کے احترام ، تعلق مع اللہ اور روحانی ترقی کی اہمیت اور دورِ حاضر کے فتنوں کا جائزہ | 22-05-2026
نظامِ حج و قربانی: شعائر اللہ کے احترام ، تعلق مع اللہ اور روحانی ترقی کی اہمیت اور دورِ حاضر کے فتنوں کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 05؍ذوالحجہ 1447ھ /22؍ مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ۔
(22 –حج:32)
ترجمہ : ”اور جو کوئی ادب رکھے اللہ کے نام لگی چیزوں کا سو وہ دل کی پرہیزگاری کی بات ہے“۔
2۔ وَ الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ۔
(22–حج:36)
ترجمہ: ”اور کعبہ کے چڑھانے کے اونٹ ٹھہرائے ہیں ہم نے تمھارے واسطے نشانی اللہ کے نام کی تمھارے واسطے اس میں بھلائی ہے“۔
حدیث نبویﷺ:
”الْأَضَاحِيُّ: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ“. (سنن ابن ماجہ:3127)
ترجمہ: ”قربانیاں: تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔ تعلق مع اللہ کے تناظر میں ذی الحج کی اہمیت
✔ حج بیت اللہ کی ادائیگی انسانی قلوب کے قصد، ارادہ اور نیت کی درستگی کے لیے ہے
✔ پچھلے جمعہ المبارک کے خطبے سے ربط
✔ حجابات کے توڑنے اور تعلق مع اللہ کے قائم کے لیے دیا گیا نظام شریعت
✔ حج بیت اللہ کی ادائیگی استطاعت کے ساتھ وابستہ ہے
✔ استطاعت کا دوسرا درجہ قربانی اور تیسرا درجہ تکبیرات تشریق ہے
✔ شریعت محمدیہ میں انسانی روح یعنی نسمہ کو بہیمی تقاضوں سے پاک کرنا اور ملکی تقاضوں کے تحت ذات باری تعالی سے تعلق قائم کرنا ضروری ہے
✔ شریعت محمدیہ میں روح کی پاکیزگی کے لیے حلال جانوروں کے کھانے کی اجازت
✔ حلال جانوروں کی ارواح کا تعلق بھی عالم ارواح سے ہے
✔ عالم ارواح کی نمائندگی کرنے والے شعائر اللہ کی اہمیت
✔ ملکوتی نظام کی جانب سے آنے والے روحانی فیضان کی بدولت شعائر اللہ کی خصوصیات
✔ قربانی کے لیے حرم پاک کی طرف لے جائے جانے والے جانوروں کی عظمت اور اہمیت
✔ انسانی روح کی ترقی کے لیے حلال جانور کے ذبح کی ضرورت و اہمیت
✔ امام شاہ ولی اللہ کے نزدیک عظمت الٰہی کے اظہار کے تین طریقے (ذکر، خشوع خضوع، فعل)
✔ قربانی کا فعل عظمت الٰہی کے اظہار کا اونچا ترین درجہ ہے
✔ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل کا عظیم ترین قربانی کا عمل
✔ حدیث نبوی ص کے تناظر میں قربانی کے جانور کو خوب کھلانے پلانے کی اہمیت
✔ ملت طبیعیین اور ملت نجامین کے تناظر میں غیر اللہ کے لیے کیے گئے ذبیحہ کی حرمت
✔ قربانی کے پیسوں کی ادائیگی ذبیحہ کا متبادل نہیں ہے
✔ قربانی کرنا افضل ترین اعمال میں سے ہے
✔ احادیث نبویہ کو ان کے مکمل فریم ورک اور نظام کے تحت سمجھنا ضروری ہے
✔ دور حاضر میں پیدا ہونے والے فتنوں کا بیان
