خطبات
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan w: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute
نظمِ کائنات کے تناظر میں نظمِ معاشرت کے اجتماعی اصولوں کی اہمیت اور ریاستی و عالمی تناظر میں ان سے انحراف کے نتائج کا جائزہ | 09-10-2026
نظمِ کائنات کے تناظر میں نظمِ معاشرت کے اجتماعی اصولوں کی اہمیت اور ریاستی و عالمی تناظر میں ان سے انحراف کے نتائج کا جائزہ خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 26؍ ربیع الثانی 1448ھ / 09؍ اکتوبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(1) یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(3) اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4). (61–صف:1 تا 4) ترجمہ : ” اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا، اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو، اللہ چاہتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:37 کل انسانیت کی فلاح و بہبود کا نسخۂ حیات‘ اجتماعیت کی ضرورت و اہمیت 3:13 میدانِ حشر میں کل انسانیت؛ فرد سے لے کر بین الاقوامی سطح کی ذمہ داریوں کے حساب کی بنیاد پر جزا و سزا 9:40 معاشرے اور اجتماعیت کی بنیاد‘ باہمی معاہدات کی پاسداری اور اپنی آزاد مرضی سے ذمہ داریاں قبول کرنا 11:25 معاہدات کی خلاف ورزی‘ اجتماعی نظم کے لیے انتہائی خطرناک اور انسانیت سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے 14:10 انسانی زندگی میں قول اور فعل کی اہمیت نیز احکاماتِ الہیہ کے مطابق اور ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ کنٹرول گفتگو کرنا‘ قرآنی تعلیم ہے 17:06 خطبے کی مرکزی آیات کے پسِ منظر میں سماجی تشکیل کے لیے قول و فعل کی یکسانیت کی ضرورت و اہمیت 18:39 ریاستِ مدینہ میں منافقین جماعت کا ظہور‘ غزوہ بدر میں ریاستِ مکہ کی شکست کے بعد ہوا 21:48 تسبیح و تحمید کی حقیقت: کائنات کی تمام مخلوقات کا اپنی مخصوص فطری اور طے شدہ ذمہ داریوں کو بغیر کسی انحراف کے مکمل طور پر پورا کرنا 26:21 عرشی و فرشی مخلوقات کی طے شدہ ذمہ داریوں کے تناظر میں تسبیح و تحمید کی مزید وضاحت 32:45 ’’العزیز‘‘ اور ’’الحکیم‘‘ کی وضاحت اور ان دو اوصاف کے تناظر میں تمام مخلوقات پر اللہ تعالٰی کی قولی اور عملی حاکمیت 37:34 عمل کے لیے منظم ترتیب اور حکمت لازمی و ضروری نیز قرآن میں قانونِ الہی کے بعد اسمِ الہی کے ذکر کرنے کا گہرا راز 40:00 ایمان کا مفہوم: اللہ تعالٰی کو عزیز اور حکیم تسلیم کرتے ہوئے اپنے قول و فعل کو اللہ کے احکامات کے تابع کر دینا 43:24 دنیا میں نبی اکرم ﷺاور آپؐ کی جماعتِ صحابہؓ‘ اللہ کے ’’عزیز‘‘ اور ’’حکیم‘‘ ہونے کا مظہر ہیں نیز انسان کا امتحان اور آیت ’’لم تقولون ما لا تفعلون‘‘ کے تناظر میں جماعتی زندگی کا فساد‘ قول اور فعل میں تضاد کا نتیجہ ہے 45:24 اس آیت کا پسِ منظر، غزوہ احد میں آپؐ کی حکمتِ عملی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے نتائج اور قول و فعل میں تضاد پر اللہ کی تنبیہ و توبیخ 55:49 دشمن کا مقابلہ کرنے والی منظم، بنیانِ مرصوص اور معیاری ایمان‘ قول و عمل میں یکسانیت والی جماعت‘ اللہ کو بہت ہی محبوب 57:13 نظامِ شمسی اور گردشی نظام کے تناظر میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعیت کی اہمیت 58:40 ایک فرد کا اپنی ذمہ داری سے انحراف کا خمیازہ‘ پوری اجتماعیت بھگتی ہے 1:02:35 یورپین اقوام کا ریاستی نظام میں نفاق اور جھوٹ پر مبنی قول و عمل کے تضاد اور منافقا
شعورِ حق اور "قولِ سدید" کے قرآنی اصول پر صالح معاشرے کی تشکیل: مذہبی و سیاسی منافقت اور سامراجی حکمتِ عملی کے شعوری تجزیے کی ضرورت | 02-10-2025
شعورِ حق اور "قولِ سدید" کے قرآنی اصول پر صالح معاشرے کی تشکیل: مذہبی و سیاسی منافقت اور سامراجی حکمتِ عملی کے شعوری تجزیے کی ضرورت خطبہ جمعۃ المبارک خطاب: حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 19؍ ربیع الثانی 1448ھ /2؍ اکتوبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیات یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ (70) یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا(71) سورۃ الاحزاب:33 (70-71) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔ تاکہ وہ تمہارے اعمال کو درست کرے اور تمہارے گناہ معاف کر دے۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانا، سو اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ بعثتِ انبیائے کرامؑ اور انسانی شرف و وقار کی بحالی کی جدوجہد ✔ بعثتِ محمّدیﷺ کے ذریعے تکمیلِ اخلاق کا نظام ✔ عدل اور حق کے ساتھ استقامت کا قرآنی حکم اور اس کی وضاحت ✔ باطل کے بالمقابل حق اور سچ کے ساتھ تعاون: قرآن و سنت اور تاریخی استشہادات کی روشنی میں ✔ قرآنی اصولوں کی روشنی میں سچے معاشرے کی پہچان ✔ غیر مسلم اور دُشمن طبقات کے ساتھ سماجی معاملے میں عدل و انصاف کا رویہ: اسوہ حسنہ کا اہم سبق ✔ اسلامی معاشرے کی پہچان: حق اور انصاف کی بنیاد پر ظالم کا مقابلہ اور مظلوم کی حِمایت ✔ مسلمانوں کا عدل و انصاف پر مبنی اخلاق و رویہ: اشاعت اسلام کا اساسی اُصول ✔ سرد جنگ کے دوران مسلمانوں کے مذہبی تعصّب اور مفاد پرستانہ ذہنیت کا سامراجی استعمال ✔ مسلمانوں کی باہمی لڑائی میں صُلح و آشتی کا قرآنی اُصُول ✔ مذہبی لبادے میں منافق قیادت کی تکفیری ذہنیت کا شعوری تجزیہ ✔ موجودہ دور کا بڑا المیہ: جھوٹی اور منافق قیادت ✔ عالمی سامراجی طاقتوں کی جنگی حکمت عملی اور اس کے شعوری تجزیہ کی ضرورت و اہمیت ✔ سیاسی و مذہبی قیادت کا منافقانہ طرزِ عمل اور قولِ سدید سے انحراف ✔ قرآنی اُصولوں کی روشنی میں موجودہ دور کا تقاضا: حق اور سچ کے ساتھ تعاون ✔ علمائے سُو کی مفاد پرستانہ ذہنیت اور ان کے بے شعوری کا رویہ اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں
ایمان کی حقیقت، نفاق کے تاریخی مظاہر ؛ نفاق زدہ ریاستی و معاشی نظام کے تعلیم اور صحت پر تباہ کن اثرات اور حضرت رائے پوری رابع کی رہنمائی | 02-10-2025
ایمان کی حقیقت، نفاق کے تاریخی مظاہر ؛ نفاق زدہ ریاستی و معاشی نظام کے تعلیم اور صحت پر تباہ کن اثرات اور حضرت رائے پوری رابع کی رہنمائی خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 19؍ ربیع الثانی 1448ھ / 02؍ اکتوبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: "وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ" (2 –البقرہ:8) ترجمہ : ”اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور وہ ہرگز مومن نہیں “ ۔ حدیثِ نبویﷺ: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ، وَقَوْلٌ بِاللِّسَانِ، وَعَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ۔ ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان دل کی معرفت، زبان سے اقرار اور اعضائے بدن سے عمل کا نام ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ: 65) 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:20 قرآنی تعلیمات پر صدقِ دل سے ایمان لانا‘ دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن 2:46 حدیث: الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ (الحدیث) میں ایمان کی حقیقت اور ایمانِ مُفصَّل کی روشنی میں ایمانی تقاضوں کی وضاحت 7:40 آخرت کے دن پر ایمان کے تناظر میں یومِ آخرت (عقیم) کی حقیقت و معنویت اور وجہ تسمیہ 12:26 یومِ حشر: تمام انسانوں کے ہر ہر لمحے کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک حساب و کتاب کا دن 19:36 کائنات کی تقدیرِ خیر و شرّ (نظام) کی حقیقت اور اس پر ایمان لانے سے مقصود‘ معرفتِ باری تعالیٰ 22:33 اظہار ما فی الضمیر کے مطابق معرفتِ خداوندی کا زبان سے اقرار (قَوْلٌ بِاللِّسَانِ) 24:00 الہی احکامات اور نبوی ہدایات پر ایمانی تقاضے کے مطابق عمل کرنا (عَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ) 28:02 سورة البقرہ کی ابتدائی آیات میں دو جماعتوں کا ذکر، ایمان لانے والوں کی تعریف اور اگلی دو آیتوں میں ایمان کی ضد کفر کی حقیقت پھر اگلی تیرہ آیات میں تیسرے گروہ منافقین کی تفصیلی وضاحت 30:51 مکی دور اور غزوہ بدر سے قبل مدنی دور میں پکے مومن اور کافر موجود تھے مگر منافق نہیں تھے 33:15 یہود کے بڑے عالم حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے ایمان لانے پر یہود کی متعصبانہ روش کی وضاحت 37:08 مدینہ منورہ کی تاریخ اور سماجی و ریاستی ساخت کی روشنی میں منافقت کے بارے میں آیاتِ قرآنی کی تشریح 41:25 مدینہ کی قومی طاقت؛ اوس و خزرج پر یہودیوں کے علمی و تجارتی رعب کی حقیقت اور ان دونوں قبائل میں دعوتِ اسلام کے پھیلاؤ کا اصل سبب 44:51 بدر کے بعد مدینہ کا منظر نامہ یکسر تبدیل‘ میثاقِ مدینہ، ایمانی جماعت کا رعب و دبدبہ اور ریاستِ مدینہ کی ظاہری سیادت و قیادت نبی اکرمؐ کے سپرد 51:00 یہود کی ریشہ دوانیاں؛ شکوک و شبہات پیدا کرکے مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانا یا نفاق کے مرض میں مبتلا کرنا 52:32 خطبے میں تلاوت کی گئی آیت کا معنی و مفہوم: بظاہر ایمان لانے کا دعویٰ لیکن دھوکہ دہی کا عمل 54:17 اوس و خزرج کے سچے ایمان والوں اور یہود سے ذاتی و کاروبای فوائد اٹھانے کے حصول کے لیے منافقین بظاہر ایمان لائے 55:19 حدیث کی روشنی میں نفاق کی دو قسموں؛ ۱) نفاقِ اعتقادی، ۲) نفاقِ عملی کی حقیقت اور انجامِ کار 59:52 نفاقِ عملی کی چار علامات؛ کذب بیانی، خیانت، معاہدہ شکنی اور قانون شکنی 1:04:20 ان آیات میں منافقین کی ریاستِ مدینہ، جماعتِ صحابہؓ اور نبی اکرمﷺ سے نفاق کی حقیقت، اثرات اور نتائ
نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں| 04-09-2026
نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 21؍ ربیع الاول 1448ھ / 04؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، پشاور کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیتِ قرآنی: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46) ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔ حدیثِ نبویﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169) ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:32 ربیع الاول‘ انسانوں کی روحانی ترقی اور دلوں میں نورِ محمدی کے ذریعے سے نورِ خداوندی کی پرورش کا مہینہ 5:49 کرۂ ارض پر ظلم و کفر اور روحانی مُردَنی کے خاتمے کے لیے ’ازکی خلقِ اللہ‘ روحِ محمدﷺ کا انتخاب اور بعثت 12:11 نبی اکرمؐ کا نور اور وجودِ گرامی‘ باعثِ تخلیقِ کائنات نیز جسمانی فضائل اور نورانی و روحانی تاثیرات 15:56 جسمانی اور عقلی نشو و ارتقاء اور کامل انسان بننے کا دورانیہ‘ مثالوں سے وضاحت 19:25 ماہِ ربیع الاول اور چالیس سال کی عمر مبارک میں سچے خوابات کی صورت میں انخصرتؐ کی نبوت و رسالت کے اظہارات 20:53 نبوت و رسالت کا تئیس سالہ تدریجی ارتقاء؛ وحی الہی، نزولِ قرآن اور تکمیلِ دین 24:06 ربیع الاول میں وصال؛ روضۂ رسول میں روحِ محمدیﷺ کی روحانیت و نورانیت کا برزخی نشو و ارتقاء اور فیوضات و برکات 27:53 ربیع الاول میں سیرتِ مقدسہ کا تذکرہ‘ دلوں کو منور کرنے اور محبتِ رسولؐ پیدا کرنے کا ذریعہ 29:02 نبی اکرمؐ کی نبوت کے فیضان سے کائنات اور آدمیت کی ابتدا اور خاتم النبیین کی وجہ سے تا قیامت کوئی نیا نبی نہیں آئے گا 30:56 حضرت عیسیٰؑ کے دنیا میں نزول اور آمد کا ہدف اور مقصد 32:46 دنیا میں حضورؐ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت سے میدانِ حشر تک آپؐ کی نبوت اور حکومت (اتھارٹی) برقرار اور قائم ہے 41:24 خلفاء اور اولیاء کی صورت میں فیضِ و برکاتِ نبوت تک قیامت جاری نیز حضرت مہدی کی آمد کا مقصد 44:33 محبتِ رسولؐ کے بغیر ایمان نامکمل 47:54 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر؛ غزوۂ احزاب کے موقع پر عرب کی تمام قوتوں کی مدینہ پر یلغار اور صحابہ کرامؓ کا امتحان 56:34 خطبے کی مرکزی آیت میں ریاست، اتھارٹی اور حکومت سے متعلق رسول اللہؐ کے پانچ اوصاف (شاہد، مبشر، منذر، داعی اور سراج منیر) کی توضیح و تشریح 1:07:27 ’دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ‘ کی روشنی میں منصبِ دعوت کے تقاضے، شیخ و مرشد کی تربیت اور اجازت کی ضرورت و اہمیت اور آج کا المیہ 1:12:46 منصبِ دعوت اور وعظ کا اختیار صرف بادشاہ وقت اور با رعب عالم کو حاصل ہے 1:14:15 مولانا الیاس دہلویؒ کی چھ نمبروں کی دینی دعوت و تبلیغ اور منصبِ دعوت کے حوالے سے بڑی غلطی فہمی کا ازالہ 1:17:47 پانچواں نبوی وصف؛ سراجِ منیر کے نتائج (دنیا کا ہر کونہ نورِ محمدیﷺ سے روشن اور مکمل دینی غلبہ) 1:23:24 حدیثِ نبوی میں حضورؐ کے پانچ صفاتی نام اور ان کے
سماج شکن اور عدل دشمن جہنمی طرزِ فکر و عمل: جرم پیشہ طبقہ کے اعتراف اور حق سے خوفزدگی کی قرآنی تمثیل کا مطالعہ | 25-09-2026