✔ حج بیت اللہ کے انتظامات کرنے والی اتھارٹی کی ذمہ داریاں، امیر حج ہونے کے تناظر میں
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
حجِ بیت اللہ: تعظیم شعائر اللہ، تزکیۂ نفس اور فلاحِ انسانیت کے جامع نظام عبادت کی اہمیت | 15-05-2026
حجِ بیت اللہ: تعظیم شعائر اللہ، تزکیۂ نفس اور فلاحِ انسانیت کے جامع نظام عبادت کی اہمیت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 27؍ ذوالقعدة 1447ھ /15؍ مئی 2026ء
بمقام : مدرسہ رحیمیہ دارالقرآن آئی ٹن ون اسلام آباد
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕ۔ (2 –بقرہ:197)
ترجمہ : ”حج کے چند مہینے ہیں معلوم پھر جس نے لازم کرلیا ان میں حج تو بےحجاب ہو ناجائز نہیں عورت سے اور نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا حج کے زمانہ میں اور جو کچھ تم کرتے ہو نیکی اللہ اس کو جانتا ہے“۔
2۔ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا۔ (3 –آل عمران:97)
ترجمہ : ”اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا اس گھر کا جو شخص قدرت رکھتا ہو اس کی طرف راہ چلنے کی“۔
حدیث نبویﷺ:
” مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ“. (صحیح بخاری:1820)
ترجمہ : ” جس نے اس گھر کا حج کیا اور نہ شہوت کی فحش باتیں کیں، نہ گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00:00 آغاز
0:05:18 مسخ شدہ اَدیان کے ماحول میں جامع و کامل دین کا نزول
0:06:56 اسلام کے علاوہ کوئی دین اور نظام قابل قبول نہیں!
0:08:12 جسمانی و روحانی امراض کو دور کرنے کا الہی نظام
0:16:11 جسم و روح کو مُعطّر کرنے والی نفحاتِ الہی
0:12:47 جسمانی و ذہنی علاج کا یومیہ و ہفتہ وارانہ اجتماع
0:23:33 سال بھر کے حجابات توڑنے کے لیے روزوں کی فرضیت
0:24:11 عمر بھر کی کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے حج کی مشروعیت
0:26:45 خطبے کی مرکزی آیات و احادیث کی روشنی میں فریضۂ حج کی توضیح
0:41:00 حج میں رفث، فسوق اور جدال کی ممانعت
0:53:11 انسانی خیر و بھلائی کے کاموں سے اللہ باخوبی واقف
0:56:07 حج کے لیے سامانِ سفر ضروری نیز بہترین زاہِ راہ تقویٰ
0:58:24 ایامِ حج کے مخصوص اعمال و افعال
1:00:45 شعائر اللہ، حدودِ حرم اور احکاماتِ الہی
1:05:53 حضرت ابراہیمؑ کا خواب، شیطانی وسوسے اور قربانی کی مشروعیت
1:15:31 صفا و مروہ کی سعی؛ حضرت ہاجرہ کی سنت کا احیاء
1:18:48 حج کے افعال و مقامات کی نورانیت نیز یوم النحر کی نبوی سنت
1:21:21 قربانی کے جانور کا گوشت باعثِ برکت
1:23:21 خطبے کی مرکزی حدیث کی وضاحت
1:25:24 عرفات کے اجتماع کی ولی اللہی حکمت
1:29:58 حج کی سعادت حاصل کرنا بڑی خوش نصیبی!