سماج شکن اور عدل دشمن جہنمی طرزِ فکر و عمل: جرم پیشہ طبقہ کے اعتراف اور حق سے خوفزدگی کی قرآنی تمثیل کا مطالعہ خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 12؍ ربیع الثانی 1448ھ /25؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیات فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ (49) كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ (50) فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍﭤ(51) بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ (52) كَلَّاؕ-بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَﭤ(53) كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ۠ (54)ٝ فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗﭤ(55) وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ (56) سورۃ المدثر:74 (49-56) ترجمہ: پس انہیں کیا ہو گیا کہ وہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں؟ گویا کہ وہ بِدکنے والے گدھے ہیں، جو شیر سے بھاگے ہیں، بلکہ ہر ایک آدمی اِن میں سے چاہتا ہے کہ اسے کُھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں۔ ہرگز نہیں! بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔ ہرگز نہیں! بے شک یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے۔ پس جو چاہے اس کو یاد کر لے، اور کوئی بھی یاد نہیں کر سکتا مگر جب کہ اللہ ہی چاہے۔ وہی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور وہی بخشنے والا ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ دینِ اسلام بطور ترجمان فطرتِ انسانیت ✔ سلسلہ ہدایت کا تاریخی تسلسل اور قرآنِ حکیم بطور ہدایت کا آخری مجموعہ ✔ مُجرم طبقات کا ہدایت اور نصیحت سے متعلق منفی طرزِ عمل ✔ مُجرم طبقات کے لیےگدھے سے مماثلت کی قرآنی مثال ✔ مُجرم طبقات کے انفرادیت اور انانیت پر مبنی اجتماعیت شِکن رویّے ✔ انفرادی سوچ اور رویّوں کے انسانی معاشرے پر بھیانک اثرات ✔ مجرمین کے دو بُنیادی جرائم: نظامِ صلٰوۃ سے انحراف اور سرمایہ پرستانہ طرزِ عمل ✔ مجرمین کا تیسرا بڑا جُرم: عملی تقاضوں سے عاری بے کار مُباحثے ✔ مجرمین کا چوتھا بڑا جُرم: یومِ انصاف کا اِنکار ✔ موجودہ معاشرے میں زیرِ بحث موضوعات کا ناقدانہ جائزہ ✔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطالعہ قرآن کا اُصول ✔ شفاعتِ محمّدیﷺ کا حقیقی مفہوم ✔ انبیائے کرامؑ کی معاشرتی جدوجہد کا تعارف ✔ موجودہ معاشرے میں مُجرمین کے جرائم کا غلبہ اور معاشرتی زوال ✔ قرآن حکیم انسانیت کے لیے بطور کتابِ نصیحت ✔ موجودہ معاشرے کی زبوں حالی اور ہماری انفرادی و اجتماعی ذمہ داریاں
ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل اور عصری چیلنجز | 25-09-2026
ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل اور عصری چیلنجز خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 12؍ ربیع الثانی 1448ھ / 25؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَا اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(146) وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّا اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(147) (3 –آل عمران:146، 147) ترجمہ : ” اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے۔ اور کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا کہ اے رب ہمارے بخش ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہمارے کام میں اور ثابت رکھ قدم ہمارے اور مدد دے ہم کو قوم کفار پر “ ۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:39 سماجی معاہدات اور قوم کی ترقی کے لیے سچی لیڈر شپ کی ضرورت و اہمیت 4:23 گذشتہ جمعہ کے مضامین کا خلاصہ؛ سابقہ اقوام کے اجتماعی جرائم، غلط قیادت کا تسلط: مہلت کے بعد اللہ کی گرفت 6:56 شدید مخالفت اور اذیت کے باوجود حضرت نوحؑ کی صبر و استقامت کے ساتھ قانون شکن اور گمراہ قوم کی ہدایت کے لیے ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ 10:58 عاد و ثمود اور قومِ موسیٰؑ پر اترنے والے عذاب کی شکلیں اور بنیادی وجوہات 15:05 ظالم قوموں پر عذاب کی دوشکلیں نیز حضرت موسیٰؑ کے دور میں پہلی بار تربیت یافتہ جماعت نے منظم قوت کے ساتھ فلسطین و بیت المقدس کی آزادی کے لیے قومِ عمالقہ کے خلاف جہاد و قتال کیا 19:08 بنی اسرائیل کی کنعان سے مصر ہجرت کے بعد حضرت یوسفؑ کی قیادت میں ان کی تمدنی اور شہری تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا 22:48 خطبے میں تلاوت کی گئی آیت میں ’رِبِّیُّون‘(دس دس ہزار افراد پر مشتمل منظم اور تربیت یافتہ جماعتیں) اور ظالم طاقتوں کے خلاف ان کے جماعتی کردار کی توضیح و تشریح 25:12 غزوۂ احد کے موقع پر نازل ہونے والی آیتِ مبارکہ (آلِ عمران: 146) کا پسِ منظر 29:43 چار انبیاءؑ کی جدوجہد کا شعوری تسلسل، حضرت موسیٰؑ کی جدوجہد سے خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کا ظالم و جابر قومِ عمالقہ کے خلاف منظم کردار 35:09 نبوت کا نیا رنگ؛ جماعت کی بنیاد پر قومی اور بین الاقوامی انقلاب برپا کرنے والے دو اولو العزم انبیاءؑ 36:52 ’رِبِّیُّون‘ کا معنی و مفہوم نیز حضرت موسیٰؑ کی قومی جدوجہد سے نبی اکرمؐ تک ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعتوں (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل 41:01 غزوۂ احد کے موقع پر جماعتِ صحابہؓ کو ’رِبِّیُّون‘ کی اساس پر اجتماعی کردار ادا کرنے کی دعوت 45:37 نبی کی تربیت یافتہ ربیّ جماعت‘ مصائب و مشکلات کے وقت اور دشمن کے آگے وہن (ذہنی شکست) اختیار نہیں کرتی 47:59 مسلمانوں میں ’وَہن‘ سے سامراجی غلبے تک: ذہنی کمزوری، وسائل پر قبضہ اور سامراج کا تسلط نیز ان کے مدمقابل‘ اپنے وسائل کی حفاظت کرنے والے ’رِبِّیُّون‘ 51:38 ربّی جماعت کی پہلی خصوصیت: وَہن (ذہنی شکست اور دشمن کا خوف) اختیار نہیں کرتی 54:44 دوسری اور تیسری خصوصیت: ضعف (جسمانی کمزوری) اور استکانت (ٹوٹ کر
عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت | 18-09-2026
عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 5؍ ربیع الثانی 1448ھ /18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (36) سورۃ بنی اسرائیل:17 (36) ترجمہ: اور جس بات کی تجھے خبر نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑ۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے بازپرس ہو گی۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز خطاب 0:49 دینِ اسلام بطور عظمتِ انسانی کا تکمیلی پیغام 4:18 معاشرتی تبدیلی کے لیے علم و شعور کی اہمیت اور پہلی وحی کا نزول 7:48 جاہلی معاشرے کی علامات اور دینِ اسلام کی حقیقت شناس تعلیمات 11:23 قرآنِ حکیم کا تدریجی نزول اور انسانی معاشرے پر اس کے عملی اثرات 14:31 قرآنِ حکیم میں مذکور علم کے تین ذرائع: سمع، بصر اور عقل 19:20 انسانی ذرائع علم کی ذمہ داریاں اور ان کے محاسبہ کا نظام 23:33 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں جھوٹ کی حقیقت اور موجودہ میڈیا کا کردار 27:32 خبر کی تحقیق میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری کا قرآنی حکم 32:43 قرآنِ حکیم کی راہ نمائی میں خبر کی تحقیق کا ذمہ دار: ملکی سیاسی نظام اور اس کے ادارے 35:54 عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ذرائع ابلاغ کا فریب زدہ نظام اور ہماری شعوری ذمہ داریاں 38:46 موجودہ مسلم معاشرے میں جذباتی رویے اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کا رجحان 40:11 حضرت اسامہ بن زیدؓ کا میدانِ جنگ میں مخالف کو قتل کرنے کے واقعہ سے راہ نمائی 44:36 عالمی استعمار نظام کا مسلمانوں کی جذباتی بے شعوری سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی 47:39 موجودہ سوشل میڈیائی دور کے منفی رجحانات کا تجزیہ اور ان کا تدارک کی قرآنی راہ نمائی 52:58 عالمِ عرب کی سیاسی قیادت کا موجودہ المیہ 55:18 مغربی پروپیگنڈہ کے ماحول میں قرآنی بصیرت سے راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت 57:58 علم و شعور کی قرآنی دعوت اور ہماری ذمہ داریاں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل | 18-09-2026
منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 05؍ ربیع الثانی 1448ھ / 18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ (48) قُلْ یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (49) (22 -الحج:48، 49) ترجمہ : ” اور کتنی بستیاں ہیں کہ میں نے ان کو ڈھیل دی اور وہ گناہ گار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑا اور میری طرف پھر کر آنا ہے۔ تو کہہ اے لوگوں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں تم کو کھول کر “ ۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:33 تاریخِ اقوام کا قرآنی مطالعہ: ماضی کا تجزیہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی 4:15 خطبہ کی مرکزی آیات کی تشریح: نبوی منصبِ نذیر مبینﷺ اور 'قریہ ظالمانہ' کے تناظر میں ظالم اقوام کے انجام کا تذکرہ 6:38 تصورِ قریہ نیز تشکیلِ معاشرہ میں عدل، امن اور معاشی استحکام بطور بنیادی ارکان 12:42 سیاسی انتظامِ معاشرہ اور تشکیلِ قریہ: عادلانہ نظام کے لیے صالح قیادت اور نمائندوں کا انتخاب 16:42 حکومت کے دو بنیادی فرائض؛ معاشرتی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ٹیکس اکٹھا کرنا اور قومی وسائل کو اجتماعی مفاد میں استعمال کرنا 19:29 قریہ ظالمانہ؛ معاشرے پر ظالم، جابر اور استعماری طبقات کا تسلط اور کنٹرول کی چند شکلیں 21:48 بستیوں کی آباد کاری اور بقا و فلاح کا دار و مدار‘ عدل و انصاف پر منحصر 24:07 بستیوں کی تعمیر و ترقی اور قوموں کی شناخت پیدا ہونے میں صدیاں گزر جاتی ہیں نیز ظالم طاقتوں کو ڈھیل اور مہلت دینے (استدراج) کی قرآنی حکمت 30:12 ماضی کی تاریخ اور مقاصدِ بعثتِ انبیاءؑ کی روشنی ظلم پر مبنی بستیوں اور جابر طبقات کی سرکشی اور مہلتِ الٰہی سے غفلت پر گرفت اور عبرت ناک انجام پر اہلِ مکہ کو اِنذار و تنبیہ 37:57 حضرت اسماعیلؑ کا حنیفی اصولِ عشرہ پر ام القریٰ‘ مکہ مکرمہ کی آباد کاری اور عمرو ابن لحی کے دور سے ظلم و کفر کی بنیاد پر بت پرستی کی ابتداءاور ارتقاء کا پسِ منظر 44:38 مکہ میں کسریٰ ایران و قیصرِ روم کی پراکسیز نیز ابراہیمی اصولوں کو چھوڑ کر کسریٰ و قیصر کے نظامِ حکومت کی عادات کو اپنانے والی یرغمال طفیلی ریاست (قریہ ظالمانہ) کا قرآنی نقشہ 50:16 مکہ کی ظالم پر مبنی حکومت کی گرفت اور ملتِ ابراہیمی کی اصل تعلیمات کے احیاء کے لیے نبی اکرمﷺ کی بطور نذیرِ مبین‘ بعثت 53:00 نبی اکرمؐ کے وصفِ نذیرِ مبین کے بنیادی اہداف و مقاصد 55:34 نبی اکرمؐ کی دعوت قبول کرکے ابراہیمی حنیفی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے اہلِ ایمان کے لیے ’مغفرت‘ اور ’رزقِ کریم‘ کا قرآنی وعدہ نیز رزق کا وسیع تر مفہوم 59:27 مقدس دھرتی‘ مکہ سے معززین؛ انحضرتؐ اور جماعتِ رسولؐ کی بے دخلی کا مکافاتِ عمل: جابر طبقات کی پکڑ اور عبرت ناک انجام نیز حرمتِ مکہ و مدینہ کی پاسداری 1:04:35 نبیِ رحمت ﷺ کی امن پسند، تحفظِ انسانیت اور مکہ کی قومی طاقت پیدا کرنے کی بصیرت افروز حکمت عملی اور ہزار سالہ عادلانہ نظام کا قیام 1:09:47 عربوں کے بعد عادل ترک (عثمانی و تیموری)حکمران اور کل انسانیت کے لیے پیغامِ نذیرِ مبینؐ کی عالمگیر پاسبانی اور رہنما کردار 1:11:38 ظالم برطانوی شہنشاہیت اور یورپین بھیڑیوں کی ظالمانہ تاریخ، مہلتِ الٰہی کا اِتمام اور برطانیہ و امریکہ کے ظلم و استبداد پر گرفت 1:15:25 مکہ کی مرکزیت کی تباہی اور خلافتِ عثمانیہ
نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں| 04-09-2026
نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 21؍ ربیع الاول 1448ھ / 04؍ ستمبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، پشاور کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46)
ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔
حدیثِ نبویﷺ:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)
ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز خطاب
1:32 ربیع الاول‘ انسانوں کی روحانی ترقی اور دلوں میں نورِ محمدی کے ذریعے سے نورِ خداوندی کی پرورش کا مہینہ
5:49 کرۂ ارض پر ظلم و کفر اور روحانی مُردَنی کے خاتمے کے لیے ’ازکی خلقِ اللہ‘ روحِ محمدﷺ کا انتخاب اور بعثت
12:11 نبی اکرمؐ کا نور اور وجودِ گرامی‘ باعثِ تخلیقِ کائنات نیز جسمانی فضائل اور نورانی و روحانی تاثیرات
15:56 جسمانی اور عقلی نشو و ارتقاء اور کامل انسان بننے کا دورانیہ‘ مثالوں سے وضاحت
19:25 ماہِ ربیع الاول اور چالیس سال کی عمر مبارک میں سچے خوابات کی صورت میں انخصرتؐ کی نبوت و رسالت کے اظہارات
20:53 نبوت و رسالت کا تئیس سالہ تدریجی ارتقاء؛ وحی الہی، نزولِ قرآن اور تکمیلِ دین
24:06 ربیع الاول میں وصال؛ روضۂ رسول میں روحِ محمدیﷺ کی روحانیت و نورانیت کا برزخی نشو و ارتقاء اور فیوضات و برکات
27:53 ربیع الاول میں سیرتِ مقدسہ کا تذکرہ‘ دلوں کو منور کرنے اور محبتِ رسولؐ پیدا کرنے کا ذریعہ
29:02 نبی اکرمؐ کی نبوت کے فیضان سے کائنات اور آدمیت کی ابتدا اور خاتم النبیین کی وجہ سے تا قیامت کوئی نیا نبی نہیں آئے گا
30:56 حضرت عیسیٰؑ کے دنیا میں نزول اور آمد کا ہدف اور مقصد
32:46 دنیا میں حضورؐ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت سے میدانِ حشر تک آپؐ کی نبوت اور حکومت (اتھارٹی) برقرار اور قائم ہے
41:24 خلفاء اور اولیاء کی صورت میں فیضِ و برکاتِ نبوت تک قیامت جاری نیز حضرت مہدی کی آمد کا مقصد
44:33 محبتِ رسولؐ کے بغیر ایمان نامکمل
47:54 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر؛ غزوۂ احزاب کے موقع پر عرب کی تمام قوتوں کی مدینہ پر یلغار اور صحابہ کرامؓ کا امتحان
56:34 خطبے کی مرکزی آیت میں ریاست، اتھارٹی اور حکومت سے متعلق رسول اللہؐ کے پانچ اوصاف (شاہد، مبشر، منذر، داعی اور سراج منیر) کی توضیح و تشریح
1:07:27 ’دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ‘ کی روشنی میں منصبِ دعوت کے تقاضے، شیخ و مرشد کی تربیت اور اجازت کی ضرورت و اہمیت اور آج کا المیہ
1:12:46 منصبِ دعوت اور وعظ کا اختیار صرف بادشاہ وقت اور با رعب عالم کو حاصل ہے
1:14:15 مولانا الیاس دہلویؒ کی چھ نمبروں کی دینی دعوت و تبلیغ اور منصبِ دعوت کے حوالے سے بڑی غلطی فہمی کا ازالہ
1:17:47 پانچواں نبوی وصف؛ سراجِ منیر کے نتائج (دنیا کا ہر کونہ ن
حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں| 11-09-2026
حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 28؍ ربیع الاوّل 1448ھ /11؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(24) سورۃ الانفال:8 (24) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور رسول کا حکم مانو جس وقت تمہیں اس کام کی طرف بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے، اور جان لو کہ اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے، اور بے شک تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز 0:53 حیاتِ انسانی کے دو دائرے: مادی حیات اور معنوی حیات 4:53 معنوی حیاتِ انسانی کی خصوصیات 7:16 معنوی حیاتِ انسانی کے ارتقاء میں نبوّت کا کلیدی کردار 8:59 اشیاء کے مقام و مرتبہ کے تعیّن میں ان کے مقاصدِ تخلیق کی اہمیت 13:52 خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت 17:50 ظالم اور مردہ معاشروں کے اِحیاء میں نبوّت کا کردار 22:31 اِحیائے معاشرہ کے لیے نبی اکرم ﷺ کا انسانی مساوات کو بنیاد بنانا 26:32 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں انسانی جِسم کی مثال کے ذریعے معاشرتی مساوات کی تفہیم 30:23 موجودہ بے حِس اور مردہ معاشرے کی سفاکیت کی حالیہ مثال 35:35 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: طبقاتی نظامِ تعلیم 38:51 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: دولت کی غیر مُنصفانہ تقسیم 42:04 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: جہالت اور بے شعوری کا پھیلاؤ 45:46 توحید کی اساس پر معاشرتی اِحیاء کی نبوی ﷺ جدوجہد کا تعارف 50:38 معاشرتی اِحیاء کے لیے صفاتِ باری تعالیٰ پر غوروفِکر کی قرآنی دعوت 52:48 دین کے حیات بخش اجتماعی نظام کو شعوری طور پر سمجھنے کی ضرورت و اہمیت 55:33 موجودہ معاشرتی بے حِسی کی بنیادی وجہ: نظامِ ظلم 59:52 معاشرتی اِحیاء کا اصل الاصول: ظالمانہ نظام کی بیخ کُنی اور دینی فِکر کی شعوری تفہیم بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے| 11-09-2026
فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 28؍ ربیع الاول 1448ھ / 11؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ-یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(56) اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا (57) (33 -الاحزاب: 56، 57) ترجمہ : ” اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں رسول پر اے ایمان والو رحمت بھیجو اس پر اور سلام بھیجو سلام کہہ کر۔ جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان کو پھٹکار اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب “ ۔ حدیثِ نبویﷺ: لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ، وَوَلَدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. (مشكوة المصابيح، كتاب الإيمان، حدیث: 7) ترجمہ: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات ✔️ نبی اکرمﷺ کی محبت،عظمت، ہیبت اور جلال سے روح کا سرشار ہونا‘ مسلمان کا بنیادی فریضہ اور ایمان کا لازمی جزو ✔️ نبی اکرم ﷺ سے محبت دل کی گہرائی سے ہونی چاہیے ✔️خطبہ میں تلاوت کی گئی سورۂ احزاب کی آیات قرانی کا پس منظر ، شانِ نزول اور توضیح و تشریح ✔️ سورۂ احزاب کا پہلا حصہ غزوۂ خندق اور دوسرا حصہ نبی اکرم ﷺ سے متعلق ہدایات اور آپ ﷺکی اطاعت و فرمانبردای پر مشتمل ✔️ انحضرت ﷺ کی رسالت سے قبل قومی انتشار اور زوال سے دوچار عرب معاشرہ اور آپ ﷺ کا صحابہ کرامؓ کی اجتماعیت اور نظم و نسق قائم کرنا ✔️ رسولِ انسانیت ﷺکی اتھارٹی کو ماننے، احکامات اور فیصلوں کی پاسداری میں کسی مؤمن و مؤمنہ کو کوئی اختیار حاصل نہیں ✔️ سورت کے نصفِ آخر میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق احکامات و واقعات نیز ازواج مطہراتؓ اور اہل بیت کی عظمت و احترام کا بیان ✔️ نبی اکرم ﷺ کی اتھارٹی کا ایک نمایاں پہلو‘ اللہ کی رحمت اور تمام فرشتے اور مقربین بارگاہ الہی آپﷺ کے لیے دعا گو ہیں ✔️ صلوة علی النبیﷺ کا مطلب‘ اللہ کی خاص رحمت، محبت اور انوارت ہر دم آپ ﷺکی ذاتِ گرامی پر جاری ہیں ✔️ حضرت حمد ﷺ کی وساطت سے انواراتِ الہیہ کا کون و مکاں پر فیضان اور ایمان سے سر شار روحیں آپﷺ کے احسانات نہیں اتار سکتیں ✔️ فرشتوں کی نسبت سے صلوة کا معنی و مفہوم‘ دعا مانگنا اور وجہ تخلیقِ کائنات کے احسان کا شکر یہ ادا کرناہے ✔️ نبی اکرم ﷺ کی سالہا سال جدوجہد سے اولو العزم افراد پر مشتمل جماعتِ صحابہؓ کی تیاری، سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر ریاست (عملاً اتھارٹی) کا قیام‘ آپﷺ کے اعلیٰ نظم و نسق اور منصبِ رسالت کا اظہار ✔️ غزوہ خندق کے بعد دشمن طاقت کے رعب کا خاتمہ، عملا آپﷺ کی اتھارٹی کا قیام اور سیاسی و معاشی طاقت کا اظہار ✔️ مسلمانوں کو درود و سلام پڑھنے کا حکم نیز صلوۃ پڑھنے کے لیے درودِ ابراھیمی کی تعلیم ✔️ آپﷺ پر صلوة (درودِ ابراہیمی) پڑھنے کی تعلیم میں پنہاں حکمتیں؛ نبی ﷺ کی محبت میں غلو اور تحریف سے بچنے کے لیے درود میں اللہ تعالیٰ سے نبی اکرم ﷺ کے لیے دعا ✔️ صدق دل سے دعا مانگنے کے اثرات و نتائج نیز دعا میں آلِ محمد (آپ ﷺ کے اہل بیت اور پوری جماعت)
مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت | 28-08-2026
مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 14؍ ربیع الاول 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: جامع مسجد قباء، مانسہرہ خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: 1- وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَؕ-وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا (17 –بنى اسرائيل:105) ترجمہ : ”اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے قرآن اور سچ کے ساتھ اترا اور تجھ کو جو بھیجا ہم نے سو خوشی اور ڈر سنانے کو“ ۔ 2۔ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔ ترجمہ: ”اس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا “ ۔ (48–الفتح:28) حدیثِ نبویﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169) ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 2:01 ماہِ ربیع الاول کو سیرتِ رسول اکرمﷺ سے خصوصی نسبت حاصل 3:23 اقوامِ عالم کا دستور؛ قومی رہنماؤں کی سیرت و کردار کی یاد کے لیے دن مختص کرنا 5:00 اطاعتِ رسولؐ ہی دنیا و آخرت میں بھلائی اور کامیابی کی ضامن! 6:33 سیرتِ نبی اکرمﷺ پر گفتگو کے آداب، مقاصد و اہداف اور عملی تقاضے 8:42 منصبِ رسالت کے فہم کے تناظر میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے شہنشاہ مطلق اور مالک الملک ہونے پر تفصیلی گفتگو 10:00 ’رسول‘ کا حقیقی مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؐ کی عالمگیر حکمرانی کا اعلان 11:38 کائنات کا حقیقی بادشاہ اور شہنشاہِ مطلق‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے 26:09 دنیا میں احکاماتِ الٰہیہ کے نفاذ کی اتھارٹی کے طور پر شہنشاہِ مطلق کی جانب سے انبیاءؑ کی بعثت 27:59 حضورؐ سے پہلے تمام انبیاء ایک مخصوص قوم، جغرافیے اور زمانے کے لیے مبعوث ہوئے 32:04 رسول محض ڈاکیا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کے نفاذ کے لیے قوت نافذہ بھی لے کر آتا ہے 33:04 قرآنِ حکیم؛ انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے برحق پیغام 33:53 قرآن حکیم میں انسانی سماج اور اجتماعیت کی بنیادی اقدار کی دستوری ہدایات 34:47 نبی اکرمؐ کی اتھارٹی (قوتِ نافذہ) کے دو اہم لوازمات‘ بشیر اور نذیر ہونے کا حقیقی مفہوم 39:20 نبی کی اتھارٹی کا پہلا تقاضا‘ حکومت و بادشاہت 42:46 دورِ غلامی کے تصورِ رسالت میں اتھارٹی کا انکار اور دین کی حکومت کا تصور مفقود ہو گیا 54:31 حضرت محمدؐ کے معلمِ انسانیت ہونے کا حقیقی مفہوم، ریاستِ مدینہ کی تشکیل کی اساسیات اور نظامِ عبادات کی روشنی میں حکومت، اتھارٹی اور نظام کے قیام کی اہمیت 59:17 نبی اکرمؐ کی کتابِ ہدایت قرآنِ حکیم کے ساتھ بعثت نیز کتابِ ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اتھارٹی اور نظام کی ضرورت 1:02:13 دینِ حق؛ رسول اللہ کی ہدایات پر مشتمل سسٹم کی توضیح و تشریح؛ انسانیت کو ہدایت یافتہ بنانے کے لیے حکومتی اتھارٹی قائم کرنے، ماحول بنانے اور مواقع بنانے کی ضرورت ہے 1:06:36 حضورؐ کی جانب سے راستوں کو روکنے کی ممانعت نیز ’السلام علیکم‘ کا حقیقی تقاضا‘ لوگوں کو امن، مالی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی ہے 1:12:54 دینِ اسلام کے معاشی نظام میں دھوکہ دہی کی ممانعت نیز حضرت اما
معاشرے کی تعمیر نو کے لیے سماجی شعور اور جدوجھد کی اہمیت: قبل از بعثت، نبوی ﷺ سماجی سرگرمیوں کا مطالعہ| 28-08-2026
خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 14؍ ربیع الاوّل 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (128) سورۃ التوبہ: 9 (128) ترجمہ: البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے، اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے، تمہاری بھلائی پر وہ حریص ہے، مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ بعثتِ نبویﷺ سے قبل عالمِ انسانیت کے فکری، سماجی اور اخلاقی حالات ✔ انبیائے کرامؑ کو اپنی قوم میں مبعوث کرنے کی سنّت اللہ ✔ اجنبی زبان کو معاشرے میں پروان چڑھانے کی ظالمانہ روِش کا مقصد ✔ قومی زبان میں تعلیم و تربیت کے اہتمام کا نبوی طریقہ کار ✔ مکہ میں بعثتِ نبویﷺ کے وقت تین اقسام کے معاشرتی طبقات ✔ مکّہ میں قبائلی چپقلش کی وجہ سے بدامنی کا فروغ ✔ نبی اکرمﷺ کی سماجی بصیرت اور کردار ✔ کُل قومی تعمیر و ترقی میں انبیائے کرامؑ کا اساسی کردار ✔ سماجی اور اجتماعی اُمور میں بھرپور شمولیت کا نبوی اُسوہ حسنہ ✔ رسول اکرمﷺ کی قبل از بعثت معاہدہ حِلف الفضول میں شرکت ✔ سیرتِ طیّبہ ﷺ میں معاہدہ حِلف الفضول کی اہمیت ✔ موجودہ سماج میں ظالم طبقات کی بابت بے حِسی و بے شعوری کا جاہلانہ رویّہ ✔ موجودہ ظالمانہ نظام کی سفّاکیت کے شعوری اِدراک کی ضرورت ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قبل از بعثت بھرپور سماجی کردار بطور دلیلِ نبوّت اور مدعیّانِ نبوّت کے ردّ کی کسوٹی ✔ حضرت ابوبکر صدّیق کا سفرِ معراج کی تصدیق کرنا اور مقامِ صدّیقیت کا حُصُول ✔ حضرت خُزیمہؓ کا رسولِ اکرمﷺ کے معاملے کی تصدیق، گواہی دینے کا واقعہ اور اُن کا اِعزاز ✔ رسولِ اکرمﷺ کا اعلیٰ سماجی کردار اور نبوّت کے فرضِ منصبی کا لازم و ملزوم تعلق ✔ حضرتِ خدیجہؓ کی زبانی رسولِ اکرمﷺ کی قبل از بعثت زندگی کا خُلاصہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا بعثت کے ذریعے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کا اجتماعی سماجی نظم و ضبط قائم کرنے کا اُسوہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قوم کی ہدایت و راہ نمائی کے لیے انتہائی فکرمندی اور اہلِ ایمان کے لیے حدّ درجہ شفقت کا رویّہ ✔ محبّت رسولﷺ کا بنیادی تقاضا: نبی اکرمﷺ اور جماعتِ صحابہؓ کی اتباع
حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر | 19-09-2025
حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر خُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه الله بتاریخ: 25؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 19؍ ستمبر 2025ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی : قُلْ يَا عِبَادِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّـذِيْنَ اَحْسَنُـوْا فِىْ هٰذِهِ الـدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَاَرْضُ اللّـٰهِ وَاسِعَةٌ ۗ اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِـرُوْنَ اَجْرَهُـمْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ۔ (39 - الزمر: 10) ترجمہ: ”کہہ دو اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو، ان کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے، اچھا بدلہ ہے، اور اللہ کی زمین کشادہ ہے، بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز 0:56 حضور اکر م ﷺ زندگی کے تمام شعبوں میں رہنما 04:28 حضور اکر م ﷺ کی امتیازی خصوصیت؛ تمام شعبوں کی رہنما جماعت کی تیاری 08:39 انسانی فلاح کا جامع اور عالمگیر تصوُّر 10:34 حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتی حکمتِ عملی اور داعی کے اوصاف 18:06 حضور اکرم ﷺ کی بہ طورِ داعی الی اللہ جدوجہد اور دعوتی حکمتِ عملی 27:49 اہلِ مدینہ کو دعوتِ اسلام 34:53 قبیلۂ اَوس اور قبیلۂ خزرج کی آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت اور عہد 37:57 ہجرتِ مدینہ، خدشات، معاہدات؛ مقاصدِ بعثت کے تناظُر میں مطالعہ 43:51 حضور اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد؛ عالمی نظام کا قیام 47:11 ثابت قدم ایمان والی جماعت کے لیے دنیا کی بھلائی اور زمین پر غلبے کا قرآنی تصوُّر 52:38 معاشرے کی اجتماعی ترقی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط؛ اسوۂ حسنہ کی روشنی میں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا | 21-08-2026
دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 7؍ ربیع الاوّل 1448ھ /21؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُؕ -رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(127) رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(128) رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ (129)
سورۃ البقرۃ: 2 (127-129)
ترجمہ: اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے: اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول کر۔ بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرماں بردار بنا، اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! اور ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج جو اِن پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے، اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ سلسلہ نبوّت کا تاریخی تسلسل اور نبی آخر الزّماںﷺ
✔ انسانی معاشرے کی ترقی میں حضرت ابراہیمؑ کا کردار
✔ تعمیرِ کعبہ کے موقع پر حضرت ابراہیمؑ کا دعاؤں کے ذریعے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا
✔ استقامت کا مفہوم اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت
✔ نئی اجتماعیت کی تشکیل کی بابت حضرت ابراہیمؑ کا ذہنی خاکہ اور اس کے قیام کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا
✔ نبوّت اور دین کے لیے اجتماعیت کی اہمیت اور حضرت ابراہیمؑ کا قیامِ اجتماعیت کے لیے دعا کرنا
✔ حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی قبولیت: مکّہ میں انسانی آبادی کا آغاز اور تمدّن کا قیام
✔ ابراہیمی دعا کے نتیجے میں دارالندوہ کی اجتماعیت کے ذریعے مکّہ کے شہری نظام کا قیام
✔ نبی اکرمﷺ کا فرائضِ منصبی کی تکمیل کے لیے اجتماعی جدوجہد کو اختیار کرنا اور قیامِ اجتماعیت کو بنیاد بنانے کا اُسوہ
✔ موجودہ دور کا المیہ: سیرتِ نبویﷺ کا انفرادی مطالعہ
✔ رسولِ اکرمﷺ کا شعوری بنیادوں پر عام انسان کی سطح پر زندگی گزارنے کا اُسوہ
✔ رسولِ اکرمﷺ کا جدوجہد سے بھرپور اور سادہ طرزِ زندگی گزارنے کا لائحہ عمل
✔ حقیقی محبّتِ رسولﷺ کی تشریح و توضیح: حضرت شیخ الہندؒ کا شعوری تجزیہ
✔ موجودہ دور میں بے شعوری پر مبنی محبّتِ رسولﷺ کے خود ساختہ تصوّرات کا جائزہ
✔ سیرتِ نبویﷺ سے عملی راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت
✔ معاشرے میں رائج بے شعوری پر مبنی میلاد منانے کے غلط طریقوں کا تجزیہ
✔ رسول اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں
✔ نبی اکرمﷺ کے چار مناصبِ نبوّت اور مسلمان کا مطلوبہ کردار
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.y
رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ | 21-08-2026
رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 07؍ ربیع الاول ۱۴۴۸ھ / 21؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبویہﷺ:
آیتِ قرآنی:
وَ مَا اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21 –الانبیاء:107)
ترجمہ : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر“ ۔
احادیثِ نبویہﷺ:
1۔ ”إنما أنا رحمة مهداة“. (تفسير ابن كثير :5/ 388)
ترجمہ: ” بے شک میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے لیے) سراپا رحمت اور انہیں سیدھا راستہ دیکھنے ولا ہوں“۔
2۔ ”قال: والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون، إني رحمة بعثني الله ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه، لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب“. (كنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال :11/ 464)
ترجمہ: ”نبی اکرمﷺنے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کو ضرور قتل کروں گا، اور انہیں ضرور سولی پر لٹکاؤں گا، اور میں انہیں ضرور ہدایت دوں گا خواہ وہ اسے ناپسند ہی کریں۔ بیشک میں سراپا رحمت ہوں، اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا جب تک اللہ اپنے دین کو غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، اور احمد ہوں، اور میں 'ماحی' (مٹانے والا) ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹا دے گا، اور میں 'حاشر' (اکٹھا کرنے والا) ہوں میرے قدموں میں لوگوں کو (قیامت کے دن) اکٹھا کیا جائے گا، اور میں 'عاقب' (سب کے آخر میں آنے والا) ہوں۔"
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ماہِ ربیع الاول کی اہمیت
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے پانچ موطن (نشأتیں)
✔️ آپؐ‘ وجہِ تخلیقِ کائنات، رحمتِ عالم اور نورِ ہدایت
✔️ نبی اکرمؐ کی ذاتِ قدسی‘ نورِ عرش سے ارضی فرش تک تمام مخلوقات کے لیے سراپا رحمت
✔️ آپؐ کا انسانیت کو ظالموں اور طاغوتی قوتوں سے نجات دلانا‘ ’’رحمة للعالمین‘‘ ہونے کے منافی نہیں!
✔️ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر کی روشنی میں ’’رحمة للعالمین‘‘ کا درست معنی و مفہوم
✔️ رحمت کے تین دائروں؛ رحمتِ عقلی، قلبی اور طبعی کی وضاحت اور احادیث سے استدلال
✔️ رسول اللہؐ کی تین عالمگیر حیثیتیں؛ بادشاہِ عالَم، متبحّر عالم (قانون ساز) اور مرشدِ عالم
✔️ نبی اکرمؐ کی رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے جامع حکمتِ عملی کا مطالعہ
✔️ آپؐ کی ریاستِ مدینہ اور حکمرانی کی حکمتِ عملی کی صدائے بازگشت‘ دار الندوہ میں ابوجہل کی زبانی
✔️ ابوجہل کی خوفزدگی کی حالت میں پلاننگ کی اطلاع کے موقع پر آپؐ کا سیاسی غلبے کے اظہار اور رحمت و شفقت پر مبنی ارشادات
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور سیرتِ مقدسہ کا بنیادی ہدف و مقصد
✔️ ’رحمة للعالمین‘ کے عامیانہ و انتہاء پسندانہ تصورات اور منفی اثرات‘ دورِ غلامی کا شاخسانہ
✔️ سیرتِ النبیؐ کا سب سے اہم تقاضا؛ انسانی سماج کی حالتِ مرض اور حالتِ صحت کا جائزہ لے کر رحمت کے نظام کا قیام
✔️ دورِ غلامی کا المیہ؛ آپؐ کی سیرت کے اہم پہلو‘ بادشاہِ عالم، رحمتِ سیاست اور طاغوت کے خلاف جدوجہد کا مطالعہ مفقود و عنقاء
✔️ آپؐ کی جانوروں پر رحمت و شفقت سے ظالموں اور انسانیت دشمنوں کے لیے ر
فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے | 14-08-2026
فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 30؍ صفر المظفّر 1448ھ /14؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ (15) اِذۡ نَادٰٮهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًىۚ(16) اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘(17) فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ(18) وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ(19)
سورۃ النازعات:79 (15-19)
ترجمہ: کیا آپ کو موسیٰ کا حال معلوم ہوا ہے؟ جب کہ مقدّس وادی طُویٰ میں اس کے ربّ نے اُسے پُکارا۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ پس کہو: کیا تیری خواہش ہے کہ تُو پاک ہو؟ اور میں تجھے تیرے ربّ کی طرف راہ بتاؤں کہ تُو ڈرے؟
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
00:00 آغاز
00:52 انسان کا مقام: خلیفۃ الارض
04:43 مقامِ عبدیت (عباد اللہ) اور اس کا حقیقی مفہوم
08:17 انبیائے کرامؑ کی دعوتِ توحید اور غیر اللہ سے آزادی کا تصوّر
11:19 رسولِ اکرمﷺ کی جدوجہد اور حضرت موسیٰؑ کی قرآنی تمثیل
12:56 حضرت موسیٰؑ کا پہلا مشن: بنی اسرائیل کی قومی آزادی
16:48 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا پہلا فرعونی وار: ذاتی احسانات کا بوجھ ڈالنا
18:52 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا دوسرا فرعونی وار: انفرادی لغزش کی بنیاد پر دھمکی اور دباؤ قائم کرنا
20:57 حضرت موسیٰؑ کا عظیم طرزِ عمل: اجتماعی اور قومی مفاد پر انفرادی فائدے کو قربان کرنا
25:01 انبیائے کرامؑ کا نمونہ اور موجودہ دور کے تعلیم یافتہ طبقے کا المیہ
28:31 انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی نکتہ: دور کے ظالمانہ نظام سے آزادی دلانا
30:41 برّعظیم پاک و ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے استحصالی کردار کا جائزہ
36:19 برّعظیم پاک و ہند پر برطانیہ کے ظالمانہ قبضے کا دور
39:46 برّ عظیم پاک و ہند کی آزادی کے لیے علمائے حقہ کے کردار کا اجمالی تعارف
43:03 جدوجہدِ آزادی کے سرخیلِ اوّل: امام شاہ عبدالعزیزؒ
44:24 برّعظیم پاک و ہند کے مسلم دورِ حکومت میں غیر مسلم رعایا کے ساتھ عادلانہ سلوک کے مثبت نتائج
48:00 برّعظیم پاک و ہند میں جدوجہد آزادی کا علمائے حقہ کے ذریعے انیسویں صدی عیسوی میں آغاز
50:52 جدوجہدِ آزادی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کا عظیم کردار اور موجودہ تعلیمی نظام کا مجاہدینِ آزادی کے تعارف سے چشم پوشی کا رویہ
54:00 79 سالہ آزادی کی تاریخ اور موجودہ نو آبادیاتی نظام کا سفّاکانہ رویّہ
58:16 یومِ آزادی کو بطور یومِ محاسبہ منانے کی ضرورت و اہمیت
01:03:01 ملکِ عزیز میں تعلیم، صحت اور معیشت کے میدان کی تشویش ناک صورتِ حال پر غور وفکر
01:07:04 ملکی وقار اور سلامتی میں قومی سوچ اور قومی خودمختاری کی اہمیت
01:08:49 تاریخِ جدوجہد آزادی کی بنیاد پر نوجوانوں کے سامنے قومی سوچ اور وقار پیدا کرنے کا تقاضا
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے | 14-08-2026
عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 30؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 14؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
آیتِ قرآنی:
وَوَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ. (2 -البقرہ:170)
ترجمہ : ” اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ“ ۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ 14 اگست خطے کی آزادی و حریت کا دن اور حقیقی آزادی و قربِ الہی کے لیے انبیاؑ کا کردار
✔️ انسان کی عزت اور شرف‘ صرف اللہ کی بندگی اختیار کرنے میں ہے
✔️ امام شاہ عبدالعزیزؒ کے ہاں تخلیق انسانیت کے تناظر میں انسانی مساوات کا بنیادی اصول اور حکمران کا بنیادی فریضہ؛ طبقاتی نظام کا خاتمہ اور مساوات کا قیام
✔️ دائرہ تخلیق اور دائرہ تدبیر میں فرق کے تناظر میں حق معیشت میں مساوات اور درجات معیشت میں تفاوت کے قرآنی اصولوں کی وضاحت اور ریاست کی ذمہ داری
✔️ آزادی و حریت‘ انسان کا خمیر اور بنیادی فطرت اور حقِ معیشت میں مساوات ریاستی حق‘ اس پر عقیدہ کا کوئی جبر نہیں!
✔️ انبیاؑ‘ عقل و شعور کی تعلیم اور آزادی و حریت کی دعوت دینے کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے
✔️سب سے بڑی غلامی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور مراکز کو تسلیم کرنا نیز انبیاؑ کی فطری بنیادوں پر ایک مرکزِ ہدایت (توحید) کی دعوت
✔️ توحیدِ باری تعالی کے دوعقلی و منطقی تقاضے؛ حلال طیب زرق (وسائلِ معاش) کا حصول اور معاشی زندگی میں حلال اور طیب اشیاء کا استعمال
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں احکاماتِ الہی کی اتّباع اور مشرکین کی اپنے آباؤاجداد کی غلط روش پر قائم رہنے کی ہٹ دھرمی
✔️ ان آیات کے شانِ نزول میں قریش اور یہودیوں کا اپنے بے عقل اور بے علم رہنماؤں کی اتباع پر اصرار
✔️ قرآن کا غور و فکر پر مبنی سوال؛ عقل اور ہدایت سے محروم آباء و اجداد کی پیروی کی جائے گی؟
✔️ راہِ ہدایت کی دو صورتیں نیز عقل اور ہدایت سے محروم آباء و اجداد قابلِ اتّباع نہیں!