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تمدّن، امن اور بِلا تفریق معیشت کا ارتفاقی نظام: ملّتِ ابراہیمی کی روشنی میں سماجی تشکیل سے اجنبی مذہبی تصور کا جائزہ | 08-05-2026
تمدّن، امن اور بِلا تفریق معیشت کا ارتفاقی نظام: ملّتِ ابراہیمی کی روشنی میں سماجی تشکیل سے اجنبی مذہبی تصور کا جائزہ
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ:20 ذی قعدہ 1447ھ / 8 ؍مئی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(126)
سورۃ البقرۃ (2:126)
ترجمہ: اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے ربّ! اسے امن کا شہر بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق دے جو کوئی ان میں سے اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے۔ فرمایا: اور جو کافر ہو گا سو اسے بھی تھوڑا سا فائدہ پہنچاؤں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب میں دھکیل دوں گا، اور وہ بُرا ٹھکانہ ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ ملّتِ حنیفیت کی تعلیمات میں جامعیت
✔ دینِ اسلام کی تعلیمات میں دین و دنیا کی ترقی کا تصور
✔ دُعا کا عملی جدوجہد کے ساتھ گہرا ربط
✔ مزاحمت سے بھرپور جدوجہد کا ابراہیمی اُسوہ
✔ حضرت ابراہیمؑ کا نئے تمدن کی تشکیل میں کردار
✔ تمدّن کا پہلا بنیادی تقاضا: امن و امان
✔ نبوّت کا وسیع سماجی دائرہ کار
✔ تمدّن کا دوسرا بنیادی تقاضا: عادلانہ معاشی نظام
✔ انبیائے کرامؑ کی دعوت کا پہلا اثر: انسانی معاشرے کی ترقی
✔ بِلا تفریق مذہب معاشی وسائل کی تقسیم کا مساوات پر مبنی اسلامی نظام
✔ اسلامی سیاسی نظام میں ذِمّی کے حقوق
✔ ملّتِ ابراہیمی حنیفی: ارتفاق اور اقترابِ الٰہی کی جامعیت کا حسین امتزاج
✔ دینِ اسلام میں ظلم کے خلاف مزاحمت کے تصورکی اہمیت
✔ دُنیوی زندگی کا تسلسل: اُخروی زندگی
✔ موجودہ دور میں مزاحمتی تحریک کی شعوری جدوجہد کی ضرورت و اہمیت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
استخفافِ قوم‘‘ کے سرمایہ دارانہ ملمع کار فرعونی بیانیہ کے خلاف علم و عدل پر مبنی دینی مزاحمت کی ضرورت و اہمیت | 08-05-2026’’
’’استخفافِ قوم‘‘ کے سرمایہ دارانہ ملمع کار فرعونی بیانیہ کے خلاف علم و عدل پر مبنی دینی مزاحمت کی ضرورت و اہمیت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 20؍ ذی قعدہ 1447ھ / 08؍ مئی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (43 – الزّخرف: 54)
ترجمہ : ”پھر عقل کھو دی اپنی قوم کی، پھر اسی کا کہنا مانا مقرر وہ تھے لوگ نافرمان“۔
حدیث نبویﷺ:
”إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مَا شَاءَ وَهُوَ مُقِيمٌ عَلَى مَعَاصِيهِ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ اسْتِدْرَاجٌ مِنْهُ لَهُ“. (تفسیر ابن أبی حاتم: 10/ 3284 )
ترجمہ: ” جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ (کسی) بندے کو اس کی خواہش کے مطابق (دنیا کی نعمتیں) عطا فرما رہا ہے حالانکہ وہ گناہوں پر قائم (بضد) ہے، تو (سمجھ لو کہ) یہ اللہ کی طرف سے اس کے لیے ”استدراج“ (ڈھیل دیا جانا اور رفتہ رفتہ پکڑ کی طرف لے جانا) ہے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ علم و عدل پر مبنی تعلیماتِ انبیاءؑ اور بعثت کا مقصد و ہدف
✔️ ظلم و جہالت کے در پردہ عدل اور علم کی ملمع کاری سے انسانیت یرغمال
✔️ سورۂ زخرف کا بنیادی موضوع؛ ظلم و جہالت کی ملمع کاری سے کا پردہ چاک کرنا
✔️ حقائق کے منافی علمی بیانیے، آراء و اعمال اور غلط فیصلوں کے نتائج
✔️ عمل سے پہلے عزم اور ارادہ ضروری نیز بنی اسرائیل کی غلامی کی بنیادی وجہ
✔️ حضرت موسیٰؑ کی بنی اسرائیل کی آزادی کے لیے علم و عدل پر مبنی جدوجہد
✔️ فرعون کا گمراہ کن اور ظالمانہ کردار اور (فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ) میں اس کے اپنی قوم کو بے شعور اور گمراہ کرنے کی طرف اشارہ
✔️ (فَاَطَاعُوْهُ) میں قوم کا پست ذہنیت کی اساس پر جھوٹے فرعونی بیانیے کو تسلیم کرنے کا ذکر
✔️ سیاسی شناخت اور معاشی طاقت سے قومی اجتماعیت کی حفاظت
✔️ (اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ) کے تناظر میں فاسقین کے بد کردار اور انجام کار
✔️ بنی اسرائیل اور فرعون کے قصے کا مقصد‘ امت محمدیہ کو نتائج سے خبردار کرنا
✔️ عذابِ الہی کی تین شکلوں میں سے پہلی دو صورتوں سے امتِ محمدیہ کا محفوظ رہنا
✔️ سطحی سوچ اور مفاد پرست حکمرانوں کے خلاف مزاحمتی شعور کی حامل جماعت (طائفہ منصورہ) کی ناگزیریت
✔️ ’’استخفافِ قوم‘‘ کے سرمایہ دارانہ ملمع کار فرعونی بیانیہ کی تین سو سالہ تاریخ کا جائزہ
✔️ استخفافِ اقوام و ممالک کے لیے سرمایہ کاری کے نام پر سودی ملمع کاری
✔️ اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملہ کو "Iran War" قرار دینے کا جھوٹا بیانیہ
✔️ بنگال پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے دھوکہ دہی پر مبنی قبضے کو جائز قرار دینے کا جھوٹا پروپیگنڈا
✔️ 1857ء کی جنگ آزادی کو بغاوت اور غدر قرار دینے کا جھوٹا بیانیہ
✔️ آئین و قانون اور اداروں کی بالادستی کی بنیاد پر قوم کو جاہل اور ذلیل رکھنے کی سیاہ تاریخ
✔️ دین کے حقیقی اور ٹھوس علم پر مبنی تعلیمی نظام کا خاتمہ
✔️ ظالمانہ نظام کی داستان
✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی حدیث مبارکہ کی تشریح
✔️اللہ کی نافرمانی کے باوجود وسائل کی فراوانی‘ اللہ کی طرف سے رسی ڈھیلی چھوڑنا ہے
✔️ خطبے کا مزکری پیغام؛ عزم و ہمت کے ساتھ جہالت و ظلم کے خلاف مزاحمتی شعور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبا
یومِ مزدور: انبیاءؑ کی عادلانہ جدوجھد اور دین فطرت کی روشنی میں محنت کُش سرمایہ داری نظام کا جائزہ | 01-05-2026
یومِ مزدور: انبیاءؑ کی عادلانہ جدوجھد اور دین فطرت کی روشنی میں محنت کُش سرمایہ داری نظام کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 13؍ذی القعدہ 1447ھ /یکم مئی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
قَالَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا يٰاَبَتِ اسْتَاْجِرۡهُ ۖ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَـاْجَرۡتَ الۡقَوِىُّ الۡاَمِيۡنُ ۔ (28 –قصص:26)
ترجمہ : ”بولی ان دونوں میں سے ایک اے باپ اس کو نوکر رکھ لے، البتہ بہتر نوکر جس کو تو رکھنا چاہے وہ ہے جو زور آور ہو امانت دار“۔
حدیث نبویﷺ:
”آجرْتُ نَفْسِي مِنْ خَدِيجَةَ سَفْرَتَيْنِ بِقَلُوصٍ“. (السنن الكبرى – البيهقي:6/ 195 ط العلمية)
ترجمہ : ”میں نے خدیجة کے لیے دو سفروں کی اجرت ایک اونٹنی لی“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ کل انسانیت کی ترقی اور فلاح کا ہمہ گیر اور آفاقی نظام
✔️ بنی آدم کی خدمت پر مامور فرشتوں کا ملکوتی نظام
✔️ انبیاءؑ کے اقترابی و ارتفاقی پہلو کی فہم کی ضرورت واہمیت
✔️ ابلیس کا انسانیت دشمنی کی اساس پر خدمتِ انسانیت کے اعلی پروگرام کا انکار
✔️ شیطان کے الحادی فکر و عمل کے زیرِ اثر حکمائے مُلحدِین کے ناقص مادی تصورات
✔️ اِلحادی تصورات اور مسخ شدہ مذہبیت کا مقابلہ کرنے والے انبیائے کرام و حکمائے ربّانین اور تجزیاتی شعوری تقاضے
✔️ یومِ مزدور کے پسِ منظر میں تمہیدی گفتگو
✔️ محنت کی سماجی تشکیل میں مرکزیت و اساسیت
✔️ انبیاءؑ کا محنت و جدوجہد کا نظام
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں اجرت کے قانون کی اساسیات اور مزدور کی دو خصوصیات کا بیان
✔️ حضرت شعیبؑ کا حضرت موسیٰؑ سے اجرت کا معاملہ اورسلیقۂ نبوت کی تعلیم
✔️ بکریاں چرانے کے صبر آزماء کام کے ذریعے انبیاءؑ کی انسانی مینیجمنٹ کی تربیت
✔️ ہر نبی کا معاشی محنت کے لیے پیشہ اختیار کرنا
✔️ خطبے کی مزکری حدیث میں رسول اللہؐ کا معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے تجارتی اسفار کا ذکر
✔️ مزدور کے لیے ضروری ہے کہ درست طور پر کام مکمل کرے جیسے امتِ محمدیہ
✔️ مزدور کی مزدوری کے بارے میں انصاف پسند اور فسادی ذہنیت کا تجزیہ
✔️ حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت بلالؓ کے واقعے میں رسول اللہؐ کا مزدوروں کی قرار واقعی حیثیت اور اس کے حقوق پر تنبیہ کرنا
✔️ آپؐ کا خلفائے راشدین کو اور آگے آنے والے ہر حکمران کی محنت کشوں کے حقوق کی ادائیگی کی وصیت
✔️ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا خلیفہ کی حیثیت سے اپنے لیے مزدور کے برابر اجرت کا تعین کرنا
✔️ دینی معاشی نظام میں حصولِ نفع کی شرط انسانی محنت
✔️ بینکنگ سسٹم کی ابتداء، زر کی اساس پر ظالمانہ سودی نظام اور سرمائے کی بنیاد پر مزدوروں سے مجرمانہ رویے
✔️ یورپین بھیڑیوں کی معاشی لوٹ کھسوٹ اور وسائل لوٹنے کی تین سو سالہ سیاہ اور الم ناک تاریخ
✔️ 1876ء میں کھیوڑہ اور 1886ء میں شکاگو کے مزدوروں کا قتل عام
✔️ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش دور سے مزدوروں کے حقوق چھینے کا ظالمانہ نظام آج تک جاری
✔️ اسلامی بینک کاری کے نام پر مذہبی طبقے کی سودی ملمع کاری اور مزدوروں کا استحصال
✔️ شہزادہ چارلس کی تقریر کے تناظر میں استحصالی تاریخ کا جائزہ
✔️ مسلمان کی بنیادی ذمہ داری اور عملی تقاضے
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
ابراہیمیؑ اصول عشرہ میں عدل کی اساسیت: تاریخ انبیاء کے تناظر میں معاصر سامراجی کرداروں کا جائزہ | 24-04-2026
ابراہیمیؑ اصول عشرہ میں عدل کی اساسیت: تاریخ انبیاء کے تناظر میں معاصر سامراجی کرداروں کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 06؍ ذی قعدہ 1447ھ /24؍ اپریل 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