✔️ عقل سے عاری اور ہدایت سے خالی بے شعور افراد‘ جانوروں، گونگے، بہرے اور اندھوں کی مانند ہیں
✔️ حضرت شیخ الہند ؒکے نزدیک علم کے حصول کے لیے ذرائعِ علم کے آزاد ہونا لازم و ضروری
✔️ غلام قوموں کا مرض: صحیح رائے کے اظہار سے دوری، درست علم سے لاتعلقی اور آنکھوں پر خواہشات کی پٹی بندھ جانا
✔️ نوجوان نسل میں اپنے آباؤ و اجداد کو احمق سمجھتے ہوئے سچے رہنماؤں سے لاتعلقی اختیار کرنے کا بڑھتا مرض نیز آباء واجداد کی پیروی کا درست قرآنی فہم اور حضرت ابراہیمؑ کے اسوۂ حسنہ کا تعارف
✔️ اپنی دھرتی، سچے رہنماؤں اور آباؤاجداد سے رشتہ توڑنے کا نتیجہ‘ بدیسی طاقتوں کی غلامی اور نوجوان نسل کی گمراہی (مولانا سندھیؒ کا مکہ کی سیاسی حیثیت کا تجزیہ)
✔️ حضرت ابراہیمؑ اعلی درجے کے عقل مند اور ہدایت یافتہ امام انسانیت اور حضور اکرم ﷺشبیہ ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام
✔️ ہدایت یافتہ اور عقل مند سچے رہنماؤ
انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی | 07-08-2026
*انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی*
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 23؍ صفر المظفّر 1448ھ /7؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ(11)
سورۃ الرعد:13 (11)
ترجمہ: ہر شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں، اس کے آگے اور پیچھے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انبیائے کرامؑ کا مقصدِ بعثت: فاسد تمدن کے بالمقابل صالح تمدن کا فروغ
✔ عقیدہ توحید بطور معاشرتی فساد کے اِزالہ کا ذریعہ
✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیتِ قرآنی کی وضاحت
✔ تمدن کے فروغ اور انسانی ضروریات کی تکمیل میں انسانی عقل کا کردار
✔ اجتماعیت کے فقدان کا لازمی نتیجہ: مایوسی اور لاقانونیت
✔ لاقانویت اور انتشار کا لازم و ملزوم تعلق
✔ انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی اُصول: صبر اور نظم و ضبط
✔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی نمایاں خرابی: معاشرے میں انتشار اور بدنظمی کو فروغ
✔ قانون کی پاسداری کا یورپین فریب اور عالمی انتشار میں مغربی طاقتوں کا کردار
✔ عالمی طاغوتی طاقتوں کی دنیا بھر کے آزاد اور خودمختار معاشروں میں انتشار کی سیاہ تاریخ
✔ صالح فکر اور تربیت کی بجائے ’ردّعمل‘ پر قائم جماعتوں اور تحریکات کے انسانی معاشروں پر منفی اثرات کا جائزہ
✔ سیرت رسول اکرمﷺ کی روشنی میں سماجی تبدیلی کا طریقہ کار: عدمِ تشدد
✔ عرب اور افریقہ میں ’افراتفری‘ اور ’ردّعمل‘ کی بنیاد پر پنپنے والی تحریکات کے نتائج کا مطالعہ
✔ ملکی سیاسی جماعتوں کی غلط احتجاجی حکمت عملی کے معاشرتی نقصانات
✔ سماجی تبدیلی کے لیے مسلمہ اصول: صالح فکر، جماعت سازی اور عدمِ تشدد
✔ عالمی استحصالی نظام کا افراتفری کو فروغ دینے کی حکمت عملی اور مسلمان ممالک کی بے شعوری
✔ عالمی خیراتی اداروں اور این جی اوز کا انسانی ہمدردی کا دوہرا معیار
✔ انقلاب کے عنوان سے افراتفری اور انتشار کی منفی حکمت عملی کا جائزہ
✔ فاسد نظام کی تبدیلی کا درست لائحہ عمل اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں
فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے | 07-08-2026
فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 23؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 07؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48)
ترجمہ:۔ ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ اجتماعیت‘ انسانی سماج کے لیے ناگزیر نیز قرآن حکیم کا انسانی سماج کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ایک مربوط نظامِ حیات
✔️ تعلق مع اللہ کی اساس پر انسانی سماج کے لیے صالح نظام کی ضرورت اور اہمیت
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دین اسلام کے دو بڑے مقاصد: تہذیبِ نفس اور انسانی سوسائٹی کی سیاست
✔️ تہذیبِ اخلاق اور نظام المدینہ کے تناظر میں انسانی معاملات اور تعلقات کو درست خطوط پر نظام استوار کرنا ضروری
✔️ نظام کی حقیقت و ماہیت نیز سیاست کا مفہوم دائرہ کار؛ ریاستی نظام کی صحت اور مرض کی حالت کا جائزہ
✔️ سیاسةُ الفرس، سیاسةُ الجسم، سیاسةُ النفس اور سیاسةُ المنزل کے تناظر میں سیاست کے بنیادی مقصد و ہدف کی وضاحت
✔️ سیاسةُ المدینہ؛ مملکت کے نظام اور سیاست سے بحث کرنا‘ قرآنِ حکیم کا اہم ترین موضوع
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود (اصحابِ حِجر) کے قومی نظام کے فساد اور اس کے نتیجے میں نازل ہونے والے عذاب کی وجوہات
✔️ قرآنی اصطلاح ’مدینہ‘ کی توضیح و تشریح؛ مستقل تہذیب وتمدن اور سیاسی و معاشی شناخت رکھنے والی ریاست
✔️ قومِ ثمود کی نو بڑی مؤثر شخصیات اور ان کا فسادی کردار
✔️ قرآنی اصطلاحات کی تشریح؛ ’رھط‘ کا مفہوم اور حضرت سندھیؒ کی تشریح کی روشنی میں ’الارض‘سے مراد‘ ریاست و مملکت
✔️ قومِ ثمود کی لیڈر شپ کے قائم کردہ معاشی و سیاسی نظام کی خرابیاں
✔️ سسٹم چلانے والی قوتوں کا مکر و فریب اور انسانیت دشمنی کے فسادی کردار کا اگلا شاخسانہ؛ (نعوذباللہ) حضرت صالحؑ کے قتل کا منصوبہ
✔️ حضورؐ کو درپیش قومی چیلنجز اور حضرت صالحؑ کو درپیش قومی چیلنجز میں مماثلت
✔️ تیسرا بڑا فساد؛ قومِ ثمود کا پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرنے کا مطالبہ
✔️ اونٹنی‘ دراصل ریاستی جرائم، مظالم اور قوم کے گناہوں کی تہہ در تہہ (compact) کی مجسم شکل میں قومِ ثمود پر اللہ کا عذاب بن کر ظاہر ہوئی
✔️ آج حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی طرح کرپٹو کرنسی اور آرٹیفیشل انٹیلجنس‘ قوم کے وسائل کھا رہی ہے
✔️ معجزے کا مطالبہ، اس کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کفر اور انکار پر قائم رہنا‘ معجزے کو فنا کرنے کے درپے اور عذابِ الہی میں گرفتار
✔️ اونٹنی کو قتل کرنے کے نتیجے میں پتھروں اور لینڈ سلائیڈنگ کا درد ناک عذاب
✔️ قران حکیم اور نبوی تعلیمات کا موضوع مملکت کا سیاسی نظام نیز دور کے سیاسی معاملات پر عقل و شعور کا حصول دینِ اسلام کا ایمانی تقاضا
✔️ قصص القرآن سے حاصل کردہ عبرت کے تناظر میں ’اصلاح فی الارض‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت سے مقصود موجود نظام پر بحث
✔️ نظام کی وضاحت نیز ہر نظام اپنے بنانے والی قوتوں کے فکر و نظریے کا عملی اظہار ہوتا ہے
✔️ مسلمان ایک فرد سے لے کر بین الاقوامی دائرے کا نظام‘ ملتِ مصطفویہ کے بیانیے کی اساس پر قائم کرتا ہے
✔️ بالائی نظام‘ ذیلی نظاموں پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے انسانی جسم کا مرکزی نظام اور اس کے ذیلی نظا
قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت | 31-07-2026
قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 16؍ صفر المظفّر 1448ھ /31؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُۚ-وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى(23) اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘(24) فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠(25)
سورۃ النجم:53 (23-25)
ترجمہ: یہ تو صِرف نام ہی نام ہیں جو تُم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں، جِن پر خُدا نے کوئی سَنَد بھی نہیں اُتاری، وہ محض وہم اور اپنی خواہش کی پَیروی کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس اُن کے ربّ کے ہاں سے ہدایت آ چکی ہے۔ پِھر کیا انسان کو وُہی مِل جاتا ہے جس کی تمنّا کرتا ہے؟ پس آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انبیائے کرامؑ کی تعلیمات بطور حقیقت شناسی کا پیغام
✔ حضرت آدمؑ کی مخلوقات پر برتری کی وجہ: کائناتی حقائق کا عِلم
✔ کائنات کی مرکزی حقیقت کا ادراک اور عقیدہ توحید کی اہمیت
✔ حقائق اور ہدایت کی بنیاد پر انبیائے کرامؑ کی تعلیمات اور ان کے مقابل وساوس و توہّمات کا بے بنیاد نظام
✔ خطبے میں مذکور آیت کی روشنی میں ’ہوائے نفس‘ کی وضاحت
✔ ’ہدایت‘ کی حقیقت اور اس کا تاریخی تسلسل
✔ جاہلیت کے حامل معاشرے کا توہمات کے ساتھ لازم و ملزوم تعلق
✔ ملکی سیاسی مسائل کے حل کی بابت مقتدرہ کی سیاسی توہمات پر مبنی غیر شعوری تجویز کا تجزیہ
✔ ماہِ صفر المظفّر میں موجود معاشرتی توہمات کا تحلیل و تجزیہ
✔ سیاسی توہمات پر مبنی استحصالی کاروبار کے ظالمانہ نظام کا جال
✔ ملکی استحصالی نظام کی تباہ کاریاں اور اس کو تحفظ فراہم کرنے والی مقتدرہ کے غلط رویے
✔ پُر فریب نعروں کی جھنکار میں ظالمانہ نظام کی اسّی سالہ تاریخ کا تجزیہ
✔ حقیقت پسندی پر مبنی شعوری فکر اور جدوجہد کی ضرورت و اہمیت
اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ | 31-07-2026
اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 16؍صفرالمصفر ۱۴۴۸ھ / 31؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ اِنَّمَا اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ (13 -رعد:7)
ترجمہ : ”تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا“ ۔
2۔ اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ (28 -قصص:76)
ترجمہ : ”قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر“۔
حدیثِ نبویﷺ:
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ:”خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ، فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ، وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ“. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”معاملے پر غور و فکر کر، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر “۔ (مشکوٰۃ المصابیح :5057)
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآن کے ذریعے کچھ اقوام کامیاب اور کچھ اس کی ہدایات کو پسِ پشت ڈال کر گمراہ
✔️ قرآنِ حکیم کا بنیادی موضوع‘ اقوامِ عالم نیز گزشتہ انبیاء کی تعلیمات فرد، خاندان اور قوم کی ترقی اور کامیابی کے لیے تھیں
✔️ تورات اور قرآن کی تعلیمات اور حضرت موسیٰؑ و حضورؐ کی جدوجہد کا دائرہ کار
✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی دو آیات کی روشنی میں قومی و بین الاقوامی نظام کے خط و خال اور تشکیل
✔️ آپؐ کا ہدف؛ قومی تعصبات سے بالاتر تعلیم و تربیت، جماعت کی تیاری اور قومی اساسیات
✔️ زوال کا سبب؛ قومی مفادات کے اجتماعی نظام سے بغاوت اور اغیار کی آلہ کاری
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں بنی اسرائیل کی قومی شناخت توڑنے والے قارون کا منفی اور باغیانہ کردار کا ذکر
✔️ باغی کی وضاحت کے تناظر میں قارون کی قومی بغاوت، حضرت موسیٰؑ کی توہین اور تعلیمات کے انکار کی سزا کا تفصیلی جائزہ
✔️ قارون کی طرح مکہ و طائف کے سرداروں کا حضورؐ سے حسد و بغض، قومی بغاوت کا ارتکاب، ابوطالب سے شکایت اور آپؐ کی بشارت
✔️ کلمۂ طیبہ؛ قومی و بین الاقوامی ترقی کا مکمل عنوان نیز آپؐ کے قومی ترقی اور انسانیت دوستی کے بین الاقوامی پروگرام پر قریش کا اظہارِ تشویش
✔️ عرب اور اقوامِ عالم کے مفادات کا شعور اور آپؐ کے سگے رشتے داروں کی قومی بغاوت، توہین پر مبنی رویے اور انسانیت دوست اور قومی و بین الاقوامی ترقی کی تعلیمات کا انکار
✔️ نبوی شعور اور قرآنی تعلیمات کی اساس پر عربوں و ترکوں کی ہزار سالہ حکومت میں ہر قوم کے مفادات کی حفاظت
✔️ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی حیدرآباد دکن کے غیر مسلم راجہ کی دلجوئی اور علاؤ الدین خلجی سے مال کی واپسی
✔️ تجارت کے نام پر یورپین بھیڑیوں کی وسائل کی لوٹ مار اور عرب مسلم تاجروں کا دیانت پر مبنی کاروبار
✔️ مغل حکمرانوں کا ایسٹ انڈیا کمپنی کو بلا تعصب تجارت کی اجازت لیکن ان کی بغاوت و غداری
✔️ پورپین بھیڑیوں کے مدد گار اور معاون غدّار اور قوم سے بغاوت ک
اَکْل بِالبَاطِل‘ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر | 24-07-2026’
”اَکْل بِالبَاطِل“ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 9؍ صفر المظفّر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ- اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(29) وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا- وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30)
سورۃ النساء 4: (29-30)
ترجمہ : اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ آپس کی خوشی سے تجارت ہو، اور آپس میں کسی کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو شخص تعدّی (سرکشی) اور ظلم سے یہ کام کرے گا تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔
✔ انسانیت کے لیے تسخیرِ کائنات کا الٰہی نظام
✔ معیشت میں تعاونِ باہمی اور تبادلہ اشیاء کا نظام
✔ خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ کا مفہوم
✔ حدیثِ نبویﷺ کی روشنی میں ’’بِرّ‘‘ کی وضاحت
✔ ’’اِثم‘‘ کا مفہوم
✔ منصبِ قضا اور اِفتاء کا دائرہ کار اور بنیادی ذمہ داریاں
✔ رزقِ حلال اور دینِ اسلام میں نیکی کا نظام
✔ مالِ حرام سے صدقہ دینے کا حُکم
✔ موجودہ معاشرے میں ٹیکسز کا ’’لاقانونی“ ظالمانہ نظام
✔ ملکی عدمِ استحکام کی اہم وجہ: قومی معیشت سے محروم نظام
✔ موجودہ معاشرہ میں ’’اکل بالباطل‘‘ کے وسیع تر نظام کی سفاکیّت
✔ بالواسطہ ٹیکسز اور بِھیک کے فروغ پر مبنی قومی معاشی نظام کی زبوں حالی
✔ ’اکل بالباطل‘ پر مبنی منظم نظام کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ پر قائم موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کی تباہ کاریاں
✔ موجودہ فرسودہ معاشی نظام کے شعوری تجزیہ کی ضرورت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (�) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا
شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ | 24-07-2026
شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 09؍صفر المظفر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَا اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖوَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ.
(2 -البقرہ:174)
ترجمہ : ”بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول، وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ، اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے ہے عذاب دردناک“۔
حدیثِ نبویﷺ:
”مَن كتمَ علمًا ألجمَهُ اللَّهُ يومَ القيامةِ بلجامٍ من نارٍ “.
(كنز العمال :10/ 217)
ترجمہ: ”جس نے علم چھپایا تو اللہ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا“.
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ کتاب مقدس‘ انسانیت کی ہدایت اور ترقی کا ذریعہ
✔️ انبیائے کرامؑ کا ہدف‘ انسانوں کو تعلیم یافتہ بنانا
✔️ حقیقی علم کی تعریف نیز علمِ الٰہیات کی عظمت و جامعیت
✔️ حصولِ علم کے تین ذرائع؛ عقل، نقل اور کشف
✔️ علمی ذرائع سے ملّتیں اور شرائع و مناہج بننے کا عمل
✔️ قرآن حکیم‘ وحی الہی کے علوم کا جامع ترین ایڈیشن
✔️ حقیقی اور قابلِ عمل علم جو انسانی زندگی کے تمام مراحل میں فائدہ مند ہو
✔️ علمِ نبوت؛ اقترابات و ارتفاقات کا جامع ترین علم
✔️ انبیاءؑ تعلیم و تربیت پر اجر کا مطالبہ نہیں کرتے
✔️ حصولِ علم‘ ہر انسان کا بنیادی حق و فریضہ نیز اس کی ادائیگی ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری
✔️ مسلم دورِ عروج کے ہزار سال میں تعلیم اور صحت‘ ریاست کی ذمہ داری
✔️ زوال پذیر اقوام کا بنیادی مرض‘ کتمانِ علم اور تعلیم کا معاوضہ طلب کرنا
✔️ وسائل پر قبضے کی ہوس، لالچ اور بھوک کے مرض میں مبتلا اقوام و ممالک
✔️ یورپی اقوام کا مسلمانوں کے علوم اور ریسرچ کو دنیا سے چھپانا
✔️ گزشتہ تین سو سال سے علومِ انبیاءؑ اور کتبِ الہیہ کے احکامات کے کتمان کی روش
✔️ قرآن و حدیث کی روشنی میں کتمانِ علم کی سخت وعید اور سزائیں
✔️ سرمایہ و محنت کی اساس پر سرمایہ داری اور سوشلزم کو شرعی دلائل سے ثابت کرنے کا غلط فہمی پر مبنی بیانیے کا جائزہ
✔️ حقیقی علم کے کتمان اور انسانیت دشمن علم کے فروغ کا عصری جائزہ
✔️ 1857ء کے بعد علماءِ حق کا خطے کے حقیقی علوم کو محفوظ کرنا
✔️ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری، علم بیچنے کا کاروبار اور عوام کی عطیہ کردہ زمینوں پر قائم اسکول و کالجز کو ٹھیکے پر دینے کے علم دشمن عمل کا جائزہ
✔️ پرائیویٹ اسکولوں کے نام پر اساتذہ اور والدین کا استحصال اور کتمانِ علم
✔️ مدارس کا رسمی نصاب‘ سماجیات، سیاسیات اور معاشیات سے خالی
✔️ کتمان علم کی بڑی بھیانک مثال‘ سرمایہ داری کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا
✔️ آزاد ممالک میں مقامی طریقہ ہائے علاج کا فروغ اور سرمایہ دار ممالک میں جبری پابندی
✔️ ادویات پر ریسرچ کے حقیقی نتائج کو چھپانے کا عمل
✔️ حقیقی علم کے کتمان کی مجرمانہ روش اور تعلیم و صحت کے قومی نظام کی عصری ناگزیریت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمی
تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی | 17-07-2026
تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 2؍ صفر المظفّر 1448ھ /17؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(116)
سورۃ ھود 11: (116)
ترجمہ: سو ان جماعتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو تم سے پہلے تھیں؟ جو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے، جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا، اور جن لوگوں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہی لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں، اور وہ مجرم تھے۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ معاشرے میں خیر کے غلبہ اور شر کے خاتمہ کی اہمیت
✔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اساسی فہم و شعور
✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
✔ منکر کے خلاف مزاحمتی شعور کا اجتماعی فائدہ
✔ معاشرے میں فساد فی الارض کے تعین اور اس کے خلاف شعور کی قرآنی منشا
✔ اُخروی کامیابی کے لیے پاکیزہ کردار کی بنیادی شرط
✔ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کی اہمیت
✔ مُلکِ عزیز میں فساد فی الارض کے حقیقی اسباب کا جائزہ
✔ ملکی فرسودہ سیاسی و معاشی نظام کے بھیانک اثرات
✔ فساد فی الارض پر مبنی ظلم پیشہ طبقات کے ہتھکنڈے
✔ معاشرے کے حقیقی مجرمین (ملاء و مترف) کی شناخت اور ان کے خلاف شعور کا نبوی طریقہ کار
✔ تفقّہ (سیاسی شعور) کے بغیر نیکی کا اثر
✔ فساد فی الارض کا اصل سبب: عالمی سرمایہ دارانہ نظام
✔ منکرات اور فساد فی الارض کی موجودگی میں نیکی کے تصوّر کا جائزہ
✔ ملکِ عزیز میں انسانی حقوق کے تحفّظ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی ناگفتہ بہ صورتِ حال
✔ سماجی جدوجہد میں عدمِ تشدّد کی حکمتِ عملی کی اہمیت
✔ سرمایہ پرست ذہنیت سے شعوری مزاحمت کی حکمت عملی کی افادیت
✔ صبر و استقلال کے ساتھ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کا نبوی اسوہ
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہ | 17-07-2026
ماپ تول کے تطفیفی نظام سے کرپٹو کرنسی تک؛ دین عدل کی تعلیمات کی رہنمائی میں مصنوعی زرّ کے استحصالی مالیاتی نظام کا شعوری جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 02؍صفر المظفر 1448ھ / 17؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (1) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ ۖ (2) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَﭤ(3) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ (4) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ (5) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَﭤ(6)
(83 –مطففین:1تا6)
ترجمہ : ”خرابی ہے گھٹانے والوں کی، وہ لوگ کہ جب ناپ کرلیں لوگوں سے تو پورا بھر لیں، اور جب ناپ کردیں ان کو یا تول کر تو گھٹا کردیں، کیا خیال نہیں رکھتے وہ لوگ کہ ان کو اٹھنا ہے، اس بڑے دن کے واسطے، جس دن کھڑے رہیں لوگ راہ دیکھتے جہان کے مالک کی“۔
حدیثِ نبویﷺ
”قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ «خَمْسٌ بِخَمْسٍ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا خَمْسٌ بِخَمْسٍ؟ قَالَ «مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا سُلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ وَمَا حَكَمُوا بِغَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللهُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الْفَقْرُ وَلَا ظَهَرَتْ فِيهِمُ الْفَاحِشَةُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الْمَوْتُ وَلَا طفَّفُوا الْمِكْيَالَ إِلَّا مُنِعُوا النَّبَاتَ وَأُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَلَا مَنَعُوا الزَّكَاةَ إِلَّا حُبِسَ عَنْهُمُ الْقَطْرُ»“.
(ابن ماجہ)
ترجمہ : ”نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پانچ چیزوں کے بدلے پانچ سزائیں ہیں۔“صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! وہ پانچ کے بدلے پانچ کیا ہیں؟“آپ ﷺ نے فرمایا: جب بھی کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے۔ جب بھی وہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے علاوہ (دوسرے قوانین کے ذریعے) فیصلے کرتے ہیں، تو ان میں غربت پھیل جاتی ہے۔ جب بھی کسی قوم میں کھلم کھلا بدکاری (فحاشی) عام ہوتی ہے، تو ان میں طاعون اور ناگہانی اموات (وبائیں) پھیل جاتی ہیں۔ جب بھی لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، تو ان کی پیداوار (سبزہ و نباتات) روک لی جاتی ہے اور انہیں قحط سالی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ز اور جب بھی لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی روکتے ہیں، تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ دینِ اسلام کے تین مقاصد و اہداف؛ انسانی جان و مال و عزت کی حفاظت کے نظام کا قیام
✔️ ان تین دائروں میں غیر محفوظ انسانیت‘ تعلق مع اللہ سے محروم
✔️ مالی لین دَین کی خرابی کے سدِ باب میں حضرات انبیاءؑ کا کردار
✔️ قومِ شعیبؑ کے خراب تجارتی معاملات اور حضرت شعیب علیہ السلام کی جدوجہد
✔️ نبوت کا ہدف؛ عبادتِ الٰہی کے ساتھ انسانی معاملات کو عدل پر استوار کرنا
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا شانِ نزول اور پسِ منظر
✔️ یمن اور شام کی تجارتی منڈیوں کا مدینے کی تجارتی گزرگاہ سے تعلق
✔️ لین دَین کے پیمانے؛ کیل، صاع اور مُدّ
✔️ نبی اکرمﷺ کی آمد سے قبل اہلِ مدینہ کی ماپ تول میں کمی اور تطفیف کی روش
✔️ تطفیف کی تعریف اور مستعملات نیز اہلِ مدینہ کی روش پر قرآنی انذار و تنبیہ
✔️ ریاست مدینہ کے قیام کے بعد اہلِ مدینہ کا مالی معاملات میں مثالی و روشن کردار
✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں قومی ترقی کی راہ میں حائل پانچ رکاوٹیں؛
۱۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر عہد شکنی سے
نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہ | 10-07-2026
نوآبادیاتی نظام کے دجل و فریب سے نجات اور عادلانہ نظامِ اقدار کا غلبہ
صداقت کی اساس پر منہج کے تعین کی قرآنی رہنمائی
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 24؍ محرم الحرام 1448ھ /10؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا(80) وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(81) سورۃ بنی اسرائیل17: (80-81)
ترجمہ: اور کہہ: اے میرے رب! مجھے خوبی کے ساتھ پہنچا دے اور مجھے خوبی کے ساتھ نکال لے، اور میرے لیے اپنی طرف سے غلبہ دے جس کے ساتھ نصرت ہو۔ اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
00:48 دنیا میں مثبت و منفی اقدار کی کشمکش کا نظام
01:59 شیطان کا مقصد: تذلیلِ انسانیت
06:02 انبیائے کرامؑ اور ان کے متّبعین کی جدوجہد: سچائی کا غلبہ
11:31 رسول اللہﷺ کے شخصی اوصاف کا کمال اور دشمن کا برملا اعتراف
13:33 رسول اللہﷺ کی مکی زندگی کی جدوجہد کا خلاصہ: انسانیت کو ظلم اور جہالت سے نجات دلانا
15:29 خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
17:46 اسوہ نبویﷺ کا اہم پہلو: ظالم طبقے سے ’’مداہنت‘‘ (سمجھوتہ) کا ردّ
21:21 تعلیماتِ انبیائے کرامؑ کا اہم سبق: جھوٹ اور سچ کی آمیزش (دجل) کا انکار
24:43 معاشرے میں جھوٹی اقدار کے بالمقابل سچی اقدار کا تعارف و غلبہ: سیرت النبیﷺ کے واقعات کے تناظر میں راہ نمائی
29:45 حق اور سچ کی بنیاد پر نئے معاشرے کے قیام کا طریقہ: ہجرتِ مدینہ کے تناظر میں راہ نمائی
32:28 سچے اور جھوٹے لیڈروں کے تعارف کی اہمیت: تاریخ برعظیم پاک و ہند کا تجزیاتی مطالعہ
38:52 سچ اور حقائق کی بنیاد پر موجودہ حالات کے تجزیہ کی ضرورت اور جھوٹے کرداروں سے بچنے کی اہمیت
44:04 دینِ اسلام میں نظمِ حکومت کے قیام اور تشکیلِ ریاست کی اہمیت
47:27 غلبہ دین کا درست مفہوم: عدل اور اعلیٰ انسانی اقدار کا غلبہ
53:10 غلبہ دین کے لیے باطل کو مٹانے کی ضرورت
54:44 تاریخ کے متوازن تجزیے کی اہمیت
56:46 قرآنی تعلیمات کے تناظر میں دُعا کا درست طریقہ کار اور اسوہ حسنہ سے راہ نمائی
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ | 10-07-2026
عدل و انصاف اور احترامِ انسانیت کے قرآنی اصول: تقسیمِ اختیارات کی مسلم روایت اور نوآبادیاتی لاقانونیت کا شعوری جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 24؍ محرم الحرام 1448ھ / 10؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ . (4 –النساء:58)
ترجمہ : ”اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے، بیشک اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو“۔
2۔ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا. (33 –الاحزاب:58)
ترجمہ: ”اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو بدون گناہ کئے تو اٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا اور صریح گناہ کا“۔
حدیثِ نبویﷺ:
”أَرْبَى الرِّبَا عِنْدَ اللَّهِ اسْتِحْلَالُ عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ“.
(تفسير ابن أبي حاتم: 10/ 3153)
ترجمہ: ”اللہ کے نزدیک سب سے بڑا سود؛ایک مسلمان شخص کی عزت پامال کرنا ہے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ عدل؛ تمام قوانین اور شرائع الہیہ کی قدرِ مشترک
✔️ قرآن حکیم میں حکمرانوں کو عدل کے قیام کا خصوصی حکم
✔️ عدل و انصاف کی رو کے منافی حکم اور فیصلہ کرنے کی ممانعت
✔️ عدل کی اساس پر تین دائروں میں احترامِ انسانیت لازمی و ضروری
✔️ اثمِ مبین؛ بغیر کسی جرم کے کسی انسان کو ایذا و تکلیف پہنچانا
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور شانِ نزول
✔️ قرآنی حکم کی روشنی میں اسلامی نظام میں انتظامی اور عدالتی اختیارات کو الگ الگ رکھا گیا
✔️ قانون سازی و فیصلہ سازی میں خلفائے راشدینؓ‘ مجلسِ مشاورت و عدلیہ کے پابند تھے
✔️ دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی روشنی میں بارہ سو سالہ مسلم دورِ حکومت میں مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ کے اختیارات کی تقسیم کا نظام قائم رہا
✔️ شہریوں کو حبس بے جا اور ماوراءِ عدالت قتل کرنے کی کھلی چھٹی کا ظالمانہ قانون
✔️ قرآنی آیت کی روشنی میں ظالمانہ نو آبادیاتی دور کے پولیس سسٹم اور عدالتی اختیارات کو بدلنے کی ضرورت نہیں؟
✔️ بغیر شواہد و ثبوت کے الزام ترشی اور ایذا و تکلیف پہنچانا‘ بہتانِ عظیم اور اثمِ مبین
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی فکر کی روشنی میں ”البِرّ“ اور ”الاثم“ کی جامع تعریف
✔️ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں عزت کے تحفظ اور غیبت و بہتان تراشی کی مذمت
✔️ تہذیب یافتہ اور غیرت مند اقوام اپنی قومی شناخت اور عزت و وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتیں!