1۔ وَ اِذَا قُلۡتُمۡ فَاعۡدِلُوۡا وَ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ۚ وَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ اَوۡفُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ۔ (6 –انعام: 152)
ترجمہ : ” اور جب بات کہو تو حق کی کہو اگرچہ وہ اپنا قریب ہی ہو،اور اللہ کا عہد پورا کرو، تم کو یہ حکم کردیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو“۔
حدیث نبویﷺ:
”ثَلَاثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ، فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ وَالْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ“. (صحیح البخاری:28 )
ترجمہ: ”جس نے تین چیزوں کو جمع کر لیا اس نے سارا ایمان حاصل کر لیا۔ اپنے نفس سے انصاف کرنا، سلامتی کو عالم میں پھیلانا اور تنگ دستی کے باوجود اللہ کی راہ میں خرچ کرنا“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ دینِ حنیفیت کا پیغام انسانیت
✔️ سماجی ترقی کے دس ابراہیمیؑ اصول اور صحفِ انبیاءؑ میں ان کی تشریح
✔️ اصولِ عشرہ میں سے آخری اصول کی وضاحت، خطبے کی رہنما آیت کے تناظر میں
✔️ ہر معاملے میں فیصلہ کی اساس و بنیاد‘ عدل و انصاف
✔️ مشرق و مغرب کے سیاسی و معاشی امور میں مشرق وسطیٰ کی بالا دست جغرافیائی حیثیت
✔️ انصاف پر مبنی فیصلوں اور معاہدات کی پاسداری میں قرابت داری رکاوٹ نہ بنے
✔️ انسانی معاشرے میں معاہدہ عمرانی کی ناگزیریت اور لا قانونیت کی حوصلہ شکنی
✔️ حضرت ابراہیمؑ کی اصولِ عشرہ کی دعوت اور جماعت سازی کا عمل
✔️ عراق کی بین الاقوامی مرکزیت اور پہلے اصولِ توحید کی اساس پر حضرت ابراہیمؑ کا دو مراکز کا قیام
✔️حضرت یوسفؑ کا اپنے والدین سے حسن سلوک‘ دوسرے حنیفی اصول کا عملی نمونہ
✔️ حقوقِ انسانیت کی بحالی کے لیے اصولِ عشرہ کی روشنی میں حضرت یوسفؑ کا ریاستی ماڈل
✔️ ابراہیمی اصولوں پر موسوی جدوجہد، تربیت یافتہ جماعت کی تیاری اور تورات کی اساس پر مستحکم ریاست کا قیام
✔️ حضرت داودؑ اور حضرت سلیمانؑ کے دور میں حکومتی توسیع اور ہیکلِ سلیمانی کے مقاصد و اہداف
✔️ حضرت سلیمانؑ کے بعد بنی اسرائیل کا ابراہیمی ملت کے اصولوں سے انحراف اور مسخ شدہ یہودیت کی ابتداء
✔️ حضرت عیسیٰؑ پر آفاقی اصولوں کا نزول اورعملی کردار
✔️ حضورﷺ کی ابراہیمی اصولوں کی اساس پر قومی و بین الاقوامی جدوجہد
✔️ ہرقل کے دربار میں پیغام نبوت اور اس کا مفاداتی سیاست و ریاست کی وجہ سے آپؐ کی دعوت کا انکار
✔️ نبی اکرمؐ کی سیرتِ مقدسہ سراپا عدل و انصاف اور معاہدات کی پاسداری سے عبارت
✔️ دس ابراہیمی اصولِ حنیفیت اور معاہدات کی پاسداری پر مبنی دینِ اسلام کے غلبے کا ہزار سالہ دور
✔️ دس ابراہیمی اصولوں اور کتبِ الہیہ کی تعلیمات کی پامالی اور ظالمانہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی تین سو سالہ سیاہ تاریخ
✔️ ایران پر مسلط جنگ کے تناظر میں عالمی سامراج اور اس کی ہم نوا سیاسی و مذہبی قیادت کے ظالمانہ و مجرمانہ کردار کا جائزہ
✔️ ظالمانہ ریاست کے ظلم و زیادتی کے اقدامات کا ملبہ افراد پر ڈالنے کا سامراجی و سرمایہ پرستانہ ہتھکنڈا
✔️ ایران کی انقلابی قیادت اور مظلوم ایرانیوں کے خلاف فرسودہ شیعت کے نام پر سامراجی پروپیگنڈا
✔️ ایران سے امریکی دشمنی اور