✔️ قوموں کو بظاہر آزادی دینا مگر عزت و وقار کی پامالی کا سامراجی حربہ
✔️ سیاسی و معاشی غلامی کے گرداب کے ساتھ ساتھ قوم پر لاقانونیت اور ظالمانہ قوانین کا عذاب مسلط
✔️ اہلِ علم و دانش کی بنیادی ذمہ داری؛ مروجہ ظالمانہ سسٹم کی خرابیوں پر غور و فکر کرکے درست کرنے کی ضرورت
✔️ حضرت عمر فاروقؓ کا بطورِ حکمران روشن کردار اور احساس ذمہ داری کی واضح مثالیں
✔️ عقل و شعور کی اساس پر عادلانہ نظام کا قیام ہر فرد کا اجتماعی فریضہ
✔️ آخرت کی سزا و جزا کا دار و مدار‘ دنیا میں اجتماعی نظام اور فیصلوں پر منتج
✔️ آج کا المیہ؛ انفرادی جرائم اور گناہوں پر ندامت لیکن اجتماعی جرائم اور نظام کی خرابیوں سے پہلو تہی
✔️ انسانی حقوق کی پامالی ا
سیمینار| ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ
ابراہیمی اصول اور تاریخی تسلسل؛ بدلتے عالمی تناظر میں مسلم نوجوانوں کے قومی کردار کا جائزہ
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
برموقع سیمینار
بتاریخ : 25؍ ذیقعدہ 1447ھ / 13؍ مئی 2026ء
بمقام : مدرسہ رحیمیہ دارالقرآن آئی ٹن ون، اسلام آباد
۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ بین الاقوامی حالات کی تبدیلی کے تناظر میں موضوع کی اہمیت
✔️ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی بکھرتی ہوئی طاقت
✔️ مدِ مقابل عالمی قوتوں کی محدودیت اور داخلی مسائل
✔️ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں بنگلہ دیش سے لے کر مراکش تک مسلم اکثریتی علاقوں کی ذمہ داری
✔️ مسلم معاشروں میں دین اسلام کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر قومی اجتماعی طاقت پیدا کرنے کی ضرورت
✔️ موجودہ جنگ کے تناظر میں پاکستان کی معاشی، سیاسی اور سماجی ابتری کی حالت
✔️ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطابق ترقی اور خوشحالی کے لیے دینی فکر پر قومی شناخت پیدا کرنے کی ضرورت اور اہمیت
✔️ حضرت ابراہیمؑ کی جدوجہد اور فکر کے تناظر میں مشرق وسطیٰ و بلاد شام و مصر کی سماجی، سیاسی و معاشی صورت گری
✔️ انسانی مسائل کے حل کے لیے ابراہیمی اصولوں پر عملی سیاسی معاشی و سماجی نظام کے قیام کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ
✔️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد ابراہیمی اصولوں پر بین الاقوامی سماج کی تشکیل
✔️ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں حقائق اور معروض کو سمجھنے اور حقیقی مسائل کا ادراک حاصل کرنے کی ضرورت و اہمیت
✔️ سائیکوٹ پائیکوٹ معاہدے کے تحت مشرق وسطی کی برطانوی تقسیم
✔️ ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی مسلمان خطوں کے وسائل پر نظر
✔️ شمال مغربی ہند کی مسلم تاریخ کا آغاز‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں کابل کی فتح اور اردگرد کی اقوام کے اسلام قبول کرنے سے ہوتا ہے
✔️ اس دھرتی کے مسلمان ہندوستان میں آٹھ سو سالہ دین اسلام کے نظام کی تاریخ سے ناواقف ہیں
✔️ بدلتے ہوئے عالمی نظام اور طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن میں دینی فکر کی اساس پر قومی اجتماعیت اور سیاسی وحدت پیدا کرنے ضرورت
✔️ مسلم اقوام کی اپنی تاریخ سے ناواقفیت کے اثرات و نتائج
✔️ سماجی تشکیل نو اور قومی شناخت پیدا کرنے کے لیے قرآن چار رہنماء اصول
✔️ پہلا اصول: سامراجی طاقتوں سے قومی آزادی کا حصول
✔️ دوسرا اصول: عدل کی اساس پر سوشل کنٹریکٹ کا قیام
✔️ تیسرا اصول: بلا تفریق رنگ نسل مذہب سیاسی امن و امان کا قیام
✔️ چوتھا اصول: اپنے وسائل کے آزادانہ و عادلانہ استعمال کی اساس پر معاشی خوشحالی
✔️ تاریخی تسلسل توڑنے والی اقوام؛ اپنی شناخت سے محرومی اور غلامی
✔️ ایران اور جاپان نے اپنا قومی تسلسل ٹوٹنے نہیں دیا
✔️ قومی تاریخی تسلسل سے کٹ جانے کے اثرات و نتائج
✔️ موجودہ دور میں مسلم اقوام کی ذمہ داری
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
سیمینار | معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات | مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
معاشی عدم مساوات کے عوامی صحت پر اثرات
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
برموقع سیمینار
بتاریخ : 25؍ ذیقعدہ 1447ھ / 13؍ مئی 2026ء
بمقام : سی پی سی ہال، نیو ٹیچنگ بلاک، ہولی فیملی ہسپتال، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی
۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ اہل علم کی سنجیدہ مجالس معاشرہ کی ترقی کا ذریعہ
✔️ الہی تعلیمات اور کتبِ سماویہ میں انسانی معاشروں کے مسائل زیر بحث
✔️ مکہ مکرمہ اور حجاز کی جغرافیائی و تجارتی اہمیت
✔️ پبلک ہیلتھ اور حفظانِ صحت کے دینی اصول
✔️ ذہنی صحت کے لیے مثبت سوچ کی اہمیت
✔️ جسمانی صحت کا تعلق کھانے پینے اور غذا سے ہے
✔️ کھانے پینے کی اشیاء کو حلال و حرام قرار دینے کی بنیادی حکمت
✔️ جسمانی طہارت کا نبوی نظام
✔️ راستوں اور محلوں کی صفائی کی اہمیت
✔️ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم کے مطابق صحت اور فراغت‘ بہت بڑی نعمت
✔️ معاشی ناہمواری اور غذائی کمی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ
✔️ صحتِ عامہ‘ ریاستی ذمہ داری نیز قومی آزادی کے حصول کے بغیر صحت عامہ کا حصول ممکن نہیں
✔️ داخلی اور خارجی امن کا ماحول جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ضروری
✔️ صحت مند معاشرہ کے لیے معاشی خوشحالی کی اہمیت
✔️ آزادی کے حصول کے بعد نو آبادیاتی دور کے نظام سے نجات ضروری
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
باہمی تعاون کے معاہداتی سماج کی تشکیل ؛ نبوی تربیت کے اجتماعی کردار کے تناظر میں | 03-07-2026
باہمی تعاون کے معاہداتی سماج کی تشکیل ؛ نبوی تربیت کے اجتماعی کردار کے تناظر میں
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 17؍محرم الحرام 1448ھ / 03؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہنما قرآنی آیت
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًاؕ- تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍؕ-اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖؕ-وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(92)
سورۃ النحل16: (92)
ترجمہ: اور اس عورت جیسے نہ بنو جو اپنا سُوت محنت کے بعد کات کر توڑ ڈالے کہ تُم اپنی قَسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بنانے لگو محض اس لیے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے۔ اللہ اس میں تمہاری آزمائش کرتا ہے۔ اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو اللہ اسے ضرور قیامت کے دن ظاہر کردے گا۔
۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ دینِ اسلام بطور دینِ فطرت
✔ رسول اکرمﷺ کے اخلاقِ حسنہ بطورِ خاص ایفائے عہد کا وصفِ باکمال
✔ دینی تعلیمات میں فطری سماجی معاہدات کی اہمیت
✔ صالح معاشرہ کی پہچان: فطری معاہدات کی تکمیل کا نظام
✔ فطری معاہدات کی خلاف ورزی کے نتیجے میں مِلل سابقہ کی تباہی کی قرآنی مثالیں
✔ ظالم طاقتوں کی جانب سے قانونِ فطرت کے بالمقابل تشکیل دیے گئے جھوٹے فلسفوں کی حقیقت
✔ قانونِ فطرت کی تابعداری کا انبیائے کرامؑ کی دعوت میں نمایاں مقام و مرتبہ
✔ سُوت کاتنے والی عورت کی قرآنی تمثیل اور اس کی وضاحت
✔ موجودہ معاشرے میں بداعتمادی کا بحران اور اس کے بھیانک نتائج
✔ اسوہ رسول اکرمﷺ: معاہدات کی اِیفاء کا نمونہ
✔ سوسائٹی کی تشکیل میں معاہدات کی اہمیت اور نبوی حکمت عملی
✔ رسول اکرمﷺ کا فتح مکہ کے موقع پر ایفائے عہد کی حکمت عملی
✔ معاہدات کی خلاف ورزی کو بطورِ جُرم اور اس کی سزاؤں کا دینی تعلیمات میں بیان
✔ صُلُح حُدیبیہ کے موقع پر ابوجُندلؓ کو دشمن کے سپرد کرنےکے واقعہ سے سبق
✔ رسول اللہﷺ کا غیر مسلم قبیلہ سے ایفائے معاہدہ کا نمونہ اور فتح مکہ کا واقعہ
✔ فتحِ مکہ کے موقع پر ایفائے عہد کی نبوی مثال اور دورِ خلفائے راشدین کے عمدہ معیارات
✔ حضرت امیرِ معاویہؓ کا دشمن پر پیش قدمی کا واقعہ اور ایفائے عہد کا اہم پہلو
✔ چینی انقلاب کے پیشوا کا دورِ خلفائے راشدین سے راہ نمائی کی مثال
✔ دورِ نبویﷺ اور خلفائے راشدین کے مطالعہ کی موجودہ دور میں اہمیت و ضرورت
✔ حضرت امیرِ معاویہؓ کا حضرت علیؓ کی مخالفت کے بابت رومی حکمران کو سخت جواب
✔ صحابہ کے مابین اختلافات کی اصل حقیقت اور موجودہ دور میں اس سے راہ نمائی
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | مفتی عبد المتین نعمانی
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب: حضرت مولانا مفتی عبد المتین نعمانی صاحب
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب: حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تقریبِ رونمائی | شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری و آثارِ شیخ الہندؒ | ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن
تقریبِ رونمائی دو کتب
1۔ شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری (اُردو)
(صحیح بخاری شریف کے ابواب کی تفہیم و تشریح)
تالیف: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ
2۔ آثارِ شیخ الہندؒ ؛ خطبات، مقالات و مکتوبات
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ (اُردو)
ترتیب، تحقیق و تخریج
حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
اظہارِ خیال:
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 7؍ محرم الحرام 1448ھ /23؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء | مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
تکمیلی نشست دورہ تفسیر قرآن حکیم 2026ء
دس روزہ دورۂ تفسیر کی تکمیل پر خصوصی ارشادات
خطاب : حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 12؍ محرم الحرام 1448ھ / 28؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ دورہ تفسیر کا مقصد‘ علمائے ربانیین کے طریقے کے مطابق قرآن حکیم کے مضامین سے آگہی و شعور حاصل کرنا
✔️ قرآن حکیم کی تفسیر کے لیے جماعتی طریقہ کار‘ ولی اللہی فکر و نظریے کے تحت انفرادی تصورات کی نفی ضروری
✔️ قرآنِ حکیم کی تفسیر کے لیے رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ اور جماعت صحابہؓ کا طریقہ کار
✔️ کسی فرد یا خاندان کے تناظر میں قرآن حکیم کی تفسیر کو امت نے بحیثیتِ مجموعی کبھی قبول نہیں کیا
✔️ سماجی تشکیل کے لیے اجتماعی طریقہ کار کے مطابق تفسیر قرآن کی اہمیت
✔️ شاہ صاحبؒ کے نزدیک دین اسلام کی عبادات کے اجتماعی ہونے کی اہمیت
✔️ دور حاضر کا فتنہ: جماعتی تسلسل، سلف صالحین کے فہم اور علمائے ربانی کے سواد اعظم کی بجائے فرد واحد کی رائے کو معتبر مان لینا
✔️ جماعتِ صحابہؓ‘ قرآن حکیم کو سمجھنے کے لئے معیار ہے
✔️ موجودہ دور کا فتنہ‘ شخصی آراء کی اساس پر دین اسلام کی مغلوبانہ تفسیر ہے
✔️ ولی اللہی فکر کی اساس اجتماعیت پر ہے
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی خصوصیت: جماعت انبیاءؑ کی بنیاد پر رسول اللہؐ کی تربیت یافتہ جماعتِ صحابہؓ کے تسلسل کے ساتھ دین اسلام کی تاریخ، افکار و نظریات کی وضاحت
✔️ دین اسلام کی شعبہ جاتی تقسیم کے بعد بھی تمام محدثین، فقہاء، صوفیاء، اولیاء اللہ اور عادل حکمران سماجی بھلائی کے نظام پر متفق رہے ہیں
✔️ ’’الجادّۃ القویمة المحمدیة‘‘ کے تناظر میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی متعین کردہ سیدھی شاہراہ
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ سے لے کر شاہ سعید احمد رائے پوریؒ تک، ولی اللہ جماعت کی تسلسل کے ساتھ قرآن حکیم کی اساس پر سماجی بھلائی کی جدوجہد کی شاندار اور روشن تاریخ
✔️قرآن فہمی کے ولی اللہی طریقہ کار کے مطابق ذاتی آراء کے بجائے جماعتی رائے‘ تفسیرِ قرآن میں اساس کی حیثیت رکھتی ہے
✔️ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے نزدیک سواد اعظم کا حقیقی معنی اور اس کی اساس پر قرآن فہمی کا جماعتی طریقہ کار
✔️ خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں تفسیرِ قرآن کی مرکزی اہمیت اور رمضان المبارک میں تفسیر قرآن کی سوا سو سالہ روایت
✔️ شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے 1982ء میں دورۂ تفسیر قرآن حکیم کا آغاز فرمایا
✔️ دورۂ تفسیر کا مقصد؛ قرآن فہمی کی اساس قائم کرنا اور ذاتی و اجتماعی زندگی میں قرآن حکیم کا اطلاق کرنا ہے
✔️ قرآن حکیم کا وعدہ: دنیا اور آخرت میں حیات طیبہ کا حصول
✔️ حضرت خالد بن سعیدؓ کا واقعہ‘ اتباع رسولؐ میں جہنم سے نجات کا حصول
✔️ نوجوان نسل کو برا بھلا کہنے کا رویہ درست نہیں ہے
✔️ ’’ذریةً‘‘میں نسبی اولاد کے ساتھ ساتھ قوم کے بچے اور تمام انسانیت شامل ہے
✔️ شیطان کا کام انسان کو مایوس کرنا اور ہمارا کام شیطان کو مایوس کرنا ہے
✔️ جماعت بنا کر پیغامِ قرآن کے پیغام کو پھیلانے کی اہمیت
✔️ سورہ بقرہ سے سورہ توبہ تک قرآن حکیم کے بنیادی مضامین کا تعارف
✔️ دورہ تفسیر کے بعد ہماری ذمہ داری؛ تعمیرِ سیرت اور دعوتِ قرآنی
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitu
تقریبِ رونمائی | شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری و آثارِ شیخ الہندؒ | مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
تقریبِ رونمائی دو کتب
1۔ شرح تراجمِ ابوابِ صحیح بخاری (اُردو)
(صحیح بخاری شریف کے ابواب کی تفہیم و تشریح)
تالیف: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ
2۔ آثارِ شیخ الہندؒ ؛ خطبات، مقالات و مکتوبات
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ (اُردو)
ترتیب، تحقیق و تخریج
حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
اظہارِ خیال : مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 7؍ محرم الحرام 1448ھ /23؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
فساد فی الارض، معاشی غارت گری اور نسل انسانی کی تباہی کے عالمی ”أَلَدُّ الْخِصَامِ“ کردار کا جائزہ | 03-07-2026
فساد فی الارض، معاشی غارت گری اور نسل انسانی کی تباہی کے عالمی ”أَلَدُّ الْخِصَامِ“ کردار کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 17؍محرم الحرام 1448ھ / 03؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِىۡ قَلۡبِہ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾ وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِى الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا وَيُهۡلِكَ الۡحَـرۡثَ وَالنَّسۡلَؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾
(2 –بقرہ: 204، 205)
ترجمہ : ” اور بعض آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر اور وہ سخت جھگڑالو ہے ۔ اور جب پھرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ اس میں خرابی ڈالے اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو “۔
حدیثِ نبویﷺ:
”إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ“. (سنن ترمذی، حدیث:2168)
ترجمہ : ” جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں (یعنی ظلم نہ روک دیں) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا عذاب لوگوں پر عام کر دے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ انسانی سماج کا تحلیل و تجزیہ اور قرآن کا بنیادی موضوع اور اُسلوبِ بیان
✔️ قرآنی اسلوب کے تحت خدمتِ انسانیت اور فساد انسانیت کے اجتماعی اعمال کا تجزیہ
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کے تناظر میں بظاہر عمدہ و اچھی باتوں کے پیچھے چھپے ہوئے انسانیت دشمن کردار کی پہچان ضروری ہے
✔️ ’’ألدّ الخِصام‘‘ کی وضاحت‘ نبوی دور کی مثال اور کردار کا جائزہ
✔️ زندہ معاشروں میں اختلافات اور متعلقہ سماجی فورمز پر اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دینے کا عمل لازمی اور جائز ہے
✔️ ’’الدّ الخِصام‘‘: انسانی سوسائٹی کی اقدار کو پامال کرنے والا اور انسانیت سے بغض رکھنے والا انتہا پسند ہے
✔️ فساد کے دو دائروں یعنی انسانی وسائل معاش اور نسلوں کو تباہی کرنے کی وضاحت
✔️ مریض کے لیے تکلیف دہ علاج اور کڑوی دوائی پلانے پر حضور اکرمﷺ کا ناگواری کا اظہار
✔️ ’’اخنس بن شریح‘‘ کا انسانیت دشمن اور فسادی کردار کے تناظر میں آفاقی قانون کی نشان دہی
✔️ دنیا کے ہر خطے کا اپنا اپنا قومی ”حرث“ ہوتا ہے
✔️ زرع و حرث میں بنیادی فرق اور اصل زارِع‘ اللہ تبارک و تعالیٰ
✔️ طائف کی زرعی معیشت اور مکہ کی تجارتی معیشت کا باہمی ربط
✔️ ہندوستان میں زراعت اور یورپی اقوام کی قدیم زمانے سے صنعت و حرفت میں مہارت
✔️ فساد؛ بدامنی، بدحالی، انسانی نسل اور معاشی وسائل کو تباہ و برباد کرنا
✔️ یورپین اقوام کا انسانی نسل اور معاشی وسائل کی تباہی کی ظالمانہ تاریخ کا خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں تجزیہ
✔️ سرمایہ داری نظام میں عمدہ اور خوشنما باتوں کے پیچھے نسل پرستی، انسانیت دشمنی اور لوٹ کھسوٹ پوشیدہ ہے
✔️ امریکہ میں بسنے والی مقامی آبادی ریڈ اینڈینز کی گوری نسل پرست اقوام کے ہاتھوں نسل کشی
✔️ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی شہنشاہیت کا ہندوستانی فصلوں اور نسلوں کی تباہی میں ظالمانہ کردار
✔️ موجودہ دور کے معاشی وسائل کے تناظر میں معدنیات، معدنی تیل اور سمندری وسائل بھی ”الحرث“ میں داخل
✔️ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر سامرا
یومِ عاشورہ، موسوی جدوجہدِ آزادی کی علامت: اسلامی ریاست کی تشکیل میں جماعتِ صحابہؓ، اہلِ بیتؑ اور مسلم خلفاء کا اجتماعی کردار | 26-06-2026
یومِ عاشورہ، موسوی جدوجہدِ آزادی کی علامت: اسلامی ریاست کی تشکیل میں جماعتِ صحابہؓ، اہلِ بیتؑ اور مسلم خلفاء کا اجتماعی کردار
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 10؍محرم الحرام 1448ھ / 26؍ جون 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ۔ (9 –توبہ: 100)
ترجمہ : ” اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلی ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو ان کے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے“۔
2۔ ہُوَ الَّذِیۡ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ۔ (61- صف:9)
ترجمہ : ”وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ دے کر اور سچا دین کہ اس کو اوپر کرے سب دینوں سے اور پڑے برا مانیں شرک کرنے والے“۔
حدیثِ نبویہﷺ:
”أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ، فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ“. (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث:6018)
ترجمہ : ” میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے “۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ یوم عاشورہ ؛ آزادی و حریت کی موسوی جدوجہد کی یادگار
✔️ آزاد قومی ریاست کے قیام کے لیے حضرت موسیٰؑ کی نمونے کی جدوجہد بہترین
✔️ عاشورہ کے دن کے تناظر میں اقوام کی آزادی کے دن کی اہمیت
✔️ نبی اکرمﷺ کا یومِ عاشورہ کاروزہ رکھنے کا پسِ منظر اور مقصد و ہدف
✔️ جماعت کی اساس پر حکومت کا قیام کے لیے حضرت موسیٰؑ اور حضورؐ کی نمایاں جدوجہد
✔️ حضرت موسیٰؑ کی حکومت اور یوسفؑ، داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت کا بنیادی فرق
✔️ اسوۂ رسول اللہ؛ ابراہیمی اصولِ انسانیت کی اساس پر جماعت سازی وحکومت و ریاست کا قیام
✔️ سیاست و ریاست‘ دین اسلام اور محمدی نبوت کا لازمی جزو
✔️ تین سو سالہ غلامی کے نتیجے میں اقوام کی آزادی کے دن عاشورۂ محترم کو انتشار اور اختلاف کا دن بنا دیا گیا
✔️ یوم عاشورہ؛ اسوۂ حسنہ اور جماعتِ رسولؐ کی سیرت و کردار کو سمجھنے کا دن
✔️ جماعتِ صحابہ اور اہلِ بیت میں تفریق و انتشار‘ تین سوسالہ سامراجی و فرعونی نظام کا شاخسانہ
✔️ نبی اکرمؐ کی صحبت وتربیت سے پوری جماعتِ صحابہؓ کے نفوس، قلوب اور عقول مہذب ہوئے
✔️ امام شاہ اللہ دہلویؒ کے نزدیک علوم نبوت کی بارش قبول کرنے والے انسانوں کے تین درجے
✔️ علومِ نبوت کی بارش کی اساس پر صحابہ کا غلبۂ دین کے لیے اپنی استعداد کے مطابق کردار
✔️ جماعتِ رسول اللہﷺ پر الزام تراشیاں‘ آپؐ کے مشن سے بغاوت
✔️ روحوں کے لشکر اور ان کے ملاپ و اختلاف کی نوعیت
✔️ جماعت کی اجتماعیت کو توڑنے کے لیے شخصیت پرستی کا عمل درست نہیں!
✔️ صحابہ و اہل بیت کے کسی ایک فرد سے طبعی محبت لائقِ تحسین لیکن افتراق و انتشار کی غرض سے قابل مذمت
✔️ نبی اکرمؐ کی ریاست و سیاست کے استحکام کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا بے لاگ کردار
✔️ شریعت (قرآن)کی جمع و ترتیب اور نشر و اشاعت کے لیے خلفائے راشدین کی کاوشیں
✔️ سلوک و احسان؛ تربیت و تزکیہ کے امور کے لیے خلفاء کا کردار
✔️ حدیثِ نبویؐ کے مطابق شام میں قائم ہونے والی حکومت رسول اللہ کی ہی بین الاقوامی حکومت ہے
✔️ خلفائے ب
معاشی خودمختاری، خود انحصاری اور قومی خودداری کی دینی بنیادوں پر ملکی نظام کا قیام: وقت کی ناگزیر ضرورت | 19-06-2026
معاشی خودمختاری، خود انحصاری اور قومی خودداری کی دینی بنیادوں پر ملکی نظام کا قیام: وقت کی ناگزیر ضرورت
خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
بتاریخ: 3، محرم الحرام 1448ھ /19، جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ (38) وَ الَّذِیْنَ اِذَااَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ(39) وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(40) وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ(41) اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(42) وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ (43)
سورۃ الشوریٰ42: (38-43)
ترجمہ: اور وہ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور ان کا کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ دیا بھی کرتے ہیں، اور وہ لوگ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ پس جس نے معاف کر دیا اور صلح کر لی تو اس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو کوئی ظلم اٹھانے کے بعد بدلہ لے تو ان پر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا، بے شک یہ بڑی ہمّت کا کام ہے۔
خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
03:46 دینِ اسلام بطور جامع نظامِ ہدایت
07:57 منشائے خداوندی اور انسانی معاشرے سے گروہیت کا خاتمہ
10:02 معاشی وسائل پر تسلّط کا ردّ اور ان کی مساوی دستیابی کا الٰہی نظام
13:33 ’انسانیت‘ کا حقیقی مفہوم: انسانی صلاحیتوں کی درست نشاندہی اور ان کا اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال میں لانا
16:09 قیامِ اجتماعیت کے لیےنبوی جامع نظامِ تربیت کا کردار اور بطورِ نمونہ عقدِ مواخات کی مثال
17:38 قیامِ اجتماعیت میں تعاونِ باہمی کی اہمیت اور توکّل علی اللہ کے ساتھ اس کا ربط
22:39 رسول اکرمﷺ کا اعلیٰ نظامِ تربیت اور اس کا عمدہ ترین نمونہ جماعتِ صحابہؓ
26:12 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: خداوند تعالیٰ کی مکمل اطاعت کا اعلان اور نظامِ صلٰوۃ کا قیام
27:24 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: انسانی معاشرے میں رزق کی تقسیم کا مساوی نظام
30:19 دینی احکام (عبادات و معاملات) کے ذریعے اجتماعی شعور کے پروان اور قیامِ اجتماعیت کے اہتمام کا فروغ
31:01 غیر طبقاتی بنیاد پر اجتماعِ انسانیت کے قیام کی دینی ضرورت و اہمیت
34:55 اسوہ نبویﷺ میں عقدِ مواخات کے ذریعے انسانی آبادی اور تقسیمِ وسائل میں توازن کااہتمام
37:33 قومی خودمختاری کا حصول اور قومی وسائل پر انحصاری کا لازم و ملزوم ربط
39:12 دینی اجتماع کے بنیادی تقاضے: مشاورت کے ذریعے رائے سازی کا نظام
41:46 اسلامی دنیا کے زوال کی بنیادی وجوہات: معاشی وسائل پر اغیار کا قبضہ اور آزاد رائے سازی کا فقدان
46:16 رسول اللہﷺ کے قائم کردہ معاشرے کے اہم ستون: معاشی خودمختاری اور آزاد رائے سازی کا اہتما
فتنہ شناسی ، قومی بیداری اور مزاحمتی جدوجہد کی قرآنی رہنمائی؛ دور حاضر کا اطلاقی جائزہ | 19-06-2026
فتنہ شناسی ، قومی بیداری اور مزاحمتی جدوجہد کی قرآنی رہنمائی؛ دور حاضر کا اطلاقی جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 3؍محرم الحرام 1448ھ / 19؍ جون 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیہ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ۔ (8 –انفال: 60)
ترجمہ : ” اور تیار کرو ان کی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کرسکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر “۔
2۔وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔(8 –انفال: 61)
ترجمہ : ”اور اگر وہ جھکیں صلح کی طرف تو تو بھی جھک اسی طرف اور بھروسہ کر اللہ پر بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ ہر دور کے فتنوں سے بچنے کا واحد راستہ
✔️ فتنے کی قرار واقعی حیثیت
✔️ پر فتن دور میں فکری و عملی فتنوں سے بچاؤ کی نبوی رہنمائی
✔️ دین اسلام کا لازوال فکر
✔️ قرآنی فکر؛ قدیم و جدید ہر مادی فلسفے کا توڑ
✔️ دور زوال میں ولی اللہی محقق علماء کی کاوشیں
✔️ یورپ آپ کی دھرتی اور نیشنل ازم کا دشمن
✔️ ایک جفرافیے میں بسنے والی اقوام
✔️ جلا وطنی اور قوم کو غلام بنانا‘ بہت بڑا جرم
✔️ ولی اللہی جماعت کا اعزاز‘ دور کے دشمن کی پہچان پیدا کرنا
✔️ خطبہ کی مرکزی آیت میں دشمن کے مقابلے کے لیے طاقت تیار کرنے کا حکم
✔️ دور زوال میں نوجوان طاقت کا سامراجی استعمال اور سامراج دشمن قوتوں سے مقابلے کی حکمت عملی
✔️ فتویٰ دار الحرب؛ دشمن طاقت سے مزاحمت کی حکمت عملی
✔️ ولی اللہی جماعت کا فکری اسلوب اور عملی جدوجہد کا طریقہ کار
✔️ اکابرین علمائے دیوبند اور تحریک جدوجہد آزادی
✔️ ایران کی قومی مزاحمت اور بین الاقوامی سفارت کاری نے امریکہ کو مذاکرات پر مجبور کیا
✔️ پاکستان کی سیاسی حکومت اور مقتدرہ ایران امریکہ معاہدہ میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد کی مستحق
✔️ پاکستان کو ایران کے ساتھ سیاسی و معاشی تعلقات بحال کرنے چاہیے
✔️ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی ، جغرافیائی اور ثقافتی تعلقات ہیں
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